Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

یہ پروگرام تقریبا جولائی یا اگست کے مہینے میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔۔۔ جو کچھ اج ہو رہا ہے پوری باریک بینی کے ساتھ وہ تفصیل اللہ کے فضل سے اپ کو بتا دی تھی۔۔ اب کی دفعہ اگر ہم نے دشمن کو پہلے حملہ کرنے کا موقع دیا...

25,734 просмотров • 11 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 просмотров • 11 месяцев назад

بلوچستان اور خیبر میں ہم کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست اور حکومت ایک پالیسی کے تحت ایک دفاعی جنگ اپنی سرحدوں کے اندر لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ‌۔۔۔ جبکہ پوری دنیا سے دہشت گردوں کی قیادت اور سپلائی لائن محفوظ ہے ‌۔‌ ہم زمین پر ان کے چند کتے مار بھی دیتے ہیں تو اس تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے پاس مزید ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں اور ان کی سپلائی لائن افغانستان بھارت متحدہ عرب امارات، ایران اور اسرائیل کے ذریعے کھلی ہوئی ہے۔۔۔ ان کی قیادت یورپ میں محفوظ ہے۔ ہم کو اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر دشمن پر ضرب لگانی ہوگی۔۔ ہم افغانستان میں جا کر چھوٹی موٹی بمباری کر دیتے ہیں مگر کام مکمل نہیں کرتے۔ لندن میں اور یورپ میں ان دہشت گردوں کی پوری قیادت کھل کر اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔۔۔ ہم ان کو واپس کیوں نہیں لا سکے؟ کوئی سرکاری طور پر مطالبہ بھی نہیں کیا گیا برطانیہ سے اور سوٹزرلینڈ سے کہ اس قیادت کو ہمارے حوالے کیا جائے ‌۔۔ ہم نے بھارت کے اندر ابھی تک کیوں نہیں جواب دیا؟ خالصتان کی تحریک اور کشمیر کی تحریک ازادی کو کیوں نہیں بھڑکایا؟ افغان طالبان کی قیادت کو ابھی تک قتل کیوں نہیں کیا؟ افغان طالبان کے مخالف دھڑوں کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کی؟ ان کو بلائیں اسلام اباد میں ان سے کہیں اپنا دفتر کھولو ہم کھل کر تمہاری مدد کریں گے۔۔ طالبان کو تو ویسے بھی دنیا میں کوئی پسند نہیں کرتا۔۔‌ ہم کلبوشن یادیو کو ابھی تک پنجرے میں بند کر کر چھپا کر کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ دشمن کا اتنا بڑا مہرہ ہماری قید میں ہے اس کو ہم پوری دنیا کے سامنے تماشہ کیوں نہیں بناتے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے؟ نہ ہم ابلاغی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم عسکری جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم سیاسی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں ‌۔۔ نہ کوئی ہمارا مرکزی لیڈر ہے جو سامنے ا کر ان دہشت گردوں کو جواب دے اور قومی بیانیہ بنائے۔۔۔ جبکہ فضلو جیسے حرام خور مسلسل ریاست اور فوج پر حملے کر رہے ہیں۔۔۔ اس جنگ میں اگر ہمارا نقصان ہو رہا ہے تو اپنی نااہلی کوتاہی غفلت اور خیانت کی وجہ سے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ دشمن بہت ہوشیار ہے۔۔ اس لیے کہ اپنی صفوں میں غداری اور خیانت ہے۔ کوئی سیاستدان ذمہ داری لینا نہیں چاہتا مگر ملک پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔۔ کیا زرداری نواز شریف یا کسی اور بڑے سیاستدان نے بی ایل اے اور جہنم کے کتوں کے خلاف سٹینڈ لیا؟ صرف ریاست اور فوج کو گالی دیں گے کہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔۔ اس سے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ ان جہنم کے کتوں اور دہشت گردوں کو معاف کر دیں اور ان کے خلاف اپریشن بن کر دیں۔ موجودہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے۔ ہمیں جارحانہ انداز میں اگے بڑھ کر ہما جہتی پالسی بنانی ہوگی جیسا ہم بتا رہے ہیں ‌۔ بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہم کو ایک ہی غلطی دہراتے ہوئے اور یہ توقع کرتے ہوئے کہ نتیجہ اپ کی دفعہ مختلف نکلے گا۔۔۔ اسی کو پاگل پن کہتے ہیں۔ صرف اس سال کے چھ مہینوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے افسر اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔۔ اب چپ رہنے کا وقت نہیں ہے۔۔ مصلحت کا وقت نہیں ہے۔۔ زمین پر کتوں کے خلاف فوجی اپریشن کرنے سے یہ دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔۔۔ اپ کو بہت اوپر سے شروع کرنا پڑے گا۔۔۔ ان کے سیاسی سہولت کار ان کے میڈیا میں سہولت کار ان کے مولویوں میں سہولت کار ان کے عالمی دہشت گرد ریاستوں میں سہولت کار۔۔۔ ان سب کو تو ہم نے ہاتھ ہی نہیں ڈالا اب تک۔۔۔ صرف روز اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور لگتا ہے جیسے سب اس پر راضی ہیں۔۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ہزاروں شہید ہو گئے ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔۔۔ جمہوریت تو چل رہی ہے۔ سیاست دانوں کے پیٹ تو بھر رہے ہیں۔۔۔ فضلو کو بھونکنے کی اجازت ہے۔۔اس کا مطلب ہے سب اچھا ہے۔ ☹️

اللہ کے بندے۔۔۔

15,381 просмотров • 1 месяц назад

بلوچ قوم! جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن بڑی “بہادری” سے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ “بہادری” سے رات کے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے۔ آج وہ چھوٹے بچوں کو بھی جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے، اور خواتین کو بھی جبری طور پر لاپتہ کر رہا ہے۔ اس سب کی وجہ ہماری خاموشی ہے۔جب دشمن یہ دیکھتا ہے کہ ہم خوف کا شکار ہو چکے ہیں، تو وہ اور زیادہ بہادر بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔اپنی نسلوں کی حفاظت اور اپنے لوگوں کو بچانے کا ہمارے سوا کوئی آسرا نہیں۔ہمیں خود آگے آنا ہوگا، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ان کے عزیز جبری طور پر لاپتہ کیے جائیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔ وہ آگے آئیں، اور ظلم کے خلاف بولیں۔اور ہم پورے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔ کل بیسیمہ میں ماہ جبین بلوچ کی رہائی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ہم بیسیمہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔اور ہم اپنے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ظلم صرف ایک گھر تک محدود نہیں،، یہ ظلم ہم سب کو ختم کر دے گی لیکن خاموشی کا جو داغ ہم پر لگ جائے گا، وہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔ آگے آئیں… اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں! #ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

39,753 просмотров • 1 год назад

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 просмотров • 5 месяцев назад

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,447 просмотров • 12 дней назад

کسی بھی ملک میں دہشت گردی ہو پاکستان ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف کھڑا رہا ہے جو واقعہ پیش افسوسناک ہے بھارت کے اپنے شہری پوچھ رہے سری نگر میں تعینات 7 لاکھ فوج کی موجودگی میں یہ حملہ کیسے ہو گیا؟ وہ پوچھ رہے ہیں جو پہلے حملے ہوئے ان کی رپورٹیں کہاں ہیں؟ بھارتی شہری اپنی ہی حکومت پر سوالات اٹھارہے ہیں یہ ایک فالس فلیگ ہے اور ہمیشہ کی طرح ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے یہ بزدلی کا مظاہرہ بھارت ہمیشہ کرتا ہے اور کر رہا ہے اس کا الزام وہ پاکستان پہ ڈال رہا ہے میں نے سنا ہے کوئی گیدڑ بھپکیاں بھی دی جا رہی ہیں میں تو صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری چائے ہے بہت اچھی لیکن ہم ہر دفعہ چائے نہیں پلایا کرتے ایک آدھی دفعہ کوئی مہمان آئے تو اس کو چائے پلا دیتے ہیں لیکن اس کے بعد اگر مہمان زیادہ ہوں تو اس کا جواب پاکستان کی فوج کو پاکستان اور عوام کو بہت اچھے سے دینا آتا ہے اس قسم کے فالس فلیگ کو بنیاد بنا کر اگر بھارت کسی بھی قسم کی کسی ایڈونچر کا سوچ رہا ہے میں ان کو خبردار کرنا چاہتی ہوں پہلے بھی الحمدللہ پاکستان نے بھارت کو ہر دفعہ دھول چٹائی ہے پچھلی دفعہ ہم نے چائے پلا کے بھیجا تھا اس دفعہ ہم سے شاید اتنی مروت نہ ہوگی

Azma Zahid Bokhari

36,184 просмотров • 1 год назад

"پشتون بہت باوقار لوگ ہیں، بہت کشادہ دل رکھتے ہیں، درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسا نہ بولیں، ایسا نہ بولیں۔ یہ بہت برا کام ہے، یہ بہت خطرناک کام ہے۔ اس حوالے سے میں نے بہت پختہ ارادہ کیا ہوا ہے۔ ​ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ کیوں لیتا ہے، مولوی صاحب؟ کیوں ایک شخص 40 سال بعد اپنے باپ کا بدلہ لیتا ہے اور تلوار نکال کر وار کرتا ہے؟ یہ بہت برا کام ہے۔ یہ باتیں وہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس کو اتنا آسان مت سمجھیں کہ آپ نے کسی کو مار دیا اور وہ بھول جائیں گے۔ ​اس کا حساب ہم لیں گے، خدا کی قسم، انشاءاللہ الرحمٰن۔ ہم اس کا حساب لیں گے اور قرآن شریف کی رو سے لیں گے۔ پشتونوں کی روایات اور جرگہ کی رو سے لیں گے۔ عزیزان! ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، برا نہیں کریں گے۔ ہمارے ساتھ جو برا ہوا ہے ہم اسے معاف کر دیں گے۔ ہم کسی کے ساتھ برا نہیں کریں گے۔ ​لیکن اب ہم اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب ہم تمام پشتونوں کے مشورے سے آگے بڑھیں گے۔ تمام پشتونوں سے، یہ پشتونوں کے مشورے سے ہوگا۔ ہم تمام پشتونوں سے مشورہ کریں گے۔ پشتون ہر جگہ موجود ہیں۔ جنہوں نے گولیاں چلائی ہیں... ہم نہتے لوگ ہیں۔ ہم نہتے لوگ ہیں عزیزان! ​لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ ہمیں ماریں گے اور پھر وہ ہمارے وطن پر حکمرانی کریں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کہ میرے وطن پر حکمرانی کرنے والا بھی بہادر ہو اور اگر میں نے اپنی باری نہ لی تو میں مسلمان بھی نہیں ہوں، میں پشتون بھی نہیں ہوں۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

33,198 просмотров • 1 месяц назад

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,029 просмотров • 5 месяцев назад

آپ کے پاس 15 دن ہیں اگر اس میں خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو ہم اس لائحہ عمل پہ کام شروع کر دیں گے جو ہم نے طے کر لیا ہے۔ 15 کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا تمام گراونڈ کے ورکرز جو آج خوشحال گڑھ جرگے میں تشریف لائے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ آج کے جرگے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ 26 نومبر 2024 سے لے کر آج تک خان صاحب کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔ ہم لائحہ عمل مانگتے رہے لیکن کبھی ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا اور کبھی دوسرے - نوبت یہاں تک آ گئی کہ خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونا بھی نارملائز کر دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس ملک یعنی عمران خان سے پیار کرتے ہیں وہ اپنے طور پہ خود سے نہ صرف لائحہ عمل دیں بلکہ سب کو کھینچ کر اپنے پیچھے لے کر آئیں۔ پارٹی کے فیصلوں میں گراونڈ ورکرز کی رائے کو شامل نہ کرنا پارٹی کے عہدیداران اور ورکرز کے درمیان عدم اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت پارٹی کی فیصلہ سازی میں ورکرز کی آواز شامل نہ ہونا قبول نہیں۔ ہم ورکرز نے ہمیشہ عہدیداروں اور نمائندوں کی کال پر۔لبیک کہا لیکن افسوس آج کہ جرگے میں پارٹی عہدیداران کا مکمل بائیکاٹ اور ورکرز کو کال کر کر جرگے میں شرکت سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔ تاہم ہمیں اب آپ سے کوئی امید نہیں اور اب فیصلے ہم۔اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں، جسے آنا ہو ساتھ اسے خوش آمدید اور جو اس میں روڑے اٹکائے گا وہ ہوشیار رہے کیونکہ اب خان کی جان پہ بات آ چکی ہے اور ایسے میں ہمارے لئے کوئی عہدہ یا عہدیدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہمارا خان کی رہائی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم۔صرف اسی پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔ اگلے پندرہ دن ہم دن رات ایک کر کے خود کو عمل کے لئے تیار کریں گے یاد رکھیں ہم۔سب عمران خان کے مقروض ہیں اور ہم کبھی خان صاحب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کی قیمت ہمیں کچھ بھی ادا کرنا پڑے۔ ہم۔جیتیں گے کیونکہ ہم۔حق پر ہیں اور ان شاء اللہ خان صاحب کو اس ظالمانہ قید سے آزادی دلوائیں گے۔ نہ۔کوئی بڑا دعوی کرتے ہیں، نہ کوئی بڑھک، صرف اور صرف عمل کر کے دکھائیں گے۔ تیاری پکڑیں۔ اللہ ہم۔سب کا حامی و ناصر ہو اور ہماری رہنمائی فرمائے

Khurram Zeeshan

55,186 просмотров • 4 месяцев назад