Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

🚨🚨پی ٹی آئئ مخالفین کے اکاؤنٹ کیسے اڑا رہی منظم گروپ کی رپورٹ(جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دو ہر گروپ میں ڈال دو) پی ٹی آئئ کی سارہ میر جو برطانیہ میں ہوتی کی سربراہی میں ایک گروپ بنایا ہے اس گروپ میں 75 اکاونٹ ہیں یہ گروپ...

28,073 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von من مستم
من مستمvor 1 Jahr

سنگی سے پکڑ لیا،

Profilbild von RAShahzaddk
RAShahzaddkvor 1 Jahr

آپ سب پوچھتے تھے ریچ کو کیا ہوا تو مجھے کرنا پڑا

Profilbild von Nawab Khan
Nawab Khanvor 1 Jahr

وقارستی صاحب بھی یوتھیوں نے نشانے پر لیا ھے 😍

Profilbild von RAShahzaddk
RAShahzaddkvor 1 Jahr

جی

Profilbild von Noorzaman
Noorzamanvor 1 Jahr

بہت ظالم لوگ ھے ..کسی کو کھی نھی چھوڑ تے ہیں

Profilbild von BilalQ
BilalQvor 1 Jahr

@SaraMirGilgity تیرا پیو ہے ساڈا شیر ۔۔۔ راجہ جی تن کے رکھو۔

Profilbild von scorpion_91
scorpion_91vor 1 Jahr

عجیب ہے اس عورت کا کوئی کام نہیں ؟؟ بس سارا دن ٹویٹر ٹویٹر کھیلنا فضول بکواس کرنا احتجاج میں جانا بے غیرت ماں باپ جنہوں نے گندہ انڈا پیدا کر کے چھوڑ دیا

Profilbild von scorpion_91
scorpion_91vor 1 Jahr

@MuhammaddNawaz یہ بے غیرت یوتھیا باپ جو اپنے مرے ہوئے بچے کے نام کو ابھی تک استعمال کر کے پیسا بنا رہا ہے

Profilbild von Khizar Hayat Abbasi
Khizar Hayat Abbasivor 1 Jahr

یہ انڈین پیڈ ایجنٹ ہیں، ان سے کسی بھلائی کی توقع نہیں

Ähnliche Videos

فوج وہ ادارہ ہے جس کی ٹریننگ ہی تشدد ہے، جن کی سوچنے کی تربیت ہی صرف اتنی ہے کہ گولی کے جواب میں گولی چلانی ہے، لیکن جب آپ ان کی قیادت کو سویلین ڈومین میں لے کر آتے ہیں جہاں سیاست، مکالمہ اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہوتی ہے تو آپ پورے سویلین نظام کو ملیٹرائز کر دیتے ہیں، اب جب ان کو کسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کو وہ بات گولی کی طرح لگتی ہے، جب معید پیر زادہ پوڈ کاسٹ کرتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ گولیاں چل گئی ہیں جیسے ڈاکٹر معید پیر زادہ کے پاس مشین گن ہو۔ ان میں تنقید سُننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، اسی لیے جو انکی مرضی کی بات نہیں کرتا وہ دشمن ہے، وہ سویلین لینڈ اسکیپ میں بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ دوست ہے یہ دشمن ہے اور یہ غدار ہے، پھر جب کوئی کچھ بھی تنقید کرتا ہے تو ان کو لگتا ہے بمبار منٹ ہو گئی ہے معید پیر زادہ ایف 16 اڑا رہا ہے اور اس وجہ سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے، جنگوں میں یہ سب چلتا ہے لیکن جب آپ اس کو گورننس اور سویلین ڈومین میں لگاتے ہیں تو ملک کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر حسین ندیم Via Rodium-A Hussain Nadim Moeed Pirzada

