Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

*کراچی میں نیپا چورنگی کے قریب ننھا بچہ ابراہیم کھلے مین ہول میں کیسے گرا؟ دل دہلا دینے والی فوٹیج سامنے آگئی* *🌼سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا کہ ڈپارٹمنٹل اسٹور کے قریب مین ہول موجود تھا جہاں موٹرسائیکل کی پارکنگ تھی، 3 سالہ ابراہیم کا والد موٹرسائیکل...

14,298 görüntüleme • 10 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

کمرے میں پڑی ایک پیالی جس میں پکی ہوئی دال زمیں پر پڑی تھی جب میں 9 سال کے بچے کے گھر پہنچا اوپر کوئی چیز کھانے کو ڈھانپے والی گھر میں نہ تھی کوئی دوسرا برتن ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پتر تم نے پڑھنا ہے آگے تو بچہ بولا استاد نے 4th کلاس سے فیل کر دیا تھا میٹھائی مانگتا تھا۔ کے تم کو 5th میں تب بیٹھنے دوں گا اگر میٹھائی کے پیسے دو گے ۔ میں نے منت کی کے استاد جی میں غریب ہون میرے پاس کھانے کو روٹی کے پیسے نہین 500 کہاں سے لاون ۔ تو استاد نے فیل کر دیا۔ اس کے بعد مین سکول نہین گیا۔ اس وقت مین صبح سکول جاتا تھا اور اس کے بعد کام پر جاتا تھا ہوٹل پر برتن دھونے۔ ۔۔۔۔۔۔ بچے کو nyctalopia ہے ( سورج کی روشنی جیسے ہی کم ہو انسان اندھا ہو جاتا ہے ) یہ کل اس بچے کے استاد اور والد نے بتایا ۔ بچے کو شام کے بعد کچھ نظر نہیں آتا۔ اس لئے دوکان سے جلد گھر بھیجنا پڑتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ دوکان سے گھر کا فاصلہ گوگل میپ سے چیک کیا اس کو بھی وڈیو مین ایڈ کیا ہے۔ یہ تو میرے اندازے سے بھی زیادہ نکلا ہے۔ 5 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ یہان کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہین چلتی ۔ ان کے گھروں والئ سائیڈ پر۔ ۔۔۔۔۔۔ باپ گھر اس لئے بیٹھا ہے کے سگے بھائی بچے کے چچا نے مشہور کر دیا ہے کے ان کا باپ پاگل ہے ۔ جب کے مسئلہ یہ ہے کے اس ظالم انسان نے باپ کی جانب سے ملنے والی جائیداد فقط تین کنال۔ مین سے جو تیس تیس مرلہ دونون بھائیون کو وراثت ملنا تھی اس مین سے بچے کے والد کے ساتھ دھوکہ کر کے پٹواری کے ساتھ مل کر اپنے نام دو کنال چڑھا لی ہے ۔ بچے کے باپ کا بچھڑا بیچ کر پیسے ہضم کر چکا ہے ایک سال پہلے ۔ اس کے بچے پیدائش کے بعد مر جاتے تھے اس حسد میں دونوں میاں بیوی مبتلا ہین ۔ وڈیو میں موجود ہے اس انسان کی بات کے یہ میرا بھائی شروع سے پاگل ہے ۔ وہ سمجھ رہا تھا میں ان کو بھی بیوقوف بنا لون گا۔ ۔۔۔۔۔۔ بچے کا باپ اس خوف مین مبتلا ہے کے یہ بھائی اس کی اخری کنال جس پر گھر ہے وہ بھی یہ شخص اپنے نام نہ کروا لے۔ میں نے پوچھا تم نے دوسری شادی کیون نہیں کی ۔ جس کو یہ سب پاگل کہتے ہیں ۔ وہ بولا میں دوسری شادی کرون تو میرے بچے رول جائین گے برباد ہو جائیں گے ۔ میں بچون کی حفاظت کرون یا دوسری شادی کر کے اس کی خدمت کرون۔ ۔۔۔۔۔ چھوٹی بچی کو اکثر وہ نانی کے پاس چھوڑ آتا ہے تاکہ وہ بچی تحفظ مین رہے ۔ وہ گھر بھی پاس کے گاون میں ہے۔ بچی بہت زیادہ میچور ہو چکی ہے ان حادثات کو دیکھ دیکھ کر۔ اس کے بولنے کا طریقہ اور لہجہ سے لگتا ہی نہیں کے چند سال کی معصوم بچی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ جس وقت میں اس سے ملا اس نے کلئیر بتایا کے علاقے کے لوگ مجھے پاگل مشہور ہونے کی وجہ سے کام کم ہی دیتے ہین ۔ یہ بنیادی وجہ ہے اس شخص کے شدید ڈپریشن اور سٹریس مین ہونے کی ۔ ۔۔۔۔۔ میرے سامنے وہ شخص کھڑا بات کر رہا تھا ۔ مجھے لگا بائین طرف اس کے جسم مین کوئی مسلہ ہے۔ تو اس نے شرٹ اوپر کی اور بولا نہیں میری شرٹ کے نیچے یہ 7 روٹیان بندھی ہین جو مزدوری والے گھر سے ملی تھین وہ چھپا کر لا رہا ہون ۔ اردگرد 4 گھر رشتے داروں کے ہیں وہ مانگ لیتے ہین ۔ اور مجھ سے انکار ان حالات میں بھی نہین ہوتا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ باپ نے کلئیر بولا میرے پاس کوئی وسائل نہین مجھے 17 کلومیٹر دور بھوانہ شہر جانا پڑے تو اکیلے نہین جا سکتا۔ مجھ پر اس شخص کی وجہ سے میرے بچون سمیت خوف طاری ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ بچون کی خالہ جو پاس ہی رہتی ہے زیادہ وقت بچے وہان گزارتے ہین ۔ ان سے بھی ملاقات ہوئی بہت ساری تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ ۔۔۔۔۔۔ بچوں نے بتایا دادا کے نام کا میٹر تھا گھر مین لگا ہوا ہے ۔ اس کو بھی چچا نے کاٹ دی ہوئی ہے تار عرصہ پہلے ۔ ہمارے پاس نہ بجلی ہے نہ پانی کا نلکے کے علاوہ کوئی سورس ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ان سب حالات کے باوجود بھی یہ 3 بچے اور باپ سروائو کر رہے ہیں ۔ گھر کے۔ حالات دیکھین ۔ باپ کے حالات دیکھین ۔ بچون کے ابتر حالات دیکھیں تو لگتا ہے ہم کسی افریقی ملک مین رہتے ہین جہان جنگل راج ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ چھوٹے دونون بچون کو وہ پاس ہی موجود سکول مین پڑھانا چاہتا ہے ۔ لیکن وسائل نہیں ہیں ۔ بیٹی تو بول پڑی کے مجھے بہت زیادہ شوق ہے پڑھنے کا چاچو جی لیکن مسجد میں جاتی ہون پڑھنے قاعدہ بس ۔ سکول کے پیسے نہین ہین تعلیم کیلئے۔ ۔۔۔۔۔۔ ایک اچھا برگر کسی بڑی فوڈ چین کا ان 2۔ چھوٹے بچون کی سکول فیس ہے ۔ 500 فیس ہے وہان کی ایک بچے کی ۔ سرکاری سکول نہین ہے ۔ سکول اتنی دور بھی نہین ہے نہر کی دوسری طرف 600 میٹر دور سکول ہے ۔ شوق بھی ہے بچون کو لیکں وسائل نہین ہین ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بچے کا سائیکل پہنچا دیا ہے ۔ بستر پہنچا دئیے ہین گرمی کے ۔ چارپائیوں دے دی ہین ۔ برتن جو جو سمجھ ائی دے آیا ہون۔ آٹا نئے کنستر مین ڈال کر آئے ہین۔ کپڑے ہر بچے کے تین تین ۔ اور باپ کے دو سوٹ بھی دے ایا ہون ۔ جوتے سب بچون کے نئے اور باپ کے بھی نئے جوتے دے آیا ہون ۔ نقد بھی دے آیا ہوں ۔ بچے کو بھی باپ کو بھی ۔ ۔۔۔۔۔۔ گھر کی مکمل صفائی کروا کر جو چیز جہان رکھی جا سکتی ہے وہان رکھ کر ائے ہین ۔ باقی وڈیو دیکھیں ان کے بارے سمجھین کے یہ کس قدر مشکل مین زندگی گزار رہے ہین ۔ بچے کو کہیں دور بھیجنے پر راضی نہیں خود سے دور ۔ جو اس باپ کے ساتھ خون کے رشتوں نے کر دیا ہے وہ اعتبار کرے بھی تو کیسے ۔ ۔۔۔۔۔۔ بچون کی مان کا انتقال چھوٹے بیٹے کی پیدائش پر کوئی کمپلیکیشن پیدا ہونے سے بچے کی پیدائیش کے ایک ماہ بعد ہوا تھا ۔ اس چھوٹے بچے کو پالا بھی خالہ نے ہے ۔وہ اسی کو امان سمجھتا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے سیریس چہرے اور خوف مین مبتلا سوچ کے ہم نے سب کچھ دے دیا جو ہم کر سکتے تھے کل کے دن میں لیکن سب کے چہروں پر کوئی خوشی نہین تھی کوئی مسکراہٹ نہین تھی ۔ خوف اور ڈپریشن نے ان سے مسکراہٹ ہی چھین لی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ رب کے دئیے وسائل رب کے بندون تک پہنچا ایا ہون ۔ باقی رب جانے اس کا نظام جانے ۔ ۔۔۔۔۔۔ جلد ہی ان کے باپ سے دوبارہ ملنا ہے اس کے لئے بھی ابھی بہت کچھ کرنا ہے ۔ اور تینوں بچون کے لئے بھی بہت کچھ رہتا ہے کرنے کو۔ ۔۔۔۔۔۔ خون کے رشتے کتنے ظالم ہو سکتے ہین کے 4 زندہ انسانون کو زمین میں گاڑھ چکے ہین وہ لوگ ۔ ان کے چہرے مسکرانا بھول چکے ہین ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ دعاون مین یاد رکھا کریں #SaqibAllyana #Punjab

