Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ڈی جی آئی ایس پی آر کا قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ. یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ سے خصوصی نشست دشمن جتنی بھی کوشش کر لے مگر ہمیں اپنی افواج سے دور نہیں کر سکتا، طلبا معرکہء حق میں کئی گنا بڑے دشمن کو دھول چٹا کر...

10,988 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانونٹ جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس اور روٹس سکول سسٹم کے طلباء و طالبات اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست ڈی جی آئی ایس پی آر نے نشست کے دوران افواج ِ پاکستان کے آپریشنل اُمور اور داخلی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی پرنسپل کانونٹ جیسس اینڈ میری سکول نے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اس خصوصی نشست میں اساتذہ اور طلباء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا طلباء اور اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ ؛ "ہمارے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہمیں آرمی سے بات چیت کا موقع ملا " ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے جو پاکستانی عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، طلباء ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں حقائق کو درست نقطہ نظر سے دیکھنے کی تلقین کی، طلباء ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں سوشل میڈیا کے حوالے سے پروپیگنڈا ، گمراہ کن اور نقصان دہ معلومات کے بارے میں آگہی دی ، طلباء آج ہم نے سیکھا کہ ازلی دشمن کے تزویراتی تکبر کا مقابلہ کیسے کیا جائے، اساتذہ کا پیغام ہم پاک فوج کو ان کے پختہ عزم اور بہادری پر سلام پیش کرتے ہیں، اساتذہ بطور ذمہ دار شہری ہمیں سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا سے خود کو بچانا ہو گا ، طلباء میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں میں سچائی جاننے کے لیے تحقیق کرنا ضروری ہے، طلباء پاک فوج اور پاکستانی عوام نے مل کر بھارت کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کیا ہے، *طلباء* ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ کس طرح پاک فوج ہمارے ملک کو دہشتگردی سے بچانے میں مدد کر رہی ہے، *طلباء** پاکستان ہمیشہ زندہ باد

Muhammad Hanzala

13,833 Aufrufe • vor 9 Monaten

"آپ یقین کریں میں آج نہیں آنا چاہتا تھا اپنی بیماری کی وجہ سے یہاں دوست ہیں دوستوں نے اصرار کیا میں آیا۔ دوستوں! یہ گھر میں بیٹھنے کے دن نہیں ہیں، آرام کے دن نہیں ہیں۔ آپ ایک ایسی ملت ہیں اب شیعہ سنی سارے اکٹھے ہیں، آپ ایک ایسی ملت ہیں جس کے کندھوں پر ذمہ داری ہے، رسالت ہے، ایک پیغام ہے پیغام۔ اس پاک وطن کو پاک بنانا ہے۔ ایک قوم بننا ہے۔ مخالفت کرنے والی قوم، عزت والی قوم، باوقار قوم، بابصیرت قوم، دشمن شناس قوم۔ مایوسیوں کے اندھیروں کو ختم کرنا ہے۔ چراغِ امید جلانے ہیں ہم نے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ ہم کر سکتے ہیں۔ اس وقت جو شیعہ سنی میں وحدت اور یونٹی اور بیداری ہے پاکستان کی تاریخ میں بلکہ پوری دنیا کے اندر دنیا کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ دشمن کا اربوں ڈالر کا، ٹریلین ڈالر کا جو خرچہ ہوا ہے انویسٹمنٹ ساری تباہ و برباد ہو گئی ہے اس پاک خون کی وجہ سے۔ مجھے کہا ٹائم ختم ہو گیا میرا۔ میں نے کہا تھا میں پانچ دس منٹ گفتگو کروں گا، زیادہ ہو گئی ہے۔ دیکھیں۔ محرم آنے والا ہے۔ آپ سارے بااثر لوگ ہیں۔ بس۔ میں ایک بات کر کے ختم کر رہا ہوں۔ محرم آنے والا ہے۔ میں تمام بانیانِ مجالس، تمام خطباء، تمام واعظین، تمام بااثر لوگوں سے گزارش کرتا ہوں اس محرم میں دشمن ہماری شیعہ سنی وحدت پر حملہ کرے گا۔ کوشش کریں سارے مل کر تفرقہ نہیں پھیلانے دیں گے، نفرت نہیں پھیلانے دیں گے۔ اس دفعہ کا محرم، ایامِ محرم، وحدت کا محرم ہو گا۔ وحدت کا پیغام جائے گا۔ حسینیت کے پرچم تلے اکٹھے ہونے کا پیغام جائے گا۔ ظلم کے مقابلے کے لیے اکٹھے ہونے کا پیغام جائے گا۔ یہ پیغام جائے ہم سارے ایک ہیں، ہم اکٹھے ہیں، مولا حسینؑ ہم سب کا ہے، کوئی کسی ایک کا نہیں ہے الگ سے۔ لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے قائد حزب اختلاف سینٹ سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

16,496 Aufrufe • vor 2 Monaten

یہ پروگرام تقریبا جولائی یا اگست کے مہینے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔۔۔ جو کچھ اج ہو رہا ہے پوری باریک بینی کے ساتھ وہ تفصیل اللہ کے فضل سے اپ کو بتا دی تھی۔۔ اب کی دفعہ اگر ہم نے دشمن کو پہلے حملہ کرنے کا موقع دیا تو ہمارا خوفناک اور ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔۔ اب کے دفعہ ہم کو اگے بڑھ کر پہلے حملہ کرنا ہوگا۔۔ اگر ہم امن اور خیر سگالی کے چکر میں بیٹھے رہ گئے اور بھارت کو پہلے حملہ کرنے کا موقع دے دیا تو ہم سنبھل نہیں پائیں گے۔۔۔ ہم اس وقت اوور کانفیڈنس کا شکار ہیں۔۔۔ ضرورت سے زیادہ خطرناک حد تک خود اعتمادی اگئی ہے ہم میں۔ ہم تکبر کی حدود بھی پار کر چکے ہیں۔۔۔ مجھے بہت شدید خوف ہے کہ اب کی دفعہ ہمیں بہت زیادہ مار پڑے گی۔‌‌ دشمن کی جنگی تیاریاں بہت وسیع پیمانے پر ہیں، اور ہماری قوم تکبر میں مبتلا دشمن کو سنجیدہ لے ہی نہیں رہی۔ ہمیں اگے بڑھ کر مارنا ہوگا۔ ورنہ ہم گرا لیے جائیں گے۔ بہت نقصان ہوگا۔ دشمن ہمارے اندر داخل ہو جائے گا اللہ نہ کرے۔ بڑے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لے گا۔ ہم اس کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں۔ دشمن طاقتیں بھی بھارت کی مدد کریں گی اور اندر کے غدار بھی۔ اگے بڑھ کر ماریں۔

اللہ کے بندے۔۔۔

25,734 Aufrufe • vor 11 Monaten

ہم نے عبادت کو صرف نماز روزہ حج اور زکوٰۃ تک محدود کر دیا ہے، مگر ہم بھول گئے کہ دین کا آدھا حصہ حقوق العباد پر مشتمل ہے۔ ہم سجدے تو کرتے ہیں، مگر دل توڑتے ہیں ... ہم روزے رکھتے ہیں، مگر زبان سے لوگوں کو زخم دیتے ہیں ... ہم زکوٰة دیتے ہیں، مگر کسی مجبور کو حقیر سمجھ کر اسے رسوا کر دیتے ہیں۔ اسلام صرف اللہ سے تعلق کا نام نہیں بلکہ اللہ کے بندوں سے حسن سلوک بھی اس کا ایک عظیم ستون ہے۔ کسی کے آنسو پوچھ لینا کسی کی عزت بچا لینا، کسی یتیم کا سر تھپک دینا یا کسی مزدور کو اس کی محنت کا حق وقت پر دے دینا. یہ سب اللہ کی نگاہ میں وہ نیکیاں ہیں جنہیں ہم معمولی سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو! قیامت کے دن جب اعمال تولے جائیں گے، تو وہاں صرف سجدوں کا وزن نہ ہو گا، بلکہ تم نے کسی دل کو خوش کیا تھا یا توڑا تھا یہ بھی تولا جائے گا۔ اس لیے عبادات کے ساتھ ساتھ انسانیت کا بھی خیال رکھو کیونکہ بندے کا حق وہی معاف کر سکتا ہے، جس کا حق مارا گیا ہو... اور وہ تمہیں آخرت میں کچھ بھی نہیں بخشے گا اگر تم دنیا میں اُسے رُلایا ہے۔

𝔸𝕞𝕒𝕝𝕢𝕒|🇵🇰

31,137 Aufrufe • vor 10 Monaten

انا للٰہ و انا الیہ راجعون بھائی Abdullah Gul کون بدبخت ہوگا جو ان شہیدوں کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔ انہی شہیدوں کی بدولت تو یہ عظیم ملک اور ہم سب محفوظ ہیں۔ ان بچوں کا دکھ ہم سب کا سانجھا دکھ ہے۔ فوج بطور ادارہ ہمیشہ پاکستانی عوام کےلیے قابل احترام اور قابل صد افتخار رہا ہے اور ابھی بھی اس جنگ میں دشمن مودی نے دیکھ لیا کہ سب نے ملکر صرف بطور پاکستانی ملک کا دفاع کرنے والی افواج کا ساتھ دیا۔ بالخصوص PTI کے سوشل میڈیا ٹائیگرز نے جنگ کے دنوں میں سب سے بڑھ کر ملک کا اور افواج کا دفاع کیا۔ سب سے بڑھ کر عمران خان صاحب نے جیل کے اندر سے قاتل مودی کو للکارا۔ کل میں نے اس کا ذکر اپنے حلقہ کے ایک روڈ افتتاح کے پروگرام میں عوام سے خطاب میں بھی کیا۔ ہاں بطور جمہوریت پسند اور آئین و قانون کے طالبعلم اور ایک سیاسی کارکن کے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار سے اختلاف ہے اور رہے گا۔ لیکن جب جب افواج اپنے روایتی کردار میں ملک کا دفاع کرتے ہیں تو عوام بھی انکو سر آنکھوں پہ رکھتے ہیں۔ ہمارے لیڈر اور سابق وزیراعظم Imran Khan صاحب نے مضبوط ترین بات کی ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے۔ بات ختم ! لیکن جب جب اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آئینی رول سے تجاوز ہوگا ہم آئین کی سربلندی کی بات کرینگے۔ سول سپرمیسی کی بات کریں گے۔ جمہوریت کی اصل روح میں بحالی کی بات کریں گے۔ ہاں جب پاکستان کے دفاع کا موقع ہوگا تو 100 فیصد نہیں 1000فیصد اپنی پاک افواج اور شہیدوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور رہیں گے اور موقع آیا توہم سب سیاسی کارکنان اور عوام خود فوج کے ساتھ ملکر پاکستان کا دفاع کریں گے انشاءاللّٰہ خوش اور محفوط رہئے۔ آپ کی محبت آپ کے عظیم مجاہد اسلام والد جنرل حمید گل صاحب کی وجہ سے ہمیشہ دل میں اور بھی زیادہ رہے گی۔ کوئی بات بری لگی ہو تو معزرت خواہ ہوں۔ والسلام۔ پاکستان زندہ باد 🇵🇰 تا قیامت پائیندہ باد۔

Ali Muhammad Khan

10,411 Aufrufe • vor 1 Jahr

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,378 Aufrufe • vor 1 Monat

پاک افواج کا افغان بارڈر پر تاریخی آپریشن، "فتح کی داستان، جرأت کے نشان" کا شاندار ٹیزر ریلیز 'جرأت کے نشان' کی حالیہ قسط پاکستانی فوج کی 25 تا 27 اپریل 2025 کی تاریخی اور جرأت مندانہ کارروائی کی ولولہ انگیز داستان ہے اپریل 2025 میں پاک افواج نے بھارتی ایماء پر دہشتگردی کا منصوبہ کرنے والی خوارج کی سب سے بڑی تشکیل کو جہنم واصل کیا انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق خوارج کی انتہائی بڑی تشکیل نے ڈیورنڈ لائن باڑ کاٹ کر پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی پاک فوج نے جدید ہتھیاروں اور بارودی مواد سے لیس بھارتی پراکسی کا پاکستان پر بڑے حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا پاک افواج نے جدید نگرانی، ڈرونز اور زمینی کاروائی سے دشمن کو گھیرے میں لے لیا پاکستان کی مسلح افواج نے کارروائی میں خوارج کی سب سے بڑی تشکیل کو ختم کرتے ہوئے 71 دہشتگرد ہلاک کیے محدود تعداد میں پاک فوج کے جوان غیر معمولی مہارت سے دشمن کے عزائم خاک میں ملا کر بحفاظت لوٹے بھارت کی پراکسی کو ناکام بنانے والے ان ہیروز کی بہادری اور قربانی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی

Eagle Eye

10,890 Aufrufe • vor 3 Monaten

دنیا میں ہمیشہ دو طبقے رہے ہیں: ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ہر ظالم کے خلاف ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہمیشہ ظالم کے خلاف کھڑے ہو اور مظلوم کے مددگار بنو۔ آج جب دنیا کے تمام ظالم ایک ہو چکے ہیں، تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سب مظلوم متحد ہوں اور اپنی جدوجہد کو منظم کریں۔ میں آپ کے سامنے ہوں،میرے کئی ساتھی اور دوست گزشتہ دس سال سے لاپتہ ہیں۔ اس لاقانونیت اور ظلم کے خلاف ہمیں مل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ پنجاب سمیت پاکستان بھر کے عوام اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام غیرت مند، باشعور اور بہادر ہیں، اور وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم پر ایسے عناصر کو مسلط کر دیا گیا ہے جو ظلم و جبر کے ذریعے عوام کے حقوق سلب کر رہے ہیں۔ ان بے بصیرت کرپٹ وطن دشمن حکمرانوں نے ماضی کے سانحات، خصوصاً مشرقی پاکستان کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ماہ رنگ بلوچ ہماری قوم کی بیٹی ہے، اور کوئی بھی غیرت مند معاشرہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا سلوک برداشت نہیں کرتا۔ اسلام آباد میں بلوچ بیٹیوں کے ساتھ جو ظلم ہوا، ہم نے اس وقت بھی اس کی مذمت کی، دھرنے میں جا کر ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کے سروں پر چادر رکھی۔ ہم آپ کے درد کو محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اس وقت پورے پاکستان کے عوام ظلم کا شکار ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وطن عزیز کی بقا کے لیے ہم سب مظلوم ایک ہو جائیں اور ان وطن دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ بلوچستان کی ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہیں۔ ہمیں اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکلنا ہوگا، ورنہ یہ ظالم باقی ماندہ پاکستان کو بھی برباد کر دیں گے۔ ہمیں اپنے ملک کو بچانا ہے اور ان ظالموں کو روکنا ہے۔ اور اے ظالمو! سن لو، جب کسی تحریک میں خواتین شامل ہو جائیں، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں متحد رہنا ہے، کیونکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے عوام کا اس پر سب سے زیادہ حق ہے۔ ان شاء اللہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ان ظالموں کو روکے گی اور وطن عزیز کو امن و انصاف کا گہوارہ بنائے گی۔ (بلوچستان ۔مستونگ،لکپاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے زیر اہتمام جاری دھرنے سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

21,963 Aufrufe • vor 1 Jahr