Sensitive content

This media may contain sensitive content.

正在加载视频...

视频加载失败

ڈبے کا دودھ پینے والے بچے گرم اور خالص دودھ کی اہمیت نہیں سمجھ سکتے لیکن یہ خالص دودھ خاص لوگوں کو ہی ملتا ہے اور ان خاص لوگو کی لسٹ میں عاشق کو آنے کے لیے اپنی معشوقہ کی ہر خوشی کو کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑتا...

47,587 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,266 次观看 • 2 个月前

EchoAPI $67 سے $75 فی گھنٹہ کمائیں اگر آپ کو API ڈویلپمنٹ میں دلچسپی ہے اور آپ اپنی تکنیکی مہارتوں کو استعمال کر کے اچھی کمائی کرنا چاہتے ہیں، تو EchoAPI ایک زبردست پلیٹ فارم ہے جہاں آپ API ٹیسٹنگ کے ذریعے فی گھنٹہ $67 سے $75 تک کما سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم آپ کو API ڈویلپمنٹ کے مختلف مراحل میں کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جیسے: API کو ڈیزائن کرنا: جدید ایپلیکیشنز کے لیے بہترین API ڈیزائن کرنا۔ مسائل تلاش کرنا: API کی کارکردگی اور فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے مسائل کی نشاندہی کرنا۔ ٹیسٹ کرنا: API کی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے اس کا ٹیسٹ کرنا۔ دستاویزات تیار کرنا: API کے استعمال اور اس کی خصوصیات کی مکمل دستاویزات تیار کرنا۔ EchoAPI آپ کو یہ تمام تکنیکی کام کرنے کا موقع دیتا ہے، جو آپ کی مہارت کو نہ صرف بہتر بناتا ہے بلکہ آپ کو اچھی کمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ یہاں کام کر کے آپ API ڈویلپمنٹ کی صنعت میں اپنا نام بنا سکتے ہیں اور اس سے متعلقہ مختلف پروجیکٹس میں حصہ لے کر اپنے کیریئر کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ اگر آپ API ڈویلپمنٹ کے ماہر ہیں یا اس فیلڈ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو EchoAPI آپ کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہو سکتا ہے جہاں آپ نہ صرف اپنی مہارت کو آزما سکتے ہیں بلکہ اچھی آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

Tanveer Awan

11,035 次观看 • 1 年前

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,168 次观看 • 1 年前

کہا جا رہا ہے یہ غالبا میاں صاحب کا جیل کا چھوٹا سا سیل۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو یہ تمام جیل سیلزجن میں بھٹو، بےنظیر بھٹو شہید، دیگر سیاسی قیدی رہے، پبلک میوزیمز ہوتے اور عوام کے لیے کھلے ہوتے تاکہ عوام کو سچ کا علم ہوتا، یہاں سب سیاسی قیدیوں کے گزرے ہوئے عیام کی تفصیلات نصب ہوتیں، کیا کھاتے تھے، کیسے رہتے تھے وغیرہ۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں تو یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ عوام کو سچ پتہ لگ جاتا اور شعور کے ساتھ جب سچ مل جاتا ہے تو status quo کو نقصان کوتا ہے۔ ہمیں نہ سچ سننا اور جاننا ہے اور شعور سے تو ویسے بھی پیٹ نہیں بھرتا شعور سے صرف قومیں ترقی کرتی ہیں اور وہ ترقی تبدیلی کے مترادف ہے جو ہمیں نہیں چاہیے۔ شایدکبھی آنے والے وقتوں میں ہم ایسی شعوری ترقی حاصل کر سکیں جہاں ہم اپنی تاریخ کو own کرنے سے نہ گھبرائیں اور ان جیل سیلز کو سکولوں کالجوں کے بچوں کے لیے کھول دیں تاکہ عوام اپنے سیاسی فیصلے کرنے سے پہلے ان تمام شخصایت کے جیل کے ادوار، انکی وہاں رہائش کے حالات اور حقائق اور ان میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کو جان سکے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو قبول نہیں کرتیں، نظر چراتی ہیں یا اسکو مسخ کرنے کی کوششیں کرتی ہیں وہ اپنی ماضی کی غلطیوں سے کچھ سیکھ نہیں سکتیں اور جب تک غلطیاں قبول نہ کی جائیں ان غلطیوں کو سدھارا بھی نہیں جا سکتا۔

