Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ڈی چوک میں قتل عام ہوا اس کیس میں بیرسٹر گوہر کا بطور گواہ نام ڈالا گیا تھا لیکن وہ گواہی دینے گئے ہی نہیں، اس سے بڑی سہولت کاری اور کیا ہو گی، عمران ریاض خان

21,446 Aufrufe • vor 1 Monat •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے کہا گیا کہ فیملی کی طرف سے کسی ایک ڈاکٹر کا نام دیدیں کہ وہ اۤئیں اور اس پروسیجر میں شامل ہوجائیں۔ بیرسٹر گوہر نے اچکزئی صاحب کو بتایا۔ اچکزئی صاحب نے علیمہ خان سے رابطہ کیا۔ علیمہ خان صاحبہ نے ڈاکٹر عظمیٰ کا نام دیا۔ جنہوں نے رابطہ کیا تھا وہاں سے یہ نام مسترد کر دیا گیا۔ علیمہ خان نے دوسرا نام ڈاکٹر نوشیروان برکی کا دیدیا۔ یہ بھی مسترد ہوگیا۔ اسکے بعد بیرسٹر گوہر صاحب، اچکزئی صاحب، سلمان اکرم راجا صاحب نے اۤپس میں مشاورت کرکے خود ہی قاسم زمان صاحب کا نام دیدیا۔ قاسم زمان سے بھی نہیں پوچھا۔ جب قاسم زمان صاحب سے رابطہ کرکے کہا گیا کہ جائیں اڈیالہ تو انہوں نے کہا:"میں تو ڈاکٹر ہی نہیں ہوں۔ مجھے کیا پتہ کہ وہاں کیا ہورہا ہوگا۔۔یہ تو بڑی بھاری ذمہ داری مجھ پر عائد ہوجائے گی۔ میں تو جاونگا ہی نہیں۔" یوں دو نام جو فیملی کی طرف سے دیئے گئے وہ وہاں سے مسترد ہوگئے اور ایک نام جو قبول کیا گیا انہوں نے خود ہی جانے سے انکار کر دیا: اسداللہ خان Asad Ullah Khan

Kismat Khan

77,895 Aufrufe • vor 7 Monaten

🚨🚨 بریکینگ نیوز : حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات, اندر کی کہانی بتادی.!!!!🔥🔥🛑🛑🛑 جب محسن نقوی آٹھ دس دن پہلے بیرسٹر گوہر کی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کیلئے ان کے گھر گئے تھے, تو وہاں پر بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی سے یہ بات کی کہ عمران خان کی طبیعت کافی خراب ہے, تو کم از کم انہیں ہاسپٹل شفٹ کیا جائے ۔ تو محسن نقوی نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے, ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے, آپ عدالت کا راستہ اختیار کریں, ۔ عدالت اگر حکم دیدے گی ۔ تو ہم اس پر عمل کرینگے ۔اور پھر اس کے بعد پی ٹی آئی نے عدالت میں پٹیشن دائر کی, اور اس پر عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ۔ اس پر محسن نقوی بیرسٹر گوہر سے پورے رابطے میں تھے ۔ اور جس رات عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لایا گیا تھا, تو اس رات بھی محسن نقوی کا بیرسٹر سے رابطہ تھا ۔اور بیرسٹر گوہر کو آٹھ بجے ہی یہ اطلاع دیدی گئی تھی, کہ عمران خان کو شفاء میں ہی لایا جا رہا ہے ۔ لیکن پھر اس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ہماری جو ریویو پٹیشن ہے ۔ اس میں ہم نے کہا ہے کہ عمران خان کو پرائیوٹ ہسپتال نہیں لے جایا جاسکتا ۔ انکو سرکاری ہسپتال میں لے جایا جائے ۔اور پھر شفاء کے باہر کچھ لوگ اکٹھے ہوگئے, جس کو بہانہ بنا کر وہ عمران خان کو پمز لے گئے ۔تو اس پر میرا خیال ہے کہ محسن نقوی کا نام اس لئے شامل نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ یہ سمجھتی ہے کہ محسن نقوی نے ہماری درخواست پر عمران خان کو جیل سے ہاسپٹل لانے کا جو عمل تھا ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ تو ہو سکتا ہے, آئیندہ بھی وہ رکاوٹ نہ ڈالیں تو اس لئے انکا نام توہین عدالت کی درخواست میں نہیں ڈالا گیا ۔ حامد میر 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

242,488 Aufrufe • vor 27 Tagen