正在加载视频...

视频加载失败

*کراچی میں نیپا چورنگی کے قریب ننھا بچہ ابراہیم کھلے مین ہول میں کیسے گرا؟ دل دہلا دینے والی فوٹیج سامنے آگئی* *🌼سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ ڈپارٹمنٹل اسٹور کے قریب مین ہول موجود تھا جہاں موٹرسائیکل کی پارکنگ تھی، 3 سالہ ابراہیم کا والد موٹرسائیکل...

14,298 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

8 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل!! فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا، چک نمبر 71 ج ب سرلی میں 8 سالہ بچے شکیل کی لاش ایک زیرِ تعمیر اور خالی مکان کے واش روم سے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچہ گزشتہ روز گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا تھا لیکن واپس نہ آیا، جس پر اس کی تلاش شروع کی گئی اور مختلف علاقوں میں اعلانات بھی کروائے گئے۔ بعد ازاں بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے شبے پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی رائے فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کے بعد دی جائے گی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جبکہ شہریوں نے واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ #Faisalabad #FsdTV41 #FaisalabadTV #Thikriwala #CrimeNews #BreakingNews #ChildMurder #Investigation #PunjabPolice #JusticeForChild #PakistanNews

Faisalabad TV

22,695 次观看 • 1 个月前

بنگلہ دیش میں کم عمری کی شادی کا ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف 13 سال کی بچی ماں بننے کے بعد اپنے ہی بچے کی تحویل کے لیے عدالت پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق انامیکا اختر جوئی کی شکیب میا سے فیس بک پر جان پہچان ہوئی۔ شکیب کی عمر 22 سال تھی، جبکہ انامیکا صرف 11 سال کی تھی جب دونوں کی شادی کردی گئی۔ 13 سال کی عمر میں انامیکا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، جس کی عمر اب سات ماہ بتائی گئی ہے۔ چند ماہ بعد مبینہ طور پر شوہر اور ساس نے بچہ اپنے پاس رکھ لیا اور انامیکا کو گھر سے نکال دیا۔ نابالغ ماں نے ڈھاکا لیگل ایڈ آفس میں شکایت درج کرائی اور معاملہ عدالت تک پہنچا۔ جج کے حکم پر پولیس نے بچے کو بازیاب کروا کر ماں کے حوالے کردیا۔ سماعت کے دوران جج نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انامیکا خود ابھی ایک بچی ہے، لیکن وہ ماں بن چکی ہے۔ یہ واقعہ کم عمری کی شادی، بچوں کے تحفظ اور والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق کئی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ #nptv #nptvdigital #nationpulsetv #bangladesh #childmarriage #childprotection #legalrights #worldnews

