Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کاروبار ہوجائے گا، بچہ کہاں سے لائیں گے کسی بڑے آدمی کا بچہ ہوتا تو قانون بدل جاتا، ہیلی کاپٹر آجاتے، دکاندار پھٹ پڑے #ARYNews #Karachi #BreakingNews #GulPlaza

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ہر بندہ قافلے دیکھ کے خوش ہے مگر ابھی ایک بہت بڑی مار پڑے گی ہمیں۔ سائیکولوجیکلی تیار ہوجائیں۔ ورنہ گھبرا جائیں گے جب یہ بے غیرت نظام ایک آخری دفعہ بھیانک بھیڑیوں کی طرح ٹوٹے گا ہم پے۔کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ جو نظام 70 سال سے اندھی طاقت کا نشئی ہے، جس طبقے کو اپنی عیاشیوں کی آخر موت نظر آرہی ہے، وہ خاموشی سے چلا جائے گا؟ بہت، بہت کم چانس ہے۔ 🔶 اسلام آباد داخل ہوتے ہی ان کے کے ٹوٹ پڑنے کا چانس ہے۔ گنز لاٹھیاں ٹئیر گیس، شیلنگ، ڈرون، نامعلوم غنڈے، آگ اور پانی، سب استعمال کرسکتے ہیں۔ ذہن تیار کرلیں، تاکہ سرپرائز نہ ہوں۔ 🔶ایک بڑی مار کھانی پڑے گی۔ اگر ہم کھا گئے، اور کھڑے رہے، تو ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔ عمران خان باہر بھی آئے گا وزیر اعظم بھی بنے گا ہم عظیم قوم بھی۔ 🔶اگر مار نے ہمارا حوصلہ توڑ دیا، تو عمران خان کو چھوڑیں جو حشر یہ کل سے نکلے ہوئے لوگوں کا کریں گے اندازہ نہیں کسی کو۔ 🔴اگر آپ چاہتے ہیں کہ حوصلہ نہ ٹوٹے، تو اپنا ذہن تیار کرلیں۔ پہلے سے سوچا ہوکہ برا ہوگا تو جب ہوتا ہے برا تب اتنا اثر نہیں ہوتا بندے کو۔ جیت پکی ہے۔ لیکن تیاری پوری کریں ایاک نعبدو وایاک نستعین اللّٰہ تیرے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے

Bilal Ansar Khan

284,569 Aufrufe • vor 1 Jahr

12 بجے زیارت سانحے میں ان لوگوں نے اپنے افسران کو کہا کہ ہماری گولیاں ختم ہو رہی ہیں، لوگ زیادہ ہیں، خدا کے لیے ہم تک مدد پہنچائیں۔ پانچ بجے تک وہ محنت کرتے رہے، پانچ بجے کے بعد انہوں نے اپنے عزیزوں کو ٹیلی فون کیا کہ ہم بالکل بے بس ہو گئے ہیں، مہربانی کریں، اگر وہ نہیں آتے تو آپ مہربانی کریں اور کچھ امداد پہنچائیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب! کسی شریف آدمی کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا یا کسی کو تو نوکری سے نکال دینا چاہیے تھا۔ بس انسان ہیں، مرتے رہیں گے اور آپ بس 'پاکستان زندہ باد' کہتے رہیں گے، پاکستان اس طرح زندہ باد نہیں ہو گا۔ پاکستان بہت بڑی بربادی کی طرف چلا جائے گا۔ ہم اپنی افواج اور اپنی ایجنسیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جو آئین کا حلف آپ نے اٹھایا ہے اس کا آپ خیال رکھیں، جو ہم نے اٹھایا ہے ہم اس کا خیال رکھیں گے۔ سپاہی سے لے کر جرنیل تک، ان کا حلف یہ ہوتا ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ اپنے حلف کا خیال رکھیں، پاکستان بچ جائے گا۔ محمود خان اچکزئی Mehmood Khan Achakzai

PTI

108,396 Aufrufe • vor 1 Monat

پاکستان میں صحت کا مسئلہ صرف ہسپتالوں کا نہیں، پورے سسٹم کا ہے — خاص طور پر وہ سسٹم جو گلی کے نکڑ پر دودھ کے ڈبے سے شروع ہوتا ہے۔ آج بھی اگر پاکستان جاؤ تو ایسے ایسے سائنسی تجربات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ Albert Einstein بھی قبر میں کروٹ بدل لے۔ منظر کچھ یوں ہوتا ہے: دودھ کے کین کا ڈھکن بڑے وقار سے کھولا جاتا ہے۔ اوپر رکھی تُوڑی نکال کر ایسے پھینکی جاتی ہے جیسے یہ کسی خفیہ تجربے کا حصہ ہو۔ پھر ایک “ماہرِ دودھیات” اپنی آستین چڑھاتا ہے، اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پوری بازو دودھ کے اندر ڈال کر باہر نکالتا ہے… اور پھر چہرے پر سنجیدگی لا کر اعلان کرتا ہے: ہاں جی، بلکل فِٹ ہے! اس کے بعد اگلا مرحلہ شروع ہوتا ہے — فلٹریشن ٹیکنالوجی کا۔ ایک سٹیل کے ٹب کے اوپر جالی والا کپڑا رکھا جاتا ہے، اور دودھ کو اس میں انڈیلا جاتا ہے۔ چھانتے ہوئے کپڑے پر تنکے، کیڑے، مکھیاں جمع ہو جاتی ہیں… جبکہ کچھ “بہادر سپاہی” دودھ کے ساتھ ہی اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ شاید وہ بھی غذائیت بڑھانے کے مشن پر ہوں۔ اور اگر قسمت سے کسی خریدار کو ٹب میں تیرتی ہوئی مکھی نظر آ جائے تو دکاندار بڑے سکون سے اسے انگلی سے پکڑ کر دیوار پر یوں چپکا دیتا ہے جیسے کوئی آرٹ انسٹالیشن لگا رہا ہو۔ اس کے بعد وہی جملہ: ہاں جی، بلکل صاف ہے! - - مزے کی بات یہ ہے کہ یہی دودھ لوگ بڑے فخر سے خریدتے ہیں، اور ساتھ ایک فلسفیانہ جملہ لازمی دیتے ہیں: بھائی ڈبے والا دودھ تو کیمیکل ہوتا ہے… - - یعنی ایک طرف وہ دودھ ہے جس میں مکھی، تنکے اور “ماہر کی بازو” شامل ہے، اور دوسری طرف وہ دودھ ہے جو مشینوں سے گزرا ہے… مگر ہمارے نزدیک قدرتی وہی ہے جس میں کچھ نہ کچھ تیرتا ہوا ضرور ہو۔ بس یہی وہ لیول ہے جہاں صحت نہیں بنتی، بلکہ “ایمیونٹی ٹریننگ پروگرام” چل رہا ہوتا ہے 😄