Saqib Allyana

16,950 görüntüleme • 2 gün önce

"میں تمہیں پھول دینے کے لیے آیا" میں ہاتھوں میں محبت کا نازک سا تحفہ لیے تمہاری گلی میں آیا تھا۔ دل دھڑک رہا تھا، سوچا تھا تمہیں دیکھوں گا تو آنکھوں میں خوشی جھلکے گی، ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوگی، اور شاید تمہاری پلکوں کے جھکنے میں کوئی خاموش اقرار مل جائے، لیکن جیسے ہی تم پر نظر پڑی، میرے قدم وہیں رک گئے۔ تم کسی اور کے ساتھ تھیں، تمہاری ہنسی، جو کبھی میری زندگی کی روشنی تھی، آج کسی اور کی باتوں پر چمک رہی تھی، وہ ہاتھ، جن کے لمس کی خواہش میں میں راتوں کو جاگا کرتا تھا، آج کسی اور کے قریب تھے، اس لمحے میرے دل میں جیسے کوئی تیز دھار چیز پیوست ہو گئی ہو، میرے پورے وجود میں ایک آگ سی لگ گئی۔ میرے ہاتھوں کے پھول مرجھا گئے، جیسے ان کو بھی اس منظر نے جھلسا دیا ہو، میں وہیں کھڑا رہا، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں چنتا، اور سوچتا رہا: کیا یہ وہی تم ہو، جس کے لیے میں اپنی دنیا سمیٹ کر لایا تھا؟ یہ دکھ محض کسی اور کے ساتھ دیکھنے کا نہیں تھا، یہ اس اعتماد کے ٹوٹنے کا تھا جو میں نے تم پر کیا تھا۔ یہ اس لمحے کے بکھرنے کا تھا جسے میں نے تمہارے نام کر رکھا تھا۔ مجذوبؔ ملبورن رات کے ۹:۲۷