NPTV Digital

54,694 次观看 • 17 天前

میں کل شادی والے گھر کیوں گیا۔ مجھے پتا چلا بچی کا باپ پریشان ہے ایک زمیندار کی وجہ سے اس نے دو سال پہلے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا جس کو باپ نے انکار کر دیا۔ وجہ وہی 85 سال کا بزرگ 18 سال کی لڑکی سے ہمارے معاشرے میں شادی کرتا ہے تو صرف عیاشی کے لئے کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے پیغام بھیجا تھا کے مین دیکھ لونگا شادی کیسے ہوتی ہے۔ پھر شادی ہو بھی گئی اور وہاں چڑیا نے پر نہین مارا۔ ۔۔ اس ملاح باپ کی بڑی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے دو سال پہلے اس پر الگ سے پوسٹ لکھوں گا کے لوگ کیسے درندے ہین غریب انسان کو بیٹی کی بربادی کے بعد بھی کیسے کیسے لوٹنے کے رستے نکال لیتے ہین۔ مین اس شخص کی زندگی کے بہت سارے پہلو سامنے نہین لا رہا ورنہ معاشرہ اپنے گریبان مین جھانکنے کے قابل نہین رہ جائے گا۔ ۔۔ دوسری وجہ دلہن کے باپ کا کوئی قریبی رشتے دار موجود حیات نہین ہے ۔ تو ہر انسان ایسے موقع پر بار بار ہمت ہارتا ہے۔ میری موجودگی مین دو بار باپ نے منہ پر کپڑا رکھا اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں بار بار۔ پھر مین وہاں 3 لوگ چھوڑ کر ایا۔ ایک واجد کو جس نے دیگوں کا تمام کام ٹینٹ اور تمام گھر سے باہر کے کام سنبھال رکھے تھے۔ جو وڈیو مین بول رہا ہے۔ دوسرا اختر ماچھی اس کے ذمہ کھانا تقسیم کرنا اور روٹی کم نہ ہو جائے وہ سب انتظام تھا۔ پھر وہاں مین بندا جعفر موجود رہا بچی کی رخصتی تک ۔ تاکہ وہاں وہ دھمکی دینے والا کوئی آئے تو میری غیر موجودگی مین وہ خود اس کو سیدھا کرے اس کے دو بندے سائیڈ پر بیٹھے تھے تیار اگر کوئی آئے تو طبعیت فریش کرنے واسطے موقع پر۔ مین بول کر ایا تھا تھانہ کچہری مین دیکھ لوں گا تم لوگوں نے 17 کلومیٹر دور چنیوٹ روڈ تک بارات کو واپس پہنچا کر آنا ہے چاے جو ہو جائے۔ لوگ برے لوگوں سے برا سلوک رکھتے ہین لیکن مین ان سے پیار اس لئے کرتا ہون کے۔ جہاں یہ کسی کی مشکل مین مدد کرتے ہین اور کسی مئن اتنی ہمت نہین ہوتی۔ ۔۔ تندور دیگیں اور تنبو کناتین صبح 6 بجے بندے چنگچئ 4 تھین جن پر لوڈ کر کے نکلے تھے ۔ رستے کی وجہ سے 9 بجے کے قریب 17 کلومیٹر کا رستہ طے ہوا جگہ جگہ چنگچی پھنسے ۔ ہر جگہ اردگرد موجود علاقے کے لوگ کام آئے۔ ۔۔ ایک چیز کھانے مئن بڑھا دی۔ زردے کی دیگ۔ اس کی وجہ تھی دلہن کےباپ نے مجھ سے صبح سویرے بس اتنا بولا مہر علیانہ میرے جوڑے ہاتھ دیکھ لے کچھ میٹھا بھی کر دو میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ مین مجبور ہر گیا تھا اپنے سارے اصول اس ایک شادی کے لئے توڑ دئیے۔ ۔۔ باپ نے ہمارا دیا سامان اپنے پاس واحد پڑی چیز جو سیلاب مین بچ گئی تھی 6 سال پرانی پیٹی ۔ مین سامان رکھ کر دے دیا۔ ۔۔ کیسا باپ ہے۔ اب بیٹی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس بندے کی جھونپڑی میں بس دو چارپائیان چند کھانے پکانے کے برتن 4 چائے والے کپ ایک نلکا پانی والا بچے ہین۔ ۔۔ بارات آنے سے کچھ دیر پہلے شدید اندھیری شروع ہو گئی۔ بارات کے لوگ ویگن مین سے اتر کر ساتھ دھکے لگاتے رہے پھر بھی گھر سے ادھا کلومیٹر دور ویگن والا ڈرائیور جواب دے گیا اس سے آگے گاڑی لے جانا ممکن نہین۔ ۔۔ پھر آندھی اور طوفان شروع ہوا ۔ کھانا کھانے کو جگہ نہ۔ بچئ نکاح ہوتے ہی لڑکی کو ویگن مین بیٹھا دیا گیا۔ دلہا دلہن نے کھانا وہاں بیٹھ کر کھایا۔ تنبو کناتین گر گئیں تیز بارش اور آندھی سے۔ باقی ماندہ لوگ جو جھونپڑی مین بیٹھے تھے خواتین بھی انہوں نے برستی بارش میں وہاں اوپر شاپر اور ٹینٹ اوپر ڈال کر جیسے تیسے بارش والا وقت نکالا۔ کھانا وہیں کھایا۔ ۔۔ 8 بجے بارات رخصت ہوئی ۔ کل اندھی اس قدر تیز تھی کے ہم خود کئی بار واپسی پر موٹر سائیکل سے گرتے گرتے بچے ۔ واجد کا رکشہ کی سیٹیں دور جا گرین ۔ شیشے ٹوٹ گئے ۔ اسکا نقصان آج پورا ہو جائے گا۔ ۔۔ اس شادی نے باقی 153 شادیاں جو آج تک مین کروا چکا ہون سے بلکل الگ احساسات دئیے۔ گھر پہنچ کر دو نفل ادا کئے جب رخصتی ہو گئی مجھے فون ا گیا۔ نصیب رب لکھتا ہے ہم صرف محنت کر سکتے ہین ۔ نتائج کسی انسان کے ہاتھوں میں نہین ہین۔ ۔۔ رخصتی کے وقت سے پہلے دلہن کے پانچ ہزار اس کو پہنچا دئیے اور دلہا کے واجد ہمارے بعد جب بارات آئی تک دے اس نے دلہا کے ہاتھ مین۔ لڑکا بھی ایک مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے۔ کتنا کماتا ہو گا بس زندگی گزرنی ہے اس بچاروں نے۔ یہ دس ہزار ان کو کم سے کم 15 دن گھر پر رہنے کی ہمت دین گے ساتھ ۔ مزدوری پر جانے تک سہارا رہے گا ان کا۔ روٹی پانی کا۔ ۔۔ کھانا بہت اچھا پکا ہوا تھا۔ اور میٹھا مین کھاتا نہیں مجھے شروع سے پسند نہین آج تک مین نے میٹھا دودھ تک نہین پیا تو وہ دوسرے ساتھیوں۔ مبشر اور خان نے بتایا کے اچھا بنا ہوا ہے۔ ۔۔ دعا مین یاد رکھئیے گا جو ہمت تھی جو اوقات تھی وہ کیا ہے اس بندے کے واسطے #SaqibAllyana

