Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ڈگری تو ہاتھ میں ہے مگر عالمی معیار کا سرٹیفکیٹ یا تجربے کا ثبوت نہیں؟ آج بہت سے نوجوان صرف اسی کمی کی وجہ سے اچھی ملازمتوں اور بین الاقوامی مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz Sharif گلوبل آئی ٹی سرٹیفیکیشن پروگرام نوجوانوں کو عالمی معیار...

124,945 görüntüleme • 1 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بلوچستان میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی فٹبال صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی کے زیر اہتمام پہلا فٹبال ٹریننگ کیمپ قیوم پاپا اسٹیڈیم، کوئٹہ میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے، تربیتی کیمپ کا انعقاد حکومت بلوچستان اور ڈی ایچ اے کوئٹہ کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد مقامی نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی فٹبال تربیت فراہم کرنا ہے،، یہ فٹبال ٹریننگ کیمپ 5 فروری 2026 تک جاری رہے گا، جس کے دوران شرکاء کو جدید کھیل کی تکنیک، جسمانی فٹنس، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ فٹبال مہارتوں پر مشتمل جامع تربیت دی جا رہی ہے،، برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معروف اور تجربہ کار فٹبال کوچز کرسچین اور تھامس تربیتی سیشنز کی نگرانی اور قیادت کر رہے ہیں، جو کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنے میں مصروف ہیں،، اس اقدام کا مقصد بلوچستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرنا اور انہیں مستقبل کے پیشہ ور فٹبالرز کے طور پر تیار کرنا ہے،، صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوجوان فٹبالرز کی بھرپور شرکت بلوچستان میں فٹبال کے بڑھتے ہوئے رجحان، نوجوانوں کے عزم اور کھیلوں سے وابستگی کی واضح عکاسی کرتی ہے،، اسٹیون جیرارڈ اکیڈمی کا یہ اقدام نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش، اس کی تربیت اور صوبے میں کھیلوں کے کلچر کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے،،

Architect Jalal Sherazi

27,528 görüntüleme • 7 ay önce

ڈیرہ غازی خان ضمنی الیکشن کمپین ۔۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا "عمران خان اور پی ٹی آئی فرینڈلی" بیانیہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی عوامی حثیت — ڈیرہ غازی خان کے ضمنی انتخاب میں سامنے آنے والے چند تلخ حقائق ۔۔ ڈیرہ غازی خان کی ضمنی الیکشن کمپین نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی زمینی حقیقت کیا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی تو ہاری ہی نہیں، مگر پھر بھی کچھ لوگ غصے میں ہیں۔ ن لیگی وفاقی وزیر خود پی ٹی آئی والوں کو “ہمارے بھائی” کہہ کر منانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ووٹ مل سکیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی ووٹرز کو یہ کہہ کر قائل کر رہی ہے کہ اگر ن لیگ سے بدلہ لینا ہے تو پی ٹی آئی والے ہمیں ووٹ دیں۔ یعنی دونوں جماعتیں اپنی مہم میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی بیانیہ نہیں دے رہیں، بلکہ الٹا پی ٹی آئی اور عمران خان کا نام استعمال کر رہی ہیں۔ صورتحال واضح ہے: دونوں پارٹیوں کے پاس کوئی قابلِ ذکر نعرہ، کوئی کارکردگی، اور نہ ہی اپنے لیڈروں کا کوئی وزن بچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے امیدواروں کی پوری کمپین میں صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کا بیانیہ نظر آتا ہے — نہ اپنا منشور، نہ اپنے رہنما۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس حد تک کمزور ہو چکی ہیں کہ اگر یہ اپنی پارٹی کے نام یا اپنے لیڈروں کی بنیاد پر ووٹ مانگیں، تو عوام انہیں مسترد کر دے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے آج یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کے ووٹر کو خوش کرنے اور عمران خان سے بالواسطہ وفاداری دکھانے پر مجبور ہیں۔ یہی ان دونوں پارٹیوں کی زمینی حیثیت اور اصل سیاسی حقیقت ہے۔

Ahsan Wahid

68,343 görüntüleme • 9 ay önce