Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

چلو جی رجوع ہو گیا 😂 مجھے لگا تھا واقع ہی سوفٹ وٸیر اپڈیٹڈ ورژن ہو گا 😂 جس دن ہماری سنی عوام نے اپنی کتب تاریخ اور کتب صحاح ستہ کا مطالعہ شروع کر دیا اس دن ماموں تو کیا باقی سب رانگ نمبر بھی وڑ جاٸیں گے...

18,557 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

اس شخص کاواحد قصور تھا یہ اپنی ویڈیو میں مریم نواز کو ٹک ٹاکر کہ کر بولتا تھا ۔۔۔ اور اسے نہ صرف کئی ماہ جیل میں رکھا گیا بلکہ بدترین تششدد کیا گیا ۔۔ ڈکی بھای کو دو چار تھپٹر کیا پڑ گے ۔۔ پوری قوم ماتم کرنے لگی ۔۔ صحافی بولنے لگے لبرل بولنے لگے ۔۔ مگر اس شخص کیلے کسی نے آواز نہی اٹھای کیونکہ یہ غریب صحافی تھا ۔۔ سلام ہے اس کی جرات کو ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر حق سے پیچھے نہی ہٹا ۔۔ اور ان بد مست ہاتھیوں سے سوال ہے جو ہم پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔۔ اپ نے غریب کو مار دیا ہے ۔۔ اپ نے متوسط طبقہ ختم کر دیا اپ نے ملک تباہ کر دیا اس سے بھی دل نہی بھرا اپ نے گلف کنٹری سے خود پاکستانی عوام کے ویزے کرواے ۔۔ بات یہاں بھی نہی رکی ۔۔ اپ نے اب ہر تیس کلومیٹر کے فیصلہ پر ٹول پلازے لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے کوی اک انڈسٹری بتا دیں جو اس ملک میں زندہ ہو ۔۔ صحت کارڈ ختم کر دیے ۔۔ بجلی مہنگی کر دی پٹرول آسمان پر لے گے ۔۔ اس کے باوجود اپ ٹک ٹاک پر ڈرامے کریں کہ سب اچھا ہے تو عوام آپ کو کیا بولے ۔۔ پتہ نہی اور کیا کیا دیکھنا ہے اس ملک میں ۔۔

Saleem Speaks

72,340 просмотров • 7 месяцев назад

پارلیمان کے باہر کھڑے ہو کر یہ بات کرنا برا لگتا ہے، میں کل اس پر بولوں گا۔ کل بولوں گا۔ بات یہ ہے کہ... دکھ ہوتا ہے۔ اس پارلیمنٹ ہاؤس میں، پارلیمنٹ کی وردیاں پہن کر لوگ، پارلیمنٹ کے ممبران کو چوہوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے۔ نہ کسی کو معطل کیا گیا، نہ کسی کو نکالا گیا اور نہ کسی پر یہ الزام لگا کہ تم کون ہو؟ تم کون ہوتے ہو پارلیمنٹ میں آ کر لوگوں کو اٹھانے والے؟ جو سارجنٹ ایٹ آرمز تھا، اسے تو ڈی جی کوسٹ گارڈ لگا دیا گیا۔ کیپٹن اشفاق کو اپ گریڈ کر کے آپ کے صوبے میں ڈی جی کوسٹ گارڈ لگا دیا گیا، جس نے آ کر اس کارِ خیر میں حصہ ڈالا تھا۔ یہ کیسے چلے گا؟ یہ کیسے ہوگا؟ آپ پوچھیں، کل ہم اس پر بھی بولیں گے۔ میں نے تو بار بار کہا ہے، پتا نہیں مجھے کیا بیماری لگ گئی ہے کہ میں بار بار یہ شور مچا رہا ہوں (رولا ڈال رہا ہوں) کہ مینڈیٹ کی چوری ہوئی ہے، یہ غلط حکومت ہے۔ لیکن بار بار یہ باتیں کرنا برا لگتا ہے۔ لوگوں کو بار بار یہ کہنا برا لگتا ہے۔ جس طرح یہ حکومت آئی ہے، آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ سب کام ان اداروں نے کیا ہے جو خود کو پاکستان کا سب سے وفادار اور طاقتور (پاورفل) ادارہ سمجھتے ہیں۔ ​کیوں؟ کیا کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ اسمبلیوں میں منڈیاں لگائی جاتی ہوں؟ سینیٹ کی قیمت یہ ہے، قومی اسمبلی کی قیمت یہ ہے، صوبائی اسمبلی کی قیمت یہ ہے... کون بولیاں دے گا؟ آپ جیسا غریب آدمی؟ یا یہ شرارتی آدمی بولیاں دے سکے گا؟ ڈرگ ٹریفکرز (منشیات فروش) بولیاں دیں گے، سمگلر بولیاں دیں گے۔ پھر اس ملک کا کیا حال ہوگا؟ اور پھر صادق سنجرانی جیسا آدمی آئے گا، اس قسم کا ایوان (ہاؤس) بنے گا جس میں عوام نہ ہوں، غریب نہ ہوں، صحیح نمائندے نہ ہوں۔ ​عمران کے ساتھ میرا کیا واسطہ ہے؟ عمران جب اس پارلیمنٹ کا گھیراؤ کر رہا تھا تو میں اس کا مخالف تھا، میں اس کا سب سے بدترین مخالف تھا۔ لیکن یہ پارلیمنٹ ہمیں عزیز ہے۔ اس کے خلاف جو بھی آگے بڑھے گا، کوئی اور کھڑا ہو یا نہ ہو، محمود کھڑا ہوگا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