Majzoob

39,060 görüntüleme • 1 yıl önce

8 سالہ بچہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل!! فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا، چک نمبر 71 ج ب سرلی میں 8 سالہ بچے شکیل کی لاش ایک زیرِ تعمیر اور خالی مکان کے واش روم سے برآمد ہونے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بچہ گزشتہ روز گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا تھا لیکن واپس نہ آیا، جس پر اس کی تلاش شروع کی گئی اور مختلف علاقوں میں اعلانات بھی کروائے گئے۔ بعد ازاں بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کے شبے پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی رائے فرانزک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کے بعد دی جائے گی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جبکہ شہریوں نے واقعے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ #Faisalabad #FsdTV41 #FaisalabadTV #Thikriwala #CrimeNews #BreakingNews #ChildMurder #Investigation #PunjabPolice #JusticeForChild #PakistanNews

Faisalabad TV

22,695 görüntüleme • 3 ay önce

بنگلہ دیش میں کم عمری کی شادی کا ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف 13 سال کی بچی ماں بننے کے بعد اپنے ہی بچے کی تحویل کے لیے عدالت پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق انامیکا اختر جوئی کی شکیب میا سے فیس بک پر جان پہچان ہوئی۔ شکیب کی عمر 22 سال تھی، جبکہ انامیکا صرف 11 سال کی تھی جب دونوں کی شادی کردی گئی۔ 13 سال کی عمر میں انامیکا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، جس کی عمر اب سات ماہ بتائی گئی ہے۔ چند ماہ بعد مبینہ طور پر شوہر اور ساس نے بچہ اپنے پاس رکھ لیا اور انامیکا کو گھر سے نکال دیا۔ نابالغ ماں نے ڈھاکا لیگل ایڈ آفس میں شکایت درج کرائی اور معاملہ عدالت تک پہنچا۔ جج کے حکم پر پولیس نے بچے کو بازیاب کروا کر ماں کے حوالے کردیا۔ سماعت کے دوران جج نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انامیکا خود ابھی ایک بچی ہے، لیکن وہ ماں بن چکی ہے۔ یہ واقعہ کم عمری کی شادی، بچوں کے تحفظ اور والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق کئی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ #nptv #nptvdigital #nationpulsetv #bangladesh #childmarriage #childprotection #legalrights #worldnews

