Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پیر لڑکی کے جن نکال رہا ہے اور ماں کو کہتا ہے کہ اسکا دوسرا ہاتھ پکڑو کبھی پیر لڑکی کے پاوں پکڑتا ہے اور کبھی اس کی گردن یہ کیا بیکچو د ی چل رہی ہے پھر کوئی زیادتی ہو جائے تو پھر انکا رونا دھونا بند نہیں...

118,819 просмотров • 23 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,527 просмотров • 1 месяц назад

لاکھوں لوگوں نے یہ ویڈیو دیکھی، مگر پس منظر اب بھی بہت سوں کی نگاہ سے اوجھل ہے۔ 3 اگست 2009 کو میکسیکو کے شہر مونتری میں فیسٹا اِن ہوٹل کے باہر ایک نوجوان لڑکی، گبریلا ریکو خیمنیز، بے چین اور مضطرب حالت میں چیختی چلاتی دکھائی دیتی ہے۔ کیمرہ چل رہا ہوتا ہے اور وہ بلند آواز میں الزام عائد کرتی ہے کہ بااثر اور طاقتور حلقے بچوں کے ساتھ ہولناک جرائم میں ملوث ہیں۔ کچھ ہی دیر گزرتی ہے کہ پولیس موقع پر پہنچتی ہے، اسے حراست میں لے لیتی ہے، اور پھر وہ لڑکی منظرنامے سے یوں غائب ہو جاتی ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھی۔بعد ازاں سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ایک اور کہانی گردش کرنے لگتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گبریلا ایک نجی، اشرافیہ کی محفل میں موجود تھی جہاں انتہائی بااثر شخصیات شریک تھیں، اور جو کچھ اس نے دیکھا، وہی زبان پر لے آئی۔ یہی سچ بولنا اس کی خاموشی کی قیمت بن گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس واقعے کو ایپسٹین فائلز اور عالمی اشرافیہ کے مبینہ نیٹ ورک سے جوڑا جانے لگا۔ اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی حالیہ فائلوں کے ایک نئے بیچ میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو گبریلا کے الزامات کی تائید کرتے ہیں، اور بعض نام نہاد عالمی رہنماؤں، حتیٰ کہ سابق امریکی صدر بش تک پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں، بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ الزامات کتنے سنسنی خیز ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان پر سنجیدہ، شفاف اور قانونی پیش رفت کیوں نظر نہیں آتی۔ مغرب، جو خود کو انسانی حقوق اور انصاف کا علمبردار کہتا ہے، ایسے معاملات میں بار بار ایک دوغلے چہرے کے ساتھ سامنے آتا ہے۔اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو کچھ سامنے لایا جا رہا ہے، وہ خود بھی مکمل تصویر نہیں۔ یہ مواد کسی باقاعدہ قانونی کارروائی کے لیے نہیں، بلکہ زیادہ تر دباؤ ڈالنے اور بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طور پر ریلیز کیا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اگر مقصد واقعی انصاف ہوتا تو کہانیاں نہیں، مقدمات بنتے؛ ویڈیوز نہیں، فیصلے سنائے جاتے۔

بانکے میاں

30,408 просмотров • 7 месяцев назад

فوج وہ ادارہ ہے جس کی ٹریننگ ہی تشدد ہے، جن کی سوچنے کی تربیت ہی صرف اتنی ہے کہ گولی کے جواب میں گولی چلانی ہے، لیکن جب آپ ان کی قیادت کو سویلین ڈومین میں لے کر آتے ہیں جہاں سیاست، مکالمہ اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہوتی ہے تو آپ پورے سویلین نظام کو ملیٹرائز کر دیتے ہیں، اب جب ان کو کسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کو وہ بات گولی کی طرح لگتی ہے، جب معید پیر زادہ پوڈ کاسٹ کرتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ گولیاں چل گئی ہیں جیسے ڈاکٹر معید پیر زادہ کے پاس مشین گن ہو۔ ان میں تنقید سُننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، اسی لیے جو انکی مرضی کی بات نہیں کرتا وہ دشمن ہے، وہ سویلین لینڈ اسکیپ میں بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ دوست ہے یہ دشمن ہے اور یہ غدار ہے، پھر جب کوئی کچھ بھی تنقید کرتا ہے تو ان کو لگتا ہے بمبار منٹ ہو گئی ہے معید پیر زادہ ایف 16 اڑا رہا ہے اور اس وجہ سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے، جنگوں میں یہ سب چلتا ہے لیکن جب آپ اس کو گورننس اور سویلین ڈومین میں لگاتے ہیں تو ملک کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر حسین ندیم Via Rodium-A Hussain Nadim Moeed Pirzada

Qasim Khan Suri

82,243 просмотров • 1 год назад

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 просмотров • 7 месяцев назад