Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

چھ دن گزر گئے میرے والد کو جبری گمشدہ بنایا گیا، ان چھ دنوں میں نا ہمیں بتایا جارہا ہے وہ کہاں، ہے اور کیوں انھیں لے جایا گیا ہے۔ پولیس تعاون کے بجائے پریس کلب پر تالہ اور ہمیں احتجاج سے روک رہی ہے- میری والد شفیق زہری...

16,306 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

6 Kommentare

Profilbild von Black _ List
Black _ Listvor 9 Monaten

آپ کے سب سوالوں کا جواب اس ویڈیو میں ہے ملاخظہ فرماۓ

Profilbild von Black _ List
Black _ Listvor 9 Monaten

صبر کرے آپ کے سب سوالوں کے جوابات دیتے ہیں ہم -

Profilbild von Waqar Qureshi
Waqar Qureshivor 9 Monaten

تمہارے والد صاحب بی ایل اے والوں کے پاس گئے ہو گے وہاں ڈھونڈو

Profilbild von BYC
BYCvor 9 Monaten

اللہ پاک اپنے حفاظت میں رکھے

Profilbild von Muhammad Waqas
Muhammad Waqasvor 9 Monaten

BLA Terrorists Kids

Profilbild von Khan
Khanvor 9 Monaten

Another victim of corrupt military

Ähnliche Videos

چکوال تھانہ لاوہ کے علاقے دربٹہ سے شادی شدہ خاتون سکول ٹیچر کو بااثر افراد نے اغواء کرلیا خاتون کو اغواء ہوئے 1 ماہ گزر گیا تھانہ لاوہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام بچی کا بزرگ والد 5 دن تھانہ لاوہ کے چکر لگاتا رہا لاوہ پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا 5 دنوں کے بعد بڑی مشکل سے بچی کے والد کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف پولیس نے بچی کے والد سے آپنی مرضی کی تحریر بنوا کر مقدمہ درج کیا ایف آئی آر میں اغواء کی دفعات تک نہیں لگائیں گئیں تھانہ لاوہ پولیس بچی کو بازیاب کروانے میں مکمل ناکام الٹا پولیس ملزمان کی پشت پناہی کرنے لگی بچی کے والد اور بہن کے مطابق پولیس تعاون نہیں کررہی ہے اور نہ ہی ہمارے کیس میں دلچسپی لے رہی ہے خدشہ ہے کہ میری بچی کو ملزمان قتل کردیں گے مغویہ کے والد کے مطابق ایس ایچ او تھانہ لاوہ نے سی ڈی آر کے مطابق ہم سے ایک ملزم نعیم ء اللہ کو خود نامزد کروایا اور بغیر تفتیش اور ہماری بچی برآمد کروائے ملزم کی گرفتاری ڈال دی اب پولیس نہ ہماری بچی بازیاب کروا رہی اور الٹا کیس کو خراب کرنے کیلئے مرکزی ملزم نعیم ء اللہ والد عالم خان سے بغیر ہماری بہن بازیاب کروائے مقدمے سے بے گناہ یا جوڈیشل کرنا چاہتی ہے تاکہ ہماری بہن بازیاب نہ ہوسکے لیکن اصل اور حقیقت میں لاوہ پولیس ملزمان کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور کیس کو لمبا کرنے کیلئے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور ہماری بچی کو بازیاب نہیں کروا رہی ہے وزیراعلی پنجاب انچارج سی سی ڈی سہیل ظفر چھٹہ اور آر پی او راولپنڈی فوری نوٹس لیکر میری بچی کو زندہ بازیاب کروائیں

sheikh saira sahiba

14,246 Aufrufe • vor 5 Monaten

حمدان محمد علی کو 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے جبری حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ آج ان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونا تھا، مگر اس سے ایک دن قبل انہیں تین دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور اب ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سی ٹی ڈی اور پولیس قانون اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج حمدان کے لواحقین نے اس سنگین ناانصافی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے تمام افراد، تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور اور مؤثر آواز اٹھائیں، تاکہ جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔

Sammi Deen Baloch

54,869 Aufrufe • vor 7 Monaten

گزشتہ شب کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے خضدار کے رہائشی عقیل بلوچ کو ان کے گھر سے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے، سی ٹی ڈی کی موجودگی میں، زبردستی حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس واقعے کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے، مگر اس کے باوجود حکومتی نمائندے مسلسل جھوٹ بولتے ہیں کہ ملک میں کوئی جبری گمشدگیاں نہیں ہو رہیں، اور متاثرین ازخود ایران یا افغانستان چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو اس ویڈیو میں کیا دکھایا گیا ہے؟ اور عقیل بلوچ کہاں ہیں؟ عقیل کے پیچھے بھاگتی خواتین جب صبح احتجاج کے لیے سڑک پر نکلیں تو پولیس نے ان پر تشدد کیا اور زبردستی احتجاج ختم کرایا۔ فیملی جب ایف آئی آر درج کرانے پولیس اسٹیشن پہنچی تو وہاں بھی مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ انصاف کی یہی بندش جب متاثرہ خاندانوں کو اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں تک لے جاتی ہے، تو وہاں انہیں کہا جاتا ہے کہ ان کے “سیاسی مقاصد” ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا زندگی مانگنا کوئی سیاسی مقصد ہے؟ کیا سانس لینے کی اجازت طلب کرنا غداری یا ایجنسیوں کے خلاف سازش ہے؟ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں اور بار بار سوال اٹھائیں: عقیل بلوچ کہاں ہیں؟ جبری گمشدہ افراد کہاں ہیں؟ اور کس نے ریاست کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ شہریوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کرے؟ #EndEnforcedDisappearences #ReleaseAqeelBaloch

Sabiha Baloch

43,436 Aufrufe • vor 1 Jahr