Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

تحریکِ انصاف کو ڈیجیٹل میڈیا کا کنگ سمجھا جاتا ہے، لیکن لاہور کی تنظیم میں صورتحال خاصی دلچسپ دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسے شخص کو انفارمیشن سیکرٹری لاہور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کا نہ ایکس پر اکاؤنٹ ہے اور نہ فیس بک پر کوئی فعال موجودگی۔مزید...

20,704 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

رات ایک پروگرام میں موصوف شیر افضل مروت صاحب بھی کسی کی چابی بن کر مجھ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پارٹی میں اندرونی معاملات پر بطور عہدیدار نہ بات کروں۔ لیکن اس شخص کا ہمیشہ سے مخصوص ایجنڈا رہا ہے اور اندرونی طور پر میں نے ہمیشہ اس کو رانگ نمبر کہا کہ یہ نوسر باز ہے اور مخصوص ایجنڈا کے تحت مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ میں تو حقیر سا ورکر ہوں اس شخص کو سب سے پہلے Azhar Mashwani سے مسئلہ تھا جس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں جو شادی کے دوسرے ہفتے اٹھایا گیا جس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی گئی، پھر اس نے عمران خان صاحب کے خاندان خاص کر Aleema Khanum آپا پر مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے ان پر بھی اس کو اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک چلنے لگتی ہے یا کوئی ہلچل ہونے لگتی ہے تو چابی والا بندر میدان میں آ جاتا ہے پھر Intazar Hussain Panjutha پر بھی اعتراض ہے اس کو۔ جو ظلم انتظار پنجوتہ صاحب کے ساتھ ہوا ہے کیا وہ سارے پاکستان نے نہیں دیکھا اس لیے یہ پاگل ہو چکا ہے ہے اور جو پیچھے سے پرچی پر لکھ کر دیا جاتا ہے یہ اردلی کا کردار ادا کرتا ہے۔ میری پارٹی کے لیڈران سے گزارش ہے کہ جس پروگرام میں یہ شخص بھیجا جاتا ہے اس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ ان کی اہمیت صرف اس پٹاخے کی ہے جو چل چکا ہے اور اب صرف اس کی واحد جگہ کوڑے دان کا ہے

Ehsan Toor

11,345 просмотров • 1 год назад

ایک ایسے معاہدے پر ہم جشن منا رہے ہیں کہ جس کی تفصیلات کا حکومت پاکستان کو علم ہی نہیں ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب معاہدے کا نہیں پتہ کہ یہ دراصل ہے کیا، وفاقی کابینہ کو معاہدے کا نہیں پتہ، حکومتی وزراء سے بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ اس معاہدے میں کیا لکھا ہوا ہے، حکومتی چینلز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس معاہدے کو آپ نے مذہبی رنگ نہیں دینا یعنی قوم کو کچھ اور بتانا چاہتے ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا کوئی اسلامی اتحاد نہیں بن رہا نہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ NATO طرز کا کوئی اتحاد ہے اور نہ اس میں یہ تاثر جانا چاہیے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کہیں ترکی یا سعودی عرب کے کام آ سکتی ہے، حکومتی کنٹرولڈ میڈیا کو خاص طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ آپ نے اس طرف نہیں جانے دینا، کسی کو بھی نہیں پتہ کہ یہ معاہدہ ہے کیا، ایک انڈرسٹینڈنگ یہ ہے کہ شاید یہ معاہدہ دہشتگردی کے خلاف ہے کیونکہ تینوں ممالک اپنے کو دھشتگردی سے متاثرہ قرار دیتے ہیں، درحقیقت یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب ایک دھشتگرد تنظیم سمجھتا ہے اور انہیں حوثی باغی کہا جاتا ہے تو ان کے خلاف ایک مشترکہ فوجی محاذ کھڑا ہو گا، لیکن کابینہ اور پارلیمان کو معاہدے کی تفصیلات نہ بتانا بہت بڑی غفلت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کابینہ اور پارلیمان کے بغیر کیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کہتا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں تو کیا سعودی عرب نے افغانستان کے ساتھ جنگ کو اپنے ملک پر حملہ قرار دیا؟ کٹھ پُتلی پارلیمنٹ فارم 47 پر بنی ہوئی ہے اور اردلی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اتنی اوقات اور سکت نہیں ہے کہ عاصم منیر سے کہہ سکے کہ ہمیں کم از کم پارلیمان سے یہ معاہدہ گزارنے اور منظور کرانے دو۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