NPTV Digital

54,822 görüntüleme • 2 ay önce

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
2:58

Sensitive content

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔

Saqib Allyana

86,325 görüntüleme • 2 ay önce

میں کل شادی والے گھر کیوں گیا۔ مجھے پتا چلا بچی کا باپ پریشان ہے ایک زمیندار کی وجہ سے اس نے دو سال پہلے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا جس کو باپ نے انکار کر دیا۔ وجہ وہی 85 سال کا بزرگ 18 سال کی لڑکی سے ہمارے معاشرے میں شادی کرتا ہے تو صرف عیاشی کے لئے کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے پیغام بھیجا تھا کے مین دیکھ لونگا شادی کیسے ہوتی ہے۔ پھر شادی ہو بھی گئی اور وہاں چڑیا نے پر نہین مارا۔ ۔۔ اس ملاح باپ کی بڑی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے دو سال پہلے اس پر الگ سے پوسٹ لکھوں گا کے لوگ کیسے درندے ہین غریب انسان کو بیٹی کی بربادی کے بعد بھی کیسے کیسے لوٹنے کے رستے نکال لیتے ہین۔ مین اس شخص کی زندگی کے بہت سارے پہلو سامنے نہین لا رہا ورنہ معاشرہ اپنے گریبان مین جھانکنے کے قابل نہین رہ جائے گا۔ ۔۔ دوسری وجہ دلہن کے باپ کا کوئی قریبی رشتے دار موجود حیات نہین ہے ۔ تو ہر انسان ایسے موقع پر بار بار ہمت ہارتا ہے۔ میری موجودگی مین دو بار باپ نے منہ پر کپڑا رکھا اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں بار بار۔ پھر مین وہاں 3 لوگ چھوڑ کر ایا۔ ایک واجد کو جس نے دیگوں کا تمام کام ٹینٹ اور تمام گھر سے باہر کے کام سنبھال رکھے تھے۔ جو وڈیو مین بول رہا ہے۔ دوسرا اختر ماچھی اس کے ذمہ کھانا تقسیم کرنا اور روٹی کم نہ ہو جائے وہ سب انتظام تھا۔ پھر وہاں مین بندا جعفر موجود رہا بچی کی رخصتی تک ۔ تاکہ وہاں وہ دھمکی دینے والا کوئی آئے تو میری غیر موجودگی مین وہ خود اس کو سیدھا کرے اس کے دو بندے سائیڈ پر بیٹھے تھے تیار اگر کوئی آئے تو طبعیت فریش کرنے واسطے موقع پر۔ مین بول کر ایا تھا تھانہ کچہری مین دیکھ لوں گا تم لوگوں نے 17 کلومیٹر دور چنیوٹ روڈ تک بارات کو واپس پہنچا کر آنا ہے چاے جو ہو جائے۔ لوگ برے لوگوں سے برا سلوک رکھتے ہین لیکن مین ان سے پیار اس لئے کرتا ہون کے۔ جہاں یہ کسی کی مشکل مین مدد کرتے ہین اور کسی مئن اتنی ہمت نہین ہوتی۔ ۔۔ تندور دیگیں اور تنبو کناتین صبح 6 بجے بندے چنگچئ 4 تھین جن پر لوڈ کر کے نکلے تھے ۔ رستے کی وجہ سے 9 بجے کے قریب 17 کلومیٹر کا رستہ طے ہوا جگہ جگہ چنگچی پھنسے ۔ ہر جگہ اردگرد موجود علاقے کے لوگ کام آئے۔ ۔۔ ایک چیز کھانے مئن بڑھا دی۔ زردے کی دیگ۔ اس کی وجہ تھی دلہن کےباپ نے مجھ سے صبح سویرے بس اتنا بولا مہر علیانہ میرے جوڑے ہاتھ دیکھ لے کچھ میٹھا بھی کر دو میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ مین مجبور ہر گیا تھا اپنے سارے اصول اس ایک شادی کے لئے توڑ دئیے۔ ۔۔ باپ نے ہمارا دیا سامان اپنے پاس واحد پڑی چیز جو سیلاب مین بچ گئی تھی 6 سال پرانی پیٹی ۔ مین سامان رکھ کر دے دیا۔ ۔۔ کیسا باپ ہے۔ اب بیٹی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس بندے کی جھونپڑی میں بس دو چارپائیان چند کھانے پکانے کے برتن 4 چائے والے کپ ایک نلکا پانی والا بچے ہین۔ ۔۔ بارات آنے سے کچھ دیر پہلے شدید اندھیری شروع ہو گئی۔ بارات کے لوگ ویگن مین سے اتر کر ساتھ دھکے لگاتے رہے پھر بھی گھر سے ادھا کلومیٹر دور ویگن والا ڈرائیور جواب دے گیا اس سے آگے گاڑی لے جانا ممکن نہین۔ ۔۔ پھر آندھی اور طوفان شروع ہوا ۔ کھانا کھانے کو جگہ نہ۔ بچئ نکاح ہوتے ہی لڑکی کو ویگن مین بیٹھا دیا گیا۔ دلہا دلہن نے کھانا وہاں بیٹھ کر کھایا۔ تنبو کناتین گر گئیں تیز بارش اور آندھی سے۔ باقی ماندہ لوگ جو جھونپڑی مین بیٹھے تھے خواتین بھی انہوں نے برستی بارش میں وہاں اوپر شاپر اور ٹینٹ اوپر ڈال کر جیسے تیسے بارش والا وقت نکالا۔ کھانا وہیں کھایا۔ ۔۔ 8 بجے بارات رخصت ہوئی ۔ کل اندھی اس قدر تیز تھی کے ہم خود کئی بار واپسی پر موٹر سائیکل سے گرتے گرتے بچے ۔ واجد کا رکشہ کی سیٹیں دور جا گرین ۔ شیشے ٹوٹ گئے ۔ اسکا نقصان آج پورا ہو جائے گا۔ ۔۔ اس شادی نے باقی 153 شادیاں جو آج تک مین کروا چکا ہون سے بلکل الگ احساسات دئیے۔ گھر پہنچ کر دو نفل ادا کئے جب رخصتی ہو گئی مجھے فون ا گیا۔ نصیب رب لکھتا ہے ہم صرف محنت کر سکتے ہین ۔ نتائج کسی انسان کے ہاتھوں میں نہین ہین۔ ۔۔ رخصتی کے وقت سے پہلے دلہن کے پانچ ہزار اس کو پہنچا دئیے اور دلہا کے واجد ہمارے بعد جب بارات آئی تک دے اس نے دلہا کے ہاتھ مین۔ لڑکا بھی ایک مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے۔ کتنا کماتا ہو گا بس زندگی گزرنی ہے اس بچاروں نے۔ یہ دس ہزار ان کو کم سے کم 15 دن گھر پر رہنے کی ہمت دین گے ساتھ ۔ مزدوری پر جانے تک سہارا رہے گا ان کا۔ روٹی پانی کا۔ ۔۔ کھانا بہت اچھا پکا ہوا تھا۔ اور میٹھا مین کھاتا نہیں مجھے شروع سے پسند نہین آج تک مین نے میٹھا دودھ تک نہین پیا تو وہ دوسرے ساتھیوں۔ مبشر اور خان نے بتایا کے اچھا بنا ہوا ہے۔ ۔۔ دعا مین یاد رکھئیے گا جو ہمت تھی جو اوقات تھی وہ کیا ہے اس بندے کے واسطے #SaqibAllyana