Qasim Khan Suri

82,243 Aufrufe • vor 1 Jahr

بریکنگ نیوز 🚨ڈاکٹر شہباز گل کی قوم سے بڑی اپیل، طاقتور لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہے دیا۔ قوم کو مکمل ترکیب بھی بتادی 🔥🔥 اب ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان سب کا boycott کریں۔ یہ میں آپ کو کال دے رہا ہوں۔ پاکستانی عوام کے پاس آج سے حل یہ ہے کہ جب آپ کی بہنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ عمران خان قوم کے لیے قیمت دے رہا ہے۔ بڑا آسان ہے اس کے لیے بھی نواز شریف بننا۔ وہ آپ سب کے لیے جیل کے اندر ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے اور آج اس کے دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے۔ تو پھر میں آپ سے یہ اپیل کرتا ہوں یہاں سے پرزور کہ آج سے، آج اکیس ستمبر سے آپ ہر قسم کی فوجی products کا boycott کریں۔ چاہے آپ CSD سے چیزیں خریدتے ہیں یا آپ ان کے چاول خریدتے ہیں یا آٹا خریدتے ہیں یا ان کا سیریل خریدتے ہیں یا آپ ان کی insurance یا آپ عسکری بینک یا آپ کوئی بھی ان کی یونیورسٹیاں، ان کے کالج، ان کے سکول، جو بھی ان کی products آپ استعمال کرتے ہیں۔ یا آپ انہیں اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں یا آپ انہیں اپنی غمی پہ بلاتے ہیں یا خوشی پہ بلاتے ہیں یا یہ آپ کو بلاتے ہیں اور آپ جاتے ہیں، آپ ان کے شادی ہالوں کے اندر شادیاں کرتے ہیں، جو بھی آپ کا ان کے ساتھ کاروبارِ زندگی ہے اس کو آج سے معطل کریں، اس کا boycott کریں۔ ان کا social boycott کریں۔ عسکری بینک ہے تو وہاں سے اپنے پیسے نکلوائیں۔ ان کی کوئی insurance ہے تو وہاں سے insurance cancel کروا کے دوسری جگہ insurance کروائیں۔ ان کے عسکری بینک کے، ان کے جتنے بھی products یہ آپ کو بیچتے ہیں جو اصل میں ان کی life line ہے جس کے اوپر سے یہ پیسہ اکٹھا کر کے آپ پر یہ سارا ظلم کرتے ہیں، اس کو بند کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے بچے شاید باہر نکل کے نہیں مروا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ خود لاٹھی گولی نہیں کھا سکتے، آپ میں سے بہت سارے لوگ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی طرح، سری لنکا کی طرح، نیپال کی طرح ہمارے لوگ ابھی وہاں نہیں پہنچے کہ باہر نکلیں۔ تو پھر آپ سے میں صرف جو گزارش کر رہا ہوں وہ اتنی کر رہا ہوں کہ آپ یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ میں جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے social میڈیا کے volunteers ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ میری اس کال کے clip کاٹیں اور اس کو پھیلائیں کیونکہ جب یہ ہمارے گھروں کو نہیں چھوڑیں گے، گھر کی عورتوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی جگہ پر یہ نہیں رک رہے تو پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم ان کا social boycott اب کریں۔ تو ان کی شادیوں میں جانا بند کریں، ان کی ہر ایسی جگہ پر جہاں سے انہیں تکلیف ہو سکتی ہے وہاں ان کا social boycott کریں، نہ انہیں اپنے گھروں پر بلائیں نہ ان کی طرف جائیں، ان کی سالگرہ، منگنی، شادی، جو بھی ان کی خوشی غمی ہے اس کا مکمل طور پر boycott کریں۔ جہاں پر ستائیس ستمبر کی بھرپور ہم نے تیاری کرنی ہے ساتھ ساتھ اس boycott کو بھرپور طریقے سے implement کریں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,212 Aufrufe • vor 12 Tagen

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 Aufrufe • vor 3 Monaten

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,926 Aufrufe • vor 24 Tagen