Saqib Allyana

10,548 次观看 • 1 个月前

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
2:58

Sensitive content

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔

Saqib Allyana

86,228 次观看 • 1 个月前

ایف آئی اے کے سینئر افسر ڈاکٹر رضوان اور پراسکیوٹر سکندر ذوالقرنین کی سالوں کی محنت رنگ لانے والی تھی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کا ایک ہائی پروفائل منی لانڈرنگ کیس ایکسپوز کیا تھا، بلکہ عدالت میں اس کو بہترین طریقے سے پیش بھی کیا تھا۔ قریب تھا کہ ملزمان پر فرد جرم عائد ہوجاتی، لیکن ایک دن اچانک سکندر ذوالقرنین کی ایک کال آئی جس میں ان کو کہا گیا کہ وہ اگلی سماعت پہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے، کیونکہ ملزمان بہت جلد وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب بننے والے ہیں! جی ہاں یہ کیس کسی اور کے نہیں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف تھا۔ کچھ دن بعد کال کرنے والے کی پیش گوئی کے عین مطابق شہباز شریف وزیر اعظم اور حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے۔ لیکن یہ کالر تھا کون؟ کس نے شہباز شریف کا کیس ختم کرکے ان کو وزیراعظم بنا دیا؟ اور ڈاکٹر رضوان کی موت کن حالات میں ہوئی؟ جانئے اس ویڈیو میں ( مکمل ڈاکیومنٹری کا لنک کمنٹس میں موجود ہے لازمی دیکھیں )

Raftar

61,187 次观看 • 9 个月前

ایک بچہ اپنے باپ کو بہت تنگ کر رہا تھا۔۔باپ پڑھائی میں مصروف تھا اور بچہ مسلسل تنگ کیئے جا رہا تھا۔۔جب منع کرنے کے باوجود بچہ باز نہیں آیا تو باپ کو ایک ترکیب سوجھی۔۔ٹیبل پر اخبار کا ایک ٹکڑا پڑا تھا جس پر دنیا کا نقشہ بنا ہوا تھا۔۔باپ نے اس نقشے کو پھاڑپھوڑ کراسکے ٹکڑے بچے کو دیئے اور کہا کہ اب نقشہ جوڑ کر اور دوبارہ دنیا کا نقشہ بنا کر میرے پاس لے آؤ۔۔والد نے سمجھا کہ اب تین چار گھنٹے بچہ اسے تنگ نہیں کرے گا مگر بچہ15منٹ میں نقشہ بالکل ٹھیک جوڑ کر واپس آگیا۔۔والد نے پوچھا کہ یہ تم نے دس پندرہ منٹ میں کیسے کر لیا؟ بچے نے کہا کہ کاغذ کے دوسری طرف ایک انسان کی تصویر تھی، میں نے اسے جوڑا اور دوسری طرف دنیا کا نقشہ خود بخود جڑ گیا۔۔شہباز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ (ایران،امریکہ)والے معاملات، جو صفحے کی ایک سائیڈ پر ہیں، اسکو اگر ٹھیک کرینگے تو پاکستان کے معاملات، جو صفحے کی دوسری سائیڈ پر ہیں، خود بخود حل ہوجائیں گے۔۔نہیں جناب، یہ معاملات مختلف ہیں۔۔پاکستان کے مسائل خود بخود ٹھیک نہیں ہونگے: اسداللہ خان Asad Ullah Khan

