Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سکھ لڑکا قصور سائیڈ سے بارڈر کراس کر آیا جسے رینجرز نے گرفتار کر لیا اس رپورٹ کے مطابق یہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ھے پہلوانی کرتا تھا لیکن پھر بُرے دوستوں کی وجہ سے نشے پر لگ گیا بارڈر کے قریب ایک گاؤں میں اسکے دوست...

85,813 Aufrufe • vor 8 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

چکوال کے دور افتادہ گاؤں ملہال مغلاں میں جب یہ بچہ پیدا ہوا تو دو تین سال میں ہی اس کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے ۔ یوں یہ بچپن سے ہی ظالم دنیا کی ٹھوکروں میں آ گیا ۔ ہماری سوسائٹی میں ایک یتیم بچے کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ سب اس نے جھیلا ۔ بمشکل میٹرک اور ایف ایس سی کیا اور پاکستان آرمی میں کمیشن اپلائی کیا جس میں یہ کامیاب ہو گیا ۔ کاکول سے گریجویشن کے بعد اسے آٹھ سندھ رجمنٹ میں بھیجا گیا جہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا اس نوجوان لیفٹیننٹ سے ضروری دستاویزات مکمل کرواتے ہوئے پوچھا گیا کہ اپنے وارث کا نام لکھواوو تو یہ نوجوان سوچنے لگا ۔۔۔ نا ماں نا باپ نا بہن نا بھائی اور نہ ہی کوئی اور قریبی رشتہ اس نے کچھ سوچ کر وارث کے خانے میں آٹھ سندھ رجمنٹ کا نام لکھا یہ محنتی اور تحمل مزاج نوجوان ترقی کے مدارج طے کرتا گیا یہاں تک کہ ایک دن پاکستان کی تمام افواج کا چیف بن گیا ہم جنرل ساحر شمشاد مرزا کی بات کر رہے ہیں جسے اس کے دوست فوج کا معمار کہ کر پکارتے تھے ۔ اس جنرل نے ماڈرن وارفیئر اور سٹریٹجک پلاننگ میں پاکستان فوج کو بلند مقام پر لا کھڑا کیا ہے ۔ جنرل ساحر شمشاد فوج میں اپنے پر سکون رویے اور مظبوط اعصاب کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا ۔ جنرل ساحر کی یہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ایک یتیم و یسیر بچہ اپنی محنت اور قابلیت سے اس میں سے اونچے مقام پر فائز ہو سکتا ہے ویلڈن جنرل ساحر شمشاد مرزا فرزند پاکستان

Ather Salem®

45,673 Aufrufe • vor 9 Monaten

بے قصور بیٹی، ٹوٹا ہوا گھرانہ راولپنڈی کا ایک عام سا گھر… مگر اس گھر میں خوابوں کی دنیا بسی ہوئی تھی۔ ایک بیٹی، جو اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا تھی، بہتر مستقبل کے لیے پردیس گئی۔ برسوں کