Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

"جو زمین بلوچ کی ہے اس کا مالک ایک فوجی ہے جس نے بلوچوں کو غلام بنایا ہوا ہے۔ بلوچ کا کسان اس جاگیر کے نیچے کام کررہا ہے جو فوج کے پیرول پر کام کررہا ہے۔ نام نہاد جاگیر داروں نے ہر دور میں بلوچ نسل میں ایک...

21,587 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 6

Фото профиля Tajdar Baloch
Tajdar Baloch1 год назад

What a clear lady in her stance. How elequoently she incorporates the issues of State, feudals their facilitarors and connects the working class question with the national movment. Long Live Banuk!

Фото профиля RedDeer.Games IR
RedDeer.Games IR2 лет назад

🚀 Dive into the world of gaming with @RedDeer_Games! Check out latest game videos and don't forget to hit that SUBSCRIBE button for more awesome content! 🎮📺 👉 Watch now and subscribe! 👉 Youtube 👉 👉 #Nintendo #Xbox #PS

Фото профиля Jakie $URO CLONE Lingo
Jakie $URO CLONE Lingo1 год назад

Dr .💚♥️💙

Фото профиля Zara Baloch
Zara Baloch1 год назад

افسوس صدافسوس!! ماہ رنگ بلوچ صاحبہ ،کا بلوچستان کی ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ تو صرف بلوچستان میں انتشار پھیلا کر اپنی سیاست چمکانا چاہتی ہے۔

Фото профиля M U C
M U C1 год назад

بلوچستان پاکستان ہے 🇵🇰

Фото профиля Zainma
Zainma1 год назад

@SyedAHussain15 Bloody Military Mafia Criminals illegitimate Occupation of Pakistan

Похожие видео

بلوچ راج! بلوچ راجی مچی 28 جولائی بروز اتوار شام 3 بجے پدی زِر گوادر میں منعقد ہوگا۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، ریاست پاکستان بلوچ راجی مچی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تمام تر وسائل اور طاقت کا استعمال کر رہی ہے، جو ریاستی بوکھلاہٹ اور خوف کو صاف ظاہر کرتی ہے۔ اسے بلوچ راجی مچی کے سامنے ریاستی شکست اور بلوچ راجی مچی کی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی کو کامیاب بنانے کے لیے ریاست کے تمام تر مظالم اور جبر کے خلاف مزاحمتی طریقہ کار اور قاعدہ اپنائیں۔ جیسے کہ ریاست ٹرانسپورٹرز، باورچی، اور دکانداروں کو دھمکیاں دے رہی ہے، اس کے ردعمل میں بلوچ قوم کا ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق ٹرانسپورٹ، راشن، اور دیگر ضروری سامان زیادہ سے زیادہ تعداد میں راجی مچی کے لیے مہیا کرے۔ اس کے علاوہ، ریاستی جبر اور مظالم نے بلوچ راجی مچی کی اہمیت کو دوگنا کردیا ہے۔ اب یہ صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نہیں، بلکہ بلوچ سماج کے ہر طبقہ فکر کے لیے اہمیت کا حامل ہوگیا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اگر ہم آج ریاست پاکستان کے ظلم، جبر، اور بربریت کے سامنے خاموش ہوجائیں تو اس کے نتائج ہمارے موجود اور آنے والی نسلوں کو بھگتنے ہوں گے۔ لہٰذا یہ وقت خاموش ہونے کا نہیں، مزاحمت کرنے کا ہے۔ ہر طبقہ فکر کو ہر طریقے سے اس مزاحمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اب ہر بلوچ کا کردار ادا کرنا لازمی بن چکا ہے۔ آخر میں ہم 28 جولائی کو گوادر کے علاوہ (گوادر میں دکاندار بلوچ راجی مچی کے شرکاء کو سامان اور ضروری اشیاء مہیا کریں گے) پورے مکران میں بلوچ راجی مچی کے احترام میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچ راجی مچی بلوچ نسل کشی، بلوچ قوم کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے، اور بلوچ قوم کی تشکیل نو کے خلاف ایک منظم عوامی جدوجہد کا آغاز ہے۔ اس لیے اس راجی مچی کے احترام میں بلوچ راج کے تمام دکاندار، کاروباری حضرات، اور تاجر برادری رضاکارانہ بنیادوں پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں اور بلوچ راجی مچی اور بلوچ قومی بقاء کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔ #WeSupportBalochRaajiMuchi #BalochNationalGathering #بلوچ_راجی_مُچی

Baloch Yakjehti Committee

26,779 просмотров • 2 лет назад