Mansoor | Mr. Hide - Rebirth

40,478 Aufrufe • vor 4 Monaten

کریم آباد بے مقصد کھنڈر پاس کی اصلیت. کوالٹی انتہائی خراب، دیواروں سے لے کر سڑک کی کوالٹی تھرڈکلاس ہے... اگر ایک عام آدمی کسی چلتے پھرتے ٹھیکیدار سے بھی بنواتا تو زیادہ اچھا بنا لیتا. کرپشن اور نااہلی کا شاہکار یہ انڈر پاس بنا کسی ضرورت کے بنایا گیا یے حسین آباد کی جانب سے جہاں سے یہ شروع ہو رہا ہے وہاں اب سائیڈز میں صرف ایک لین رہ گئی ہے اور یہ ہی ایک لین کریم آباد تک جا رہی ہے یعنی سائیڈوں میں موجود دکان داروں کا کاروبار مکمل تباہ ہو گیا ہے، انڈر پاس سے ضیاالدین کی طرف نکلنے پر روڈ ہی نہیں ہے اور ناجائیز تجاوزات کی بھرمار ہے جو بھی ٹریفک یہاں سے نکلے گا وہ موسی کالونی پر بری طرح پھنسے گا اسکے بعد تھوڑا آگے ضیاء الدین کینسر اسپتال کے موڑ پر پھنسے گا... حسین آباد عثمان میموریل اسپتال سے کریم آباد اور پھر ضیاءالدین تک مسلہ صرف غیرقانونی تجاوزات کا تھا اور اب بھی ہے یہاں کسی انڈرپاس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی. صاف محسوس ہوتا ہے کہ محض کسی کو نوازنے کے لئے یہ زبردستی کا کام نکالا گیا، تاکہ وہ قوم کا پیسہ ڈکار سکے اور اس نے بھی بجٹ پر قناعت نہیں کی 4 سال پروجیکٹ کو لٹکایا اور بجٹ کا بھی 4 گنا مذید کھا گیا اور یہ کچرہ بنایا ہے.

ٹوٹ بٹوٹ

10,802 Aufrufe • vor 3 Monaten

اس مختصر ویڈیو میں آپ دیکھتے ہیں کہ قطبی ریچھ جب پتلی برف پر پہنچتا ہے تو وہ اپنے پیٹ کے بل رینگنے لگتا ہے اور جیسے ہی وہ نازک جگہ پار کرتا ہے تو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے اب آپ سوچیں گے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے تو اس کے پیچھے سادہ سی فزکس ہے قانون کہتا ہے کہ دباؤ یعنی پریشر اس قوت پر ہوتا ہے جو کسی سطح پر ڈالی جائے یعنی جتنا وزن ایک جگہ پڑے گا اتنا ہی زیادہ دباؤ ہوگا قطبی ریچھ کا اوسط وزن تقریباً پانچ سو کلوگرام ہوتا ہے اور اس کے پنجے کا سائز تقریباً تیس سینٹی میٹر کا مربع ہوتا ہے اگر وہ سیدھا کھڑا ہو تو سارا وزن صرف چار پنجوں پر آتا ہے جس سے ہر پنجے پر تقریباً ڈیڑھ ٹن فی مربع میٹر دباؤ بنتا ہے اور اتنا زیادہ دباؤ پتلی برف کو توڑ سکتا ہے ریچھ پانی میں گر سکتا ہے لیکن قدرت نے اس کو عقل عطا کی وہ جانتا ہے کہ اگر وہ رینگتا ہوا چلے اور اپنے جسم کو پھیلا کر وزن کو زیادہ جگہ پر تقسیم کرے تو دباؤ کم ہو جاتا ہے اور برف نہیں ٹوٹتی تو وہ آہستہ آہستہ لیٹ کر برف کے اوپر سے گزر جاتا ہے اور جیسے ہی خطرہ ختم ہوتا ہے وہ پھر سیدھا ہو کر چلنے لگتا ہے یہ سب کچھ اس کو کس نے سکھایا نہ اس نے کبھی اسکول دیکھا نہ کوئی فارمولہ پڑھا تو کہنے کو بس ایک ہی بات بنتی ہے سبحان اللہ جس نے ایک جانور کو بھی اپنے علم سے یہ سکھا دیا قطبی ریچھ کو نہ اسکول ملا نہ استاد پھر بھی فزکس کا ماہر نکلا یہ علم نہیں قدرت کی تعلیم ہے #موناسکندر

Moona Sikander

21,558 Aufrufe • vor 1 Jahr