正在加载视频...

视频加载失败

ڈکی بھائی کا کنٹینٹ کبھی بھی مجھے اچھا نہیں لگا لیکن جو اس کے ساتھ ہوا وہ انتہائی زیادتی یہ ایف ائی اے ٹوٹل کا ٹوٹل ادارہ رشوت پر کام کر رہا ہے میں جنرل صاحب سے اپیل کرتا ہوں اس کا حساب لیں اور ایف ائی اے کا...

11,231 次观看 • 7 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے وکیل نے اج یعنی 8 جولائی 2025 کو عدالت میں قومی کمیشن کی جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس رپورٹ کے مندرجات وہ نہیں تھے جو اس سے پہلے قومی کمیشن کی رپورٹ میں تھے۔ وکیل نے پانچ ملزمان کے بیان پڑھ کر عدالت کو سنائے لیکن ان میں سے کسی ایک ملزم کا نام بھی اس رپورٹ میں نہیں ہے جو اس سے پہلے قومی کمیشن شائع کر چکا ہے ۔ عدالت میں عجیب ماحول ہے ۔ کوئی ضمنیاں پیش کر رہا ہے ، کوئی فیکٹ فوکس کی غیر تصدیق شدہ رپورٹس کو دلائل کے طور پر پیش کر رہا ہے ، کوئی قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مندرجات من گھڑت اضافہ کر کے پیش کر رہا ہے ۔ وہ ثبوت اُبل اُبل کر سامنے آرہے ہیں جن کا اس سے پہلے کوئی وجود نہ تھا ۔ عبداللہ شاہ قتل میں ایمان نامی لڑکی کا اضافہ ہو جاتا ہے ،راؤ عبدالرحیم کے اس بیان کا اضافہ ہو جاتا ہے کہ اسے کوئی نمبر ایف ائی اے نے دیا تھا ، کہیں سے ضمنیاں سامنے ا جاتی ہیں اور اب قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں نئے ملزمان اگئے ہیں ، اور انہی ملزمان کے ساتھ ساتھ محمد حسن کا نام بھی اچانک ہی سامنے ا جاتا ہے جو اس سے پہلے کسی رپورٹ میں نہ تھا ۔

Qaiser Ahmed Raja

11,642 次观看 • 1 年前

یہ بھائی چلاس گلگت بلتستان کا ایک مقامی صحافی ہے، جو حال ہی میں Belgium کے ایک سیاح جوڑے کا انٹرویو کر رہا تھا۔ کافی احباب نے اس کا مذاق اُڑایا اور طنز و تشنیع پر مبنی تبصرے کیے۔ میں ان آراء سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ کئی بار میں نے اس بھائی کی ویڈیوز پر تنقیدی تبصرے بھی کیے ہیں، لیکن اس بار میں اسے داد دیتا ہوں۔ یہ اس کا بے پناہ حوصلہ اور بے مثال جرات ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں جوڑے سے گلگت بلتستان، بالخصوص اپنے ضلع دیامر، کے بارے میں تاثرات معلوم کر رہا ہے۔ اس کی انگریزی اہم نہیں، بلکہ وہ پیغام اہمیت کا حامل ہے جو وہ اس ٹوٹی پھوٹی انگریزی کے ذریعے دنیا کو دینا چاہتا ہے۔ کوئی زبان فرفربولنا اہم نہیں، مخاطب کو اگر آپ جیسے بھی سمجھا سکتے ہیں تو بس یہی کافی ہے۔ بولنے سے بولنا آتا ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دن یہ روانی کے ساتھ بھی بول سکے گا۔ زبان سیکھنے کے لیے تعلیم نہیں، بلکہ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ماحول میسر آ جائے، زبان اپنے آپ آجاتی ہے۔ اس کلپ کے آخری کلمات ضرور سنیں، یہ حوصلے اور جذبے کی بہترین مثال ہیں

Gilgit Baltistan Tourism.

37,288 次观看 • 10 个月前