18,165 просмотров • 1 месяц назад

میں پاکستان کا ایک شہری ہوں اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ پراپیگنڈا ایک آرٹ بھی ہے اور سائنس بھی ۔ آپ جس طرح کی بچگانہ حرکت کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو نہ آرٹ آتا ہے اور نہ ہی سائنس۔ مجھے بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ لاہور میں ایک کور کمانڈر ہاؤس ہاؤس ہے جس کو قائد اعظم نے خریدا اور اور پھر بیچ دیا اور ایک دن بھی اس گھر میں نہیں رہے اور آپ نے “قائد ہاؤس ، قائد ہاؤس” پراپیگنڈا شروع کر دیا۔ آپ کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس سوشل میڈیا پر مکمل پابندی لگانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ سب کچھ کر کے اپنے لیے نفرت نہ پھیلائیں آپ ہم میں سے ہیں ایسا نہ کریں کہ عوام آپ سے نفرت کرنے لگے۔ جس فوج سے عوام نفرت کرتی ہے وہ جنگ نہیں لڑ سکتی۔ آپ وہ کریں جس سے آپ کی عزت محسوس رہےجس میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور پاکستان مضبوط رہے نعیم بخاری کا ایک بار پھر بہترین تجزیہ #آزادی_خان_کے_سنگ

Tehreek-e-Insaf

97,506 просмотров • 2 лет назад

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

138,270 просмотров • 23 дней назад

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 просмотров • 7 месяцев назад

کے پی کے ہاؤس اسلام آباد عالمی میڈیا سے عمران خان کے عدالتی فیصلوں اور ان کی صحت سے متعلق گفتگو حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

11,597 просмотров • 22 дней назад

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 просмотров • 1 месяц назад

السلام علیکم یہ کوئی سیاسی بیان نہیں ہے۔ یہ کسی ملک، ادارے، حکومت یا مذہب کے خلاف نہیں ہے۔ یہ صرف میرے والد کی زندگی کی بات ہے — ان کی صحت، اور یہ کہ انہیں عزت کے ساتھ علاج کا حق دیا جائے۔ کیا آپ کا ضمیر ابھی زندہ ہے؟ میرے والد، شبیر احمد شاہ، نے اپنی زندگی کے 38 سال جیل میں گزارے۔ نہ کوئی سزا سنائی گئی، نہ کوئی انصاف ملا۔ آج وہ شدید بیمار ہیں۔ کئی سرجریاں تجویز ہو چکی ہیں۔ لیکن نہ مناسب علاج دستیاب ہے، نہ میڈیکل رپورٹس تک رسائی، اور پچھلے دو سال سے ایک کال بھی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی — جو ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ ہم، ان کے اہلِ خانہ، ان سے مکمل طور پر دور رکھے گئے ہیں۔ میں نے اپنے والد کو خاموش دیواروں، لوہے کی سلاخوں، اور بند مائیکروفونز کے پیچھے بے بسی سے تڑپتے دیکھا ہے۔ ہم انہیں چھو بھی نہیں سکتے۔ مجھے پہلے غلط سمجھا گیا۔ ایک بیٹی کی حیثیت سے بولنا کسی اور انداز میں لیا گیا۔ اس غلط فہمی کا گہرا اثر میری والدہ اور بڑی بہن پر بھی پڑا۔ لیکن کب تک کوئی خاموش رہ سکتا ہے جب اُس کا باپ اس حال میں ہو؟ یہ ایک بیٹی کی فریاد ہے — ہمدردی کے لیے، انصاف کے لیے، اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کے لیے۔ اگر آپ کا دل ابھی بھی دھڑکتا ہے — تو میری بات سنیں۔ اگر انصاف کا کوئی مطلب باقی ہے — تو وہ اب بولے، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔ کیونکہ اگر اس بار بھی خاموشی جیت گئی، تو یاد رکھیں: آپ کو بتایا گیا تھا۔ آپ جانتے تھے۔ اور آپ نے پھر بھی آنکھیں چرا لیں۔ #FreeShabirShah #ShabirShah Office of Chief Minister, J&K Amnesty International United Nations PMO India Office of LG J&K गृहमंत्री कार्यालय, HMO India

Sehar Shabir Shah

21,762 просмотров • 1 год назад