Shiffa Z. Yousafzai

35,997 次观看 • 6 个月前

یومِ تکبیر کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے پمز ھسپتال میں دل کے امراض کی ایمرجنسی وارڈ میں ایک قریبی عزیز کی عیادت کے لئیے اپنے دوست صحافیوں کے ساتھ جانے کا اتفاق ہواا، ہم وارڈ سے تقریباً200 گز دور سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک ہی فضا سڑک پر رگڑ کھاتے لوہے کے سٹریچر کے کمزور اور ٹوٹے پہیوں کی آواز سے گونجنا شروع ہو گئی، ہم سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو ایک خاتون سٹریچر کے اگلے دائیں سائڈ کے ٹوٹے پہئیے والے کونے کو ہاتھوں سے ہوا میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور ساتھ میں دو مرد حضرات سٹریچر پر پڑے ایک تقریباً سولہ سترہ سال کے بچے کو جلدی میں کھینچ رہے تھے، بظاہر انہیں پمز کی تقریباً مزید تین سو گز دور حادثاتی ایمرجنسی سے گاڑی یا ایمبولنس کی بجائے ٹوٹے سٹریچر پر ہی لواحقین کے حوالے کر کہ ایک سمت میں دھکیل دیا گیا تھا، پھولتی سانسوں کیساتھ پریشان خاتون (جو بظاہر ماں لگ رہی تھی) نے پوچھا یہ دل کا وارڈ کہاں ہے، میں تو اس صورت حال سے پریشانی کے عالم میں کبھی اُس ماں اور سٹریچر پر پڑے اُسکے بچے کو دیکھتا اور کبھی اُن لوگوں کے ہی پیچھےاُس طویل اندھیری سڑک کو جس پر وہ یہ ٹوٹا ہوا سٹریچر کھینچ کر لا رہے تھے، ایسے میںُ ہمارے ایک ساتھی صحافی افضل باجوہ نے ٹوٹے پہئیے والے سٹریچر کے کونے کو سنبھال لیا- بظاہر پمز کی حادثاتی ایمرجنسی میں کوئی ایسا ڈاکٹر نہ تھا جو اُس بچے کو ٹوٹے سٹریچر اور پریشان حال ماں باپ کو سڑک پر دھکیلنے سے پہلے کم سے کم ابتدائی طبی امداد دے سکتا اور پھر ھسپتال کے پچھواڑے میں قائم دل کی ایمرجنسی میں بذریعہ ایمبولنس بھیج دیتا، جہاں دل کی ایک دھڑکن اور ایک سیکنڈ کے فرق سے زندگی اور موت کا سفر طے ہوتا ہے وہاں ایک بچے کو ٹوٹے سٹریچر پر ڈال لر یوں سڑک پر دھکیل دینا کونسی انسانیت ہے؟ ایٹمی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ کے سب سے بڑے ھسپتال کی دل کی ایمرجنسی ھسپتال کے مرکزی داخلی دروازے پر نہیں بلکہ اسکے پچھواڑے میں ہے جہاں پہنچتے پہنچتے سٹریچر کے پہئیے جواب دے جاتے ہیں اور مائیں راستہ پوچھتی رہ جاتی ہیں، کیا وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے دل کے مریضوں کا دل کی ایمرجنسی کے قریب الگ داخلی راستہ نہیں؟ عام لوگ دل کے مریضوں کو مرکزی داخلی راستے پر قائم حادثاتی ایمرجنسی میں ہی لے کر جاتے ہیں تو کیا وہاں پر ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو فوری اور ابتدائی ہنگامی امداد نہیں ملنی چاہئیے؟ کیا حادثاتی ایمرجنسی میں آنے والے دل کے مریضوں کے لئیے کوئی خصوصی راہنمائی والا عملہ یا شٹل سروس ایمبولنس نہیں ہونی چاہئیے جو ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو حادثاتی ایمرجنسی سے فوری طور پر دل کی ایمرجنسی میں منتقل کر دے؟ منسلک ویڈیو صورت حال کی ایک جھلک ہے۔ سٹریچر اور اُس پر پڑا بچہ آخر ایمرجنسی پہنچ تو گیا مگر کتنے نقصان کے بعد؟ یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔

Matiullah Jan

255,843 次观看 • 2 年前