Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

چار روز پہلے CORPS-COMMS فورم نے اس بات پر اتفاق کیا: 📌 “قومی وحدت، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی بدنیتی چاہے وہ سیاسی ہو یا کسی اور نوعیت کی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا” ان مناظر نے مجھ جیسے پنجاب کے بہت سے...

10,849 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 Aufrufe • vor 5 Monaten

میڈیا کی شخصیات اور قومی تشخص: دوغلے معیار کیوں؟ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہماری میڈیا انڈسٹری کے لیے "ریٹنگ" اور "دوستیاں" قومی عزتِ نفس سے بڑھ کر ہیں؟ 1۔ نسل پرستی مذاق نہیں جب صحیفہ جبار خٹک جیسے لوگ پنجاب کے عوام کے خلاف نسل پرستانہ (Racist) تبصرے کرتے ہیں، تو اسے محض "مذاق" یا "معمولی بات" کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی مخصوص گروہ یا صوبے کی تضحیک کرنا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ 2۔ فیصل قریشی اور انڈسٹری کا رویہ فیصل قریشی جیسے سینئر اداکاروں کا ایسے بیانات کا دفاع کرنا یا انہیں ہلکا لینا انتہائی افسوسناک ہے۔ میڈیا کے بڑوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نفرت انگیز بیانات کی حوصلہ شکنی کریں، نہ کہ انہیں "کوئی بات نہیں" کہہ کر جائز قرار دیں۔ 3۔ عوام کا تشخص اور عزت پنجاب کے عوام نے ہمیشہ ہر کسی کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی کو پوری قوم کی تضحیک کرنے کی اجازت دی جائے۔ عزت اور احترام یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ سوال: کیا ہم صرف سکرین پر نظر آنے والے چہروں کی وجہ سے ان کی بدتمیزی اور نسل پرستی کو قبول کرتے رہیں گے؟ اب وقت ہے کہ میڈیا انڈسٹری اور ان کے "سٹارز" کو ان کے الفاظ کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ #نسل_پرستی_بند_کرو #میڈیا_کی_ذمہ_داری #پنجابی_قوم #احترام_سب_کے_لیے

Naina💫

17,037 Aufrufe • vor 5 Monaten

آج کشمیر، میرپور اور کوٹلی سے وفد آیا۔ وفد نے مجھے کشمیر کی صورتِ حال پر بریف کیا۔ بہت افسوس ہے کہ کشمیر میں جانی نقصان ہوا ہے اور وہاں بحران ہے۔ میری وفد سے جتنی بات ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ کشمیری پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے، وہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسائل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔ جو معاہدہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہوا تھا، اس پر عمل کیا جائے۔ موجودہ صورتِ حال سے متعلق معاملات مفاہمت، مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔ کشمیری ہم سے بھی زیادہ اچھے پاکستانی ہیں اور وہ ہم سے زیادہ پاکستان کے لیے درد رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسمبلی میں، میں نے اور اپوزیشن لیڈر نے کشمیر کی صورتِ حال پر بات کی۔ ہم کشمیر کا دورہ بھی کریں گے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔

Asad Qaiser

30,936 Aufrufe • vor 1 Monat

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 Aufrufe • vor 11 Monaten