正在加载视频...
视频加载失败
چند بلوچ بچوں اور بچیوں کااتنا خوف۔۔۔۔ یہ لوگ اور کچھ نہیں صرف زندگی کا حق اور آزادانہ عدالتی کارروائی کا دستوری حق مانگتے ہیں۔ کیا یہ جرم ہے؟؟؟ جبری گمشدگی بند کرو۔ جبری گمشدگان کو بازیاب کرو۔
31 条评论

جتنے مظلوم پنجابی بلوچستان میں دھشتگردوں کے ھاتھوں شہید ھوۓ آپ کتنے پنجابیوں کے گھر تعزیت کے لیے گۓ اس عمر میں دوغلا پالیسیاں اپنانا بند کریں کوئ خوف خدا کریں

یہ جو منہ پر رومال پہن کر پنجابیوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مارتے ہیں یہی گمشدہ ہیں کتی کے بچے پورا سچ بولا کر

فسادی بڈھا

تم کس دستوری حق کی بات کرتے ھو۔ یہ دستور کو مانتے ھی نہیں۔ یہ شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو قتل کرتے ھیں اور تم جیسے افغانڈو اس کی مذمت تک نہیں کرتے۔ مجھے تو فوج کی سمجھ نہیں آتی کیوں غداروں کو اتنی ڈھیل دے رکھی ھے

پاگل بڈھے جب پنجابیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر شہید کیا جاتا ہے کیا اس وقت ذبان گنگ ہو جاتی ہے یا کہ نظر نہیں آتا ۔ کس کے ایجنڈے پر ہو ۔اپنی عمر دیکھو اور کرتوت دیکھو ۔ کچھ شرم کرو

انڈین پراکسیز اسلام آباد پہنچ گٸی ھے اور یہاں پر موجود اپنے چمچوں کو حرکت میں لے آٸے ہیں یہ سب ڈرامہ باز ہیں

شیطان بڈھے کیا پنجابی تیری کڑی کو چودتے ہیں جو اُن کو قتل کرتے ہو

سنٹر صاحب جب آپ جیسے سینٹرز کو دیکھتے ہیں گو یقین کریں سوچ آتی ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت کتنی سیاسی نابلد ہے جو آپ جیسے بندے کو سینٹر کا عہدہ دے دیا ۔ جبری گمشدگی آپ کو بھی پتہ ہے کہ سب گمشدہ bla والے ہیں مگر اس عمر میں بھی جھوٹ پر ڈٹے ہوئے ہیں آپ۔

یہ سارے لاپتہ پہاڑوں پر دہشتگردی کے لیے جمع ھیں وہاں جا کر ڈھونڈیں انہیں

Tumhari Baji ko uthaya hai Kabhi

Ghanta Jabri gumshudgi. Khud gum hota hain baad ma Buses par hamla kar raha hota ya encounter ma mara jata.

مشتاق صاحب کبھی اپ نے بلوچوں کے ہاتھوں پنجابی لوگوں کے قتل کے خلاف بھی کوئی آواز اٹھائی ہے یا اپ کی ساری ہمدردی صرف دہشتگرد کر ساتھ ہیں

@Bhola_Q ۔%99 مسلمانوں کے ملک میں اسلام ہر وقت خطرے میں رہتا ہے دوسرا مضبوط ہاتھوں کے ہوتے ہوے ریاست خطرے میں رہتی ہے عام انسانوں کے وسائل اور حقوق غزب کرنے کے بہانے یے

Salute to your bravery and solidarity with the oppressed!

کاش آپ کھبی بلوچستان سے آنے والی مزدوروں کی لاشیں آنے پر بھی احتجاج کرتے۔۔۔کاش

ہر جگہ بابا مشتاق کسی فساد کی آگ میں تیل ڈالتا نظر آتا ہے۔۔ اگر ریاست واقعی ظالم ہوتی تو میاں مشتاق ہوا میں تحلیل ہو چکے ہوتے۔۔ مشرف اور ضیاء کے دور میں ٹھوکتے پہلے تھے بیان بعد میں دیتے تھے۔

میں نے جب چٹ جی بی ٹی سے پوچھا کیا جو بلوچ مسنگ پرسنز ہیں وہ بی ایل اے کے ہیں اور اس نے کہا جو بغیر عدالتی کارروائی کے بغیر غائب کرنا غیر قانونی اور غیر انسانی ہیں اب پنجابی قوم سمیت تمام باشعور قوم یہ مطالبہ کرے ان کو عدالت میں لایا جائے تاکہ مسئلہ حل ہو جائے

Tu bht bra fasadhi bhudha bhosriwala ha

مشتاق احمد صاحب زما خبره په غور سره واوره د بلوڅانو او پښتنو غږ اسمان ته ورسېد له اسمان وروسته، دا غږ د ټولی نړۍ هر ګوټ ته ورسېدلو دا د پنجابي ریاست سقوط او زوال دی یو شی پاتې دی: یووالي، غږ پورته کول.

اگر بلوچوں کو اسلام آباد میں احتجاج کا حق نہیں تو پنجابی کس حق سے بلوچستان جاتے ہیں

جب قانون کی بالادستی ھوگی تو ریاست کے نام پر بدمعاش ختم ھوگی اس لیے قانون کو معطل رکھا گیا ھے۔

ا گیا ایک بار پھر دلا

مشتاق صاحب اپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ سارا کچھ ان کے مطابق ہونا چاہیے لیکن ان کے جو گمشدگان ہیں جو بی ایل اے کے ساتھ شامل ہیں جو وہاں پنجابیوں کو دیکھ کر شہید کر رہے ہیں اس کے بعد پنجاب میں ان کے لیے نرم گوشہ اہستہ اہستہ ختم ہو رہا ہے

پورا سچ بولا کریں یہ جو شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابیوں کو مار رہے ہیں کیا یہ وہ بلوچ نہیں ہے جو گمشدہ ہیں کبھی مظلوم پنجابی شہیدوں کے لیے بھی روڈ پہ نکلے ہو

یہ دہشت گرد ٹولہ جب پنجابیوں کو قتل کرتا ہے تو کیا ان پنجابیوں کو جینے حق کا حق نہیں ہوتا اور تیرے جیسے اس وقت کیوں گونگے ہو جاتے ہیں

🥹

What about the Punjabies they are killing the innocent have you asked them?

Begrt insan in bolochon Kay missing persons nay Punjabiyon ka qatal aaam kia howa hai

لو جی حلوائی کی دکان پر دادا جان کی فاتحہ خوانی کے لیے مشتاق صاحب تشریف لے آئے ہیں۔

ریاست ہر شہری کی عزت، آزادی اور انصاف کی ضامن ہے۔ بلوچ بچوں کی آواز سنی جا رہی ہے، یے ھمارے سر کا تاج ھیں، حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ جذبات کے بجائے قانون اور مکالمہ ہی راستہ ہے۔ امن، انصاف اور قومی یکجہتی ہمارا مشن ہے۔ پاکستان زندہ باد!

Mushtaq sahib the great..
相关视频
Sensitive content
یہ گیارہ سال سے جبری گمشدگی کا شکار زاہد بلوچ کا بیٹا ہے۔ یہ معصوم بچہ بچپن سے اپنے والد کے سائے سے محروم رہا ہے۔ اس کی پرورش اس کے چچا، شاہ جہان بلوچ نے کی، جو ایک مقامی تاجر تھے، اور اب ریاست نے اس آخری سائے، شاہ جہان بلوچ، کو بھی گزشتہ روز قتل کر دیا۔ اب یہ معصوم بچہ اپنی درد اور تکلیف سے بھری زندگی کی کہانی بیان کر رہا ہے، ریاست سے سوال کر رہا ہے کہ اس کے تکلیف دہ اور درد بھرے بچپن کا ذمہ دار کون ہے؟ ریاست نے بلوچ بچوں کو ایسی تکلیف اور درد بھری زندگی دی ہے کہ جن کے دکھ اور مصائب کے قصے سن کر کلیجہ پھٹ جاتا ہے اور دل سے ایسی بددعا نکلتی ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ #SaveZahidAndAsadBaloch #StopBalochGenocide #ReleaseBalochMissingPersons
Mahrang Baloch
69,764 次观看 • 1 年前