13,758 просмотров • 2 месяцев назад

کہتے ہیں جب ڈائن کی بھوک ختم نہ ہو تو وہ اپنی بھوک مٹانے کیلے اپنے ہی بچے کھانے لگتی ہے ۔۔۔ کل تک یہ شخص ان ظالموں کا ہم نوالہ ہم پیالہ تھا کیوں ؟ کیوں کہ اس وقت غریب عوام پر ظلم ہو رہا تھا ۔۔ اج یہ شخص منہ سے جھاگ نکال نکال کر کہ رہا ہے کہ اک عمران خان کو منیج کرنے کیلے ریاست کا کباڑہ نکال دیا ۔۔۔ موصوف کہتے ہیں میں افسردہ ہو ۔۔ ریاست نے خود کو تماشہ بنا لیا ہے ۔۔معیشیت تباہ کر دی ۔۔ سوال یہ نہی ہے کہ اسے نے حق کی بات کیوں کی سوال یہ ہے کہ اس نے اج ہی کیوں خاموشی توڑی ۔۔ جواب سادہ ہے ۔۔ غریب عوام کو تو مار دیا وہ مر چکی ہے اس کے بعد انکی باری ای ہے تو اج عمران خان یاد ا گیا ۔۔ ذرا صبر کرو تمھارے میڈیا مالکان کا نمبر لگے گا پھر وزیروں مشیروں کے نمبر لگے گیں پھر ان سیاست دانوں کے نمبر لگیں گے جنہوں نے چند دن کے اقتدار کو طول دینے کیلے اس ملک کے ائین کا جنازہ پڑھا دیا ۔۔ ظلم کی چکی میں دیر سویر سب کا نمبر آتا ہے۔ آج اپکو سمجھ آئی… کل اور کسی کو آئے گی۔

Saleem Speaks

33,734 просмотров • 9 месяцев назад

فیض حمید زندگی کا سب سے بڑا جوا بھی ہار گئے۔ علی وارثی، نیا دور ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ دو لوگ؟ ان دونوں کو تو وہ کبھوں کا شکست دے چکا تھا۔ نواز شریف؟ اسے تو 2017 میں 'کھڈے لائن' لگا دیا تھا۔ 10 سال کے لئے نااہل، لندن میں جلا وطنی کاٹتا نواز شریف اس کے خیال میں اب کبھی 'طاقت' کے ایوانوں کے قریب نہیں پھٹک سکتا تھا۔ نواز شریف ہی کیا، سب سے بڑے صوبے میں بیٹھا اس کے ادارے کا سب سے بڑا افسر لوگوں کو بلا بلا کر کہتا تھا، اب ان لوگوں کو بھول جائیں۔ یہ سب ماضی کے قصے ہیں۔ شہباز شریف صاحب اچھے آدمی ہیں لیکن اب سسٹم میں ان کی جگہ نہیں۔ “Sharifs are out for good”۔ اور عاصم منیر؟ وہ تو لائن میں ہی نہیں تھا۔ اس کا تو نام ہی ان جرنیلوں کی فہرست سے خارج ہو چکا تھا۔ یہ کیسے واپس اس لسٹ پر آ گیا؟ اس کو تو کور کمانڈر ہی ایسے موقع پر لگایا گیا تھا کہ یہ کمانڈ میں تبدیلی کا موقع آنے تک ریٹائر ہو چکا ہو۔ یعنی وہ دو لوگ جن کے لئے پوری گھات لگائی تھی، وہ اس کام کو خراب کر رہے تھے جس کام کے لئے عمران کو لایا گیا تھا اور پھر سب جماعتوں کے ترلے منتیں کر کے باجوہ کو پہلی توسیع بھی دلوائی تھی۔ سب کیے کرائے پر پانی پھر چکا تھا۔ دس سالہ منصوبہ ہوا میں تحلیل ہو چکا تھا۔ باجوہ کے 3 سال، پھر توسیع۔ پھر میرے 3 سال، پھر توسیع۔ سب اچھا کی رپورٹ۔ سپریم کورٹ میں بھی گیم سیٹ تھی۔ ثاقب نثار، پھر کھوسہ، پھر گلزار، پھر بندیال، پھر۔۔۔۔ پھر قاضی فائز عیسیٰ ہے لیکن اس کو نکلوا دیں گے۔ ریفرنس بن جائے گا، اس کی چھٹی ہو جائے گی۔ ہمیں کون روک سکتا ہے؟ اعجاز الاحسن کو دو سال مل جائیں گے۔ آگے منصور کے دو سال ہیں، وہ بھی کیا ہی کر لے گا؟ زیادہ چوں چوں کی تو ریفرنس تو اس کے خلاف بھی آ سکتا ہے۔ سب اچھا کی رپورٹ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس 'manage' تھا۔ مستقبل کا چیف جسٹس 'دو سال کی محنت' کو ضائع کر سکتا تھا سو رستے سے ہٹایا جا چکا تھا۔ نئے چیف جسٹس کی وہ لطیفے والے سردار جی کے بقول 'شو شا تے بڑی سی' لیکن۔۔۔ ادھر بھی 'سب اچھا' کی ہی رپورٹ تھی۔ تو اب یہ کیا ہو رہا تھا؟ سب تبدیل کیسے ہوا؟ شہباز شریف اقتدار میں آ گیا، قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پٹ گیا اور اب اس کو چیف جسٹس بننے سے روکنا ناممکن؟ عمران خان پر کی گئی ساری سرمایہ کاری ناکام، اقتدار سے باہر؟ نواز شریف لندن بیٹھ کر قسمتوں کے فیصلے لکھ رہا ہے؟ اس نے ٹل کا زور لگا لیا لیکن نواز شریف نے اس کی ایک نہ سنی۔ باجوہ نے کہا فیض کو نہیں لگانا تو ان دونوں میں سے کسی کو لگا دو لیکن عاصم منیر کو لگایا تو مارشل لاء لگا دوں گا۔ لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہو چکا تھا۔ عمران خان کا دھرنا ناکام ہو چکا تھا، ہمیشہ کی طرح۔ باجوہ کا مہرہ فیض پٹ چکا تھا۔ عاصم منیر آرمی چیف بن چکا تھا۔ اور اس کو بنانے والا نواز شریف تھا۔ Sharifs afterall were ‘not out for good’۔ فیض حمید سے شاید یہ سب برداشت نہیں ہوا۔ اسے فوجی دوست پیار سے The Cunning Fox کہا کرتے تھے۔ نجی محافل میں اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے رشک سے Evil Genius کہا کرتے تھے۔ اور اب یہ outfox ہو چکا تھا۔ یہ جونیئر تھا لیکن مدت ملازمت ختم ہونے سے 6 ماہ پہلے ہی اس سے، بقول ایک سینیئر رپورٹر کے استعفا بھی لیا جا چکا تھا۔ اس کی انا کو شدید ٹھیس لگی تھی۔ خود آرمی چیف نہ بننے کا دکھ اپنی جگہ، اصل تکلیف تو رقیب کے جیت جانے کی تھی۔ یہ ناقابلِ قبول تھا۔ یہی موقع تھا جب اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ 'دو سال کی محنت' تو ضائع ہو چکی تھی۔ لیکن جو ایک دہائی سے زیادہ سیاسی جماعتوں، بیوروکریسی اور اوپر سے لے کر نیچے تک نظامِ عدل میں جگہ جگہ 'محنت' کر رکھی تھی، اسے تو بروئے کار لایا جا سکتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر ادارے کے اندر والی محنت کو اگر اب رنگ نہیں لانا تھا تو کب لانا تھا؟ اس نے 6 ماہ میں جی توڑ کوشش کر ڈالی۔ اسے بھی علم تھا اور پورے ملک کو بھی کہ کسی نہ کسی موقع پر عمران خان کو گرفتار کیا جانا تھا۔ اس نے اسی موقع کے لئے فیلڈنگ لگا رکھی تھی۔ جنرل باجوہ اپنی مرضی کے کور کمانڈر لگا کر عاصم منیر کے لئے پہلے ہی کانٹوں کا جال بچھا کر گئے تھے۔ نظامِ عدل میں اوپر سے نیچے تک جگہ جگہ ہوئی محنت بھی "Good to see you" کہنے کو بے قرار بیٹھی تھی۔ 9 مئی کو گرفتاری ہوتے ہی پورا سسٹم حرکت میں آ گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ عمران خان کے گرفتار ہوتے ہی ایک عوامی ردِعمل آئے گا۔ ادارے کے اندر ہوئی محنت رنگ لائے گی۔ کچھ لوگ آرمی چیف کو بتائیں گے کہ سر Dhaka has fallen۔ اب آپ بھی یحییٰ خان بن چکے ہیں۔ مہربانی فرما کر استعفا دیں اور گھر جائیں۔ مگر تمام سازشیں ناکام تمام منصوبے ناکام

𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐇𝐚𝐛𝐢𝐛

77,725 просмотров • 2 лет назад