Saqib Allyana

10,548 görüntüleme • 3 ay önce

ایف آئی اے کے سینئر افسر ڈاکٹر رضوان اور پراسکیوٹر سکندر ذوالقرنین کی سالوں کی محنت رنگ لانے والی تھی۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کا ایک ہائی پروفائل منی لانڈرنگ کیس ایکسپوز کیا تھا، بلکہ عدالت میں اس کو بہترین طریقے سے پیش بھی کیا تھا۔ قریب تھا کہ ملزمان پر فرد جرم عائد ہوجاتی، لیکن ایک دن اچانک سکندر ذوالقرنین کی ایک کال آئی جس میں ان کو کہا گیا کہ وہ اگلی سماعت پہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گے، کیونکہ ملزمان بہت جلد وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب بننے والے ہیں! جی ہاں یہ کیس کسی اور کے نہیں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف تھا۔ کچھ دن بعد کال کرنے والے کی پیش گوئی کے عین مطابق شہباز شریف وزیر اعظم اور حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے۔ لیکن یہ کالر تھا کون؟ کس نے شہباز شریف کا کیس ختم کرکے ان کو وزیراعظم بنا دیا؟ اور ڈاکٹر رضوان کی موت کن حالات میں ہوئی؟ جانئے اس ویڈیو میں ( مکمل ڈاکیومنٹری کا لنک کمنٹس میں موجود ہے لازمی دیکھیں )

Raftar

61,211 görüntüleme • 11 ay önce