Kismat Khan

56,945 次观看 • 4 个月前

رات 12 بجے کے قریب جب میں ترامڑی چوک میں واقع کوئٹہ آرم باغ کیفے میں چائے پینے کے بعد بل ادا کرنے کے لیے کاؤنٹر پر گیا تو ہوٹل کے مالک امداد خان نے ایک ایسی کہانی سنائی جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا انہوں نے سامنے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ بچہ گزشتہ چار سے پانچ گھنٹوں سے یہاں بیٹھا ہے۔ اس کا باپ کھانا کھانے کے بعد 640 روپے کا بل ادا نہ کر سکا۔ اس نے اپنی گھڑی اتار کر مجھے دی اور کہا کہ میرے پاس اس وقت پیسے نہیں، آپ گھڑی رکھ لیں امداد خان نے بتایا کہ انہوں نے گھڑی لینے سے انکار کیا تو اس شخص نے کہا، “میرا بیٹا یہیں بیٹھا ہے، میں صرف پانچ منٹ میں پیسے لے کر آتا ہوں، پھر بل بھی ادا کر دوں گا اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤں گا مگر وہ پانچ منٹ گھنٹوں میں بدل گئے میں بچے کے پاس گیا اور پوچھا، “بیٹا، آپ کہاں سے ہو؟ آپ کا نام کیا ہے؟ وہ خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ شاید وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے سے گھبرا رہا تھا یا پھر اپنے باپ کے انتظار میں گم تھا کچھ دیر بعد میں نے اس سے صرف ایک سوال کیا، “بیٹا، کھانا کھایا ہے؟ اس نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا آہستہ آہستہ جب وہ کچھ مانوس ہوا تو میں نے دوبارہ اس سے گھر کے بارے میں پوچھا۔ اس بار اس نے اپنے گھر کا پتا بتا دیا پھر میں، امداد خان، ان کے چند دوست اور ان کے بچے، اس معصوم کو اس کے بتائے ہوئے پتے پر چھوڑنے نکل پڑے وہاں پہنچ کر پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ بچے کے والدین الگ الگ رہتے ہیں۔ اس کا والد وقاص خان، جو پیشے کے لحاظ سے پینٹر ہے، ایک گھر کے کرائے کے کچن میں رہائش پذیر ہے اور بچہ بھی اسی کے ساتھ رہتا ہے جب ہم وہاں پہنچے تو وقاص خان گھر پر موجود نہیں تھا۔ کافی انتظار اور تلاش کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔ آخرکار بچے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس کے سب انسپکٹر انور کے حوالے کر دیا گیا تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے والد تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے یہ واقعہ صرف 640 روپے کے ایک بل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے کی تلخ حقیقت ہے جہاں غربت انسان کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کر دیتی ہے جن کا تصور بھی تکلیف دہ ہے۔ ایک معصوم بچہ گھنٹوں اپنے باپ کے انتظار میں خاموش بیٹھا رہا، اور شاید اسے یقین تھا کہ اس کا باپ ضرور واپس آئے گا افسوس اس بات کا ہے کہ اسی ملک میں ایک طرف اشرافیہ اربوں روپے کے نئے جہاز خریدنے میں مصروف ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ملک کے عام لوگ ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے بھی شدید مجبوری کا شکار ہیں۔ جب ریاست کی ترجیحات بدل جائیں تو ایسے ہی دردناک مناظر جنم لیتے ہیں!! صحافی مشرف ضیاف ستی کی تحریر 💔

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

39,719 次观看 • 1 个月前