Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ڈاکٹر مالک اور کریمہ بلوچ ۔ پہلے بھی مطالبات کے نام پر بلوچ کو بےوقوف بنایا گیا اب پھر اس میدان میں آیا ہے ۔

17,289 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

6 Kommentare

Profilbild von Übermensch
Übermenschvor 1 Jahr

اوقات دو کوڑی کی نہیں باتیں چودنا دیکھو۔ جن کو پہلے دن اندر کر کے گانڈ میں بازو ڈال کر اوقات یاد دلانی چاہیے انہیں چھوڑ کر انتظامیہ خود اپنے ساتھ غلط کرتی ہے۔ جن مکار لومڑی رنڈیوں کو گھر میں کوئی روٹی کا نہیں پوچھتا وہ روڈ پر آ کر چندے کھا کر اوقات سے باہر ہو جاتی ہیں۔

Profilbild von Truth Finder
Truth Findervor 1 Jahr

Ab is tout ka kuch nahi chalna.

Profilbild von Wahid
Wahidvor 1 Jahr

تم یہ بتاؤ تم نے تمہارے BLA والوں سمیت جعفر ایکسپریس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام معصوم لوگوں کو کیوں نقصان پہنچایا

Profilbild von Sameer Baluc
Sameer Balucvor 1 Jahr

فرق ایش اِنت کہ مالک کریمہ ءِ پاد کنگ ءَ اتکگ اَت ءُ اکتر کہ انو میدان ءَ موجود اِنت آ السلہ ءِ دارگ ءِ جھد ءَ اِنت ۔۔۔ نزاناں تئی ھیال چی اِنت

Profilbild von Shah Jahan
Shah Jahanvor 1 Jahr

ڈاکٹر عبداالمالک بلوچ صاحبِ ♥️

Profilbild von Mahmood Farooq🇵🇰
Mahmood Farooq🇵🇰vor 1 Jahr

یہ بھی سمی دین کی طرح اپنا منہ چھپاتی تھی۔

Ähnliche Videos

ریاستی فورسز کے بریریت، تھریٹ اور دو مرتبہ کریک ڈاؤن کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا شال میں بدستور جاری ہے۔ آج دھرنے کے مقام سے ایک منظم ریلی کی صورت میں شہید حبیب بلوچ کے جنازے میں شرکت کی گئی، جہاں ان کا نمازِ جنازہ ادا کیا گیا۔ اس موقع پر ایک اہم پریس کانفرنس بھی منعقد کیا گیا، جس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے مطالبات پیش کیے۔ مطالبات: (1) ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبگر بلوچ سمیت تمام گرفتار دوستوں کو فوری طور پر بغیر کسی شرط و شرائط کے رہا کر یا جائے۔ (2) اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد کو زخمی اور تین افراد کو شہید کرنے کے خلاف وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور آئی جی پولیس کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور انہیں عہدے سے برطرف کیا جائے۔ (3) کمشنر کوئٹہ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ (4) بلوچ سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری انتقامی کارروائیاں فوراً بند کی جائیں اور تمام جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ اگر ان مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔ اور ظلم و جبر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

15,791 Aufrufe • vor 1 Jahr

گزشتہ چھ مہینوں سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے خلاف پہلے تھری ایم پی او جیسے قانون کا غیر قانونی استعمال کیا گیا، پھر سیاسی ایف آئی آرز کے تحت بغیر کوئی رپورٹ پیش کیے ریمانڈ کا ایک طویل سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اب، جب انہیں جوڈیشل کر دیا گیا ہے، تو ان کی آئندہ پیشیوں میں بلاوجہ تاخیر کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ اب بغیر کوئی وجہ بتائے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کی باقی پیشیاں عدالت کے بجائے جیل کے اندر ہوں گی۔ یہ ہتھکنڈہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے عوامی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان رہنماؤں کی عوامی پذیرائی سے خوفزدہ حکومت، جب جیل میں قید کے باوجود عدالت میں ان سے ملنے والی عوامی حمایت کو ختم نہ کر سکی، تو اب یہ نیا حربہ اختیار کیا گیا ہے کہ بغیر کسی قانونی جواز کے پیشیاں جیل میں کروائی جائیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس عمل کو غیر قانونی اور جابرانہ سمجھتی ہے اور اس عمل کے خلاف ایک آن لائن احتجاجی مہم کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ آج سے تین روزہ احتجاجی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم میں حصہ لے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کریں اور جبر کے نظام کے خلاف آواز بلند کریں۔ #EndUnfairTrailOfBYCLeaders #ReleaseBYCLeaders

Baloch Yakjehti Committee

63,429 Aufrufe • vor 11 Monaten

بلوچ راج! بلوچ راجی مچی 28 جولائی بروز اتوار شام 3 بجے پدی زِر گوادر میں منعقد ہوگا۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، ریاست پاکستان بلوچ راجی مچی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جو ریاستی بوکھلاہٹ اور خوف کو صاف ظاہر کرتی ہے۔ اسے بلوچ راجی مچی کے سامنے ریاستی شکست اور بلوچ راجی مچی کی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی کو کامیاب بنانے کے لیے ریاست کے تمام تر مظالم اور جبر کے خلاف مزاحمتی طریقہ کار اور قاعدہ اپنائیں۔ جیسے کہ ریاست ٹرانسپورٹرز، باورچی، اور دکانداروں کو دھمکیاں دے رہی ہے، اس کے ردعمل میں بلوچ قوم کا ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق ٹرانسپورٹ، راشن، اور دیگر ضروری سامان زیادہ سے زیادہ تعداد میں راجی مچی کے لیے مہیا کرے۔ اس کے علاوہ، ریاستی جبر اور مظالم نے بلوچ راجی مچی کی اہمیت کو دوگنا کردیا ہے۔ اب یہ صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نہیں، بلکہ بلوچ سماج کے ہر طبقہ فکر کے لیے اہمیت کا حامل ہوگیا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اگر ہم آج ریاست پاکستان کے ظلم، جبر، اور بربریت کے سامنے خاموش ہوجائیں تو اس کے نتائج ہمارے موجود اور آنے والی نسلوں کو بھگتنے ہوں گے۔ لہٰذا یہ وقت خاموش ہونے کا نہیں، مزاحمت کرنے کا ہے۔ ہر طبقہ فکر کو ہر طریقے سے اس مزاحمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اب ہر بلوچ کا کردار ادا کرنا لازمی بن چکا ہے۔ آخر میں ہم 28 جولائی کو گوادر کے علاوہ (گوادر میں دکاندار بلوچ راجی مچی کے شرکاء کو سامان اور ضروری اشیاء مہیا کریں گے) پورے مکران میں بلوچ راجی مچی کے احترام میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی بلوچ نسل کشی، بلوچ قوم کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے، اور بلوچ قوم کی تشکیل نو کے خلاف ایک منظم عوامی جدوجہد کا آغاز ہے۔ اس لیے اس راجی مچی کے احترام میں بلوچ راج کے تمام دکاندار، کاروباری حضرات، اور تاجر برادری رضاکارانہ بنیادوں پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں اور بلوچ راجی مچی اور بلوچ قومی بقاء کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ #WeSupportBalochRaajiMuchi #BalochNationalGathering #بلوچ_راجی_مُچی

Baloch Yakjehti Committee

26,779 Aufrufe • vor 2 Jahren