Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ڈی جی آئی ایس پی آر کی آئینی ذمہ داری ملک کی سرحدوں کا دفاع اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر مؤقف دینا ہے، مگر بدقسمتی سے وہ خود بار بار سیاست میں مداخلت کرتے نظر آتے ہیں، اور پھر یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ انہیں سیاست...

34,412 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

"ہم نے نفرتوں کو ہوا دی۔ ان نفرتوں کے نتیجے میں، جن سیاسی رہنماؤں سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں، انہیں یا تو پھانسی دے دی جاتی ہے، جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، یا دیگر سزاؤں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آج یہ تمہید اس لیے باندھنی پڑی کہ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے بدترین سیاسی مخالفین کی ماؤں اور بہنوں کا بھی مکمل احترام کرتے ہیں۔ میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں—جس میں تمام جماعتیں بشمول پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین پارٹی، عمران خان اور علامہ صاحب بھی شامل ہیں—کہ ہم اپنے کارکنان اور ذمہ داران کو واضح ہدایت کرتے ہیں کہ جو شخص بھی ہمارے کسی مخالف کی ماں، بہن یا بیٹی کے خلاف کوئی نازیبا بات لکھے گا، ہم اس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ گالی گلوچ کی سیاست نے اس ملک کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، اور ہم دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اسی مثبت رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ آئیں، مل کر پاکستان کو چلائیں اور اسے بچائیں۔ پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ صرف پارلیمنٹ ہو، عدلیہ اپنے دائرہ کار میں مکمل آزاد ہو، اور صحافت پر کوئی پابندی نہ ہو (پیکا جیسے قوانین کا خاتمہ ہو)۔ جہاں تک افواجِ پاکستان کا تعلق ہے، اللہ انہیں دنیا کی بہترین فوج بنائے، لیکن انہیں بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تبھی یہ ملک ترقی کرے گا اور پھلے پھولے گا۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

51,654 görüntüleme • 1 ay önce

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 görüntüleme • 7 ay önce

عمران خان پرنشانے پر کیوں ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو ایک آزاد، خودمختار اور طاقتور ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کا مقصد صرف سیاست میں تبدیلی نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام اداروں کی آزادی اور مضبوطی ہے تاکہ ملک عالمی سطح پر اپنی عزت اور وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔ہم عمران خان کے ساتھ مل کر ایک ایسے پاکستان کی تعمیر چاہتے ہیں جو نہ صرف داخلی طور پر خود مختار ہو، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط مقام رکھتا ہو۔ ملک کے فیصلے خود ملک کے اندر ہوں گے، تو پاکستان دنیا کے ساتھ ایک عزت دار اور باوقار تعلقات قائم کر سکے گا، بجائے اس کے کہ بیرونی طاقتوں کے زیر اثر ہو۔ ہماری سیاست کا محور پاکستان کے سیاسی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ دوسری طرف، پاکستان میں دھاندلی کرنے والے، آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے والے اور احتجاج کا حق چھیننے والے حاکم و مقتدرہ دراصل ملک کی سالمیت اور خودمختاری پر حملہ آور ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف سیاسی کرپشن کو فروغ دیتے ہیں، بلکہ عوام کے حق حکمرانی کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ ایسے عناصر ملک میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں اور اس کے عالمی وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ قوم کو سمجھنا ہوگا کہ اگر ان عناصر کا راستہ روکا جائے اور عوامی فیصلہ سازی کو مضبوط بنایا جائے، تو پاکستان اپنی تقدیر خود بدل سکتا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو

Senator Allama Raja Nasir

21,124 görüntüleme • 1 yıl önce

ا ےآروائی نیوز/ 7 دسمبر 2025 یہ بات واضح ہے کہ آئی ایس پی آر کا جوابی مؤقف بالکل مناسب تھا، کیونکہ اگر کوئی سیاسی جماعت، اس کے کارکن اور اس کے ترجمان ملک اور بیرونِ ملک مسلسل فوج کو نشانہ بناتے رہیں تو ایک نہ ایک دن ادارے کا صبر بھی ختم ہو جاتا ہے۔ طاقت کے حصول کے لیے انسان گھٹنے ٹیک دیتا ہے اور گدھے کو بھی باپ بنا لیتا ہے۔ ایسے رویّوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔گزشتہ ایک دو برسوں میں پی ٹی آئی نے شہداء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تک نہیں کیا، نہ ہی وہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ جب صورتحال یہ ہو تو ڈی جی آئی ایس پی آر کیوں جواب نہ دیں؟ انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ ایسے بیانیوں کا جواب دیں جو اداروں کو کمزور کرتے ہوں۔اگرچہ ہمارے درمیان کئی اختلافات اور تنازعے موجود ہیں، لیکن دہشت گردی کے مسئلے پر پوری قوم کو متحد رہنا چاہیے۔ اگر پی ٹی آئی اس واحد قومی ایجنڈے، پاکستان کی سلامتی اور قومی خود مختاری، پر بھی متفق نہیں ہوتی، تو پھر کسی اور معاملے پر اتفاق ممکن ہی نہیں۔ دہشت گرد اس ملک کے دشمن ہیں، وہ مسلسل ہمارے جوانوں اور افسران کو نشانہ بنا رہے ہیں؛ ایسے عناصر سے بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ اس کے باوجود وہ شخص جو صرف طاقت، اقتدار اور اختیار کی بات کرتا ہے، اس نے آج تک دہشت گردی کے خلاف ایک واضح لفظ تک نہیں کہا۔یہ بحث کہ کس کو جواب دینا چاہیے اور کس کو نہیں، اب ختم ہو جانی چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ جب ایک ایسا شخص، جو ملک کا وزیرِ اعظم رہ چکا ہے اور خود کو سب سے مقبول قرار دیتا ہے، پھر بھی دہشت گردی کی مذمت کے لیے تیار نہیں، تو ہر اُس فرد اور ادارے کو جواب دینا چاہیے جو اس بیانیے کا نشانہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی دشتگردوں کو اسی نے ماضی میں یہاں جگہ دی تھی۔*

Khawaja M. Asif

16,043 görüntüleme • 9 ay önce

سینیئر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ایک مذہبی جماعت کے سربراہ ہیں، مگر ان کی پہچان صرف ایک مسلک یا جماعت تک محدود نہیں۔ ان کی زبان سے ہمیشہ تمام مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور انسانوں کو جوڑنے کی بات سننے کو ملتی ہے۔ وہ آئین، جمہوریت اور پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور مسلسل اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ ملک کے مسائل کا حل تشدد میں نہیں بلکہ مکالمے اور بات چیت میں ہے۔ ان کی سوچ میں امن، برداشت اور قانون کی حکمرانی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ان کی زندگی کا ایک گہرا دکھ ان کے ساتھ جڑا ہے۔ ان کے والد محترم صرف چالیس برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، اور کہا جاتا ہے کہ 1971 میں پاکستان کے ٹوٹنے کا صدمہ وہ برداشت نہ کر سکے۔ یہی تاریخی زخم آج بھی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے دل میں تازہ ہے۔ وہ بار بار خبردار کرتے ہیں کہ ظلم، ناانصافی، لاقانونیت اور آئین پر بار بار وار اس ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار ٹوٹا ہوا پاکستان قوم کو پہلے ہی بے پناہ دکھ دے چکا ہے، اب مزید ایسے صدمات برداشت کرنا مشکل ہوگا۔ ان کے نزدیک راستے لاٹھی اور گولی سے نہیں بلکہ بات چیت، مفاہمت اور سیاسی شعور سے کھلتے ہیں۔ وہ واضح انداز میں کہتے ہیں کہ جتنا آوازوں کو دبایا جائے گا، اتنا ہی اس کا نقصان ملک اور معاشرے کو ہوگا، کیونکہ طاقت سے خاموشی تو مسلط کی جا سکتی ہے مگر دلوں کو جوڑا نہیں جا سکتا۔ Senator Allama Raja Nasir

Harmeet Singh

27,779 görüntüleme • 9 ay önce

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,708 görüntüleme • 8 ay önce

سہیل آفریدی کا بیان کہ افغانستان پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے تو اس کے ثبوت کیا ہیں انتہائی افسوسناک ہے وزیراعلی خیبرپختونخوا کو کیا ثبوت چاہیے؟ دوحا،استنبول میں ہونےوالےمذاکرات میں افغانستان نےانکارنہیں کیا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی نہیں ہورہی کیا وزیراعلیٰ کے پی کو افواج پاکستان کےافسران، جوانوں، سویلین افراد کی شہادتیں نظر نہیں آرہیں ہیں ایف سی ہیڈ کوارٹرز ، پولیس اور دیگر اداروں پر حملے ہورہے ہیں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری ملوث نکلتے ہیں اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس میں خودکش حملہ کرنے والے کا تعلق بھی افغانستان سے ہے پاکستان افغانستان کا ہمیشہ سے حامی ملک رہا ہے اور آج بھی ہے کوئی بھی ملک اپنی داخلی سلامتی کی قیمت پر تعلقات نہیں بناتا پاکستان کی سلامتی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے ہم قومی سلامتی کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری ادا کریں گے افغان حکومت یقینی بنائے کہ افغانستان کی سرزمین، پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو کوئی دہشتگرد تنظیم افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کارروائیاں کرے گی تو اس کی سرکوبی کریں گے افغانستان کو پیغام ہے کہ دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل بند کرے

Dr. Tariq Fazal Ch.

14,024 görüntüleme • 8 ay önce

گلگت بلتستان میں جنید اکبر کی گرفتاری، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا پیغام پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ٹیم، جس کی قیادت جنید اکبر صاحب کر رہے تھے، کو کل ورکرز اور عوام نے شاندار استقبال کیا، جس سے پورے علاقے میں تحریک انصاف کا ایک نیا سیاسی مومنٹم پیدا ہوا۔افسوس کے ساتھ آج انہیں غذر میں داخلے سے روکا گیا اور بعد ازاں واپسی کے دوران مبینہ طور پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ چیف الیکشن کمشنر کا انتظامیہ نام بتا رہی ہے اور ہمیں تو پتہ ہی ہے چیف الیکشن کمشنر نے ہمیشہ سے ہی بتایا کہ پچھلے جتنے بھی واقعات ہیں جن وقت بند کمرے میں ہوتے تو وہ کہتے ہیں ایجنسیز سے ہم مجبور ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، عمران خان کی قیادت میں، ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ ہم نہ کسی ادارے کے خلاف ہیں اور نہ ہی تصادم چاہتے ہیں، بلکہ صرف شفافیت، انصاف اور جمہوری اصولوں کی بالادستی کے حامی ہیں۔ تمام ورکرز سے گزارش ہے کہ وہ پُرامن رہیں، نظم و ضبط قائم رکھیں اور اپنے سیاسی و جمہوری حقوق کے لیے آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں۔

Muhammad Khalid Khurshid Khan

41,074 görüntüleme • 3 ay önce

جب یہ حقیقت سامنے آ جائے کہ یہ ظلم ہے جب کوئی حکمران اپنی ہی قوم کو خوفزدہ کرے تو ایسی حکومت کو جائز نہیں کہا جا سکتا ایک ایسا نظام جو چوری شدہ ووٹوں پر کھڑا ہو اور جبر کے زور پر چلایا جائے دنیا کو اسے قبول نہیں کرنا چاہیے پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کوئی چھپی ہوئی بات نہیں لاکھوں ثبوت اور مناظر اس سچ کو ظاہر کر رہے ہیں جمہوری ملک دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ جمہوریت کے نگہبان ہیں مگر اکثر اپنے مفاد کے لیے آمریت کا ساتھ دیتے ہیں یہ نہ صرف جمہوری اصولوں سے بے وفائی ہے بلکہ اُن قوموں سے بھی غداری ہے جو آزادی اور انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہیں ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ اصل تبدیلی اندر سے آتی ہے لیکن جب دنیا ایک ناجائز حکومت کو تسلیم کرتی ہے تو یہ عمل ظالموں کو طاقت دیتا ہے اور عوام کو کمزور کر دیتا ہے ہمارے قدرتی خزانے ہماری کانیں اور معدنیات وہ لوگ سستے داموں غیر ملکی طاقتوں کو بیچ رہے ہیں جنہیں عوام کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں جب آپ آمروں سے سودے کرتے ہیں تو وہ قوم کی دولت کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ ڈالتے ہیں اور قوم کو محروم کر دیتے ہیں دنیا کو آمریت سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے بلکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کا ساتھ دے اُن کا نہیں جو زبردستی اور خاموشی مسلط کرتے ہیں یہ میرا پاکستانی ہونے کے ناطے ایمان ہے علیمہ خانم

Agha Sheikh Sarwar

14,439 görüntüleme • 1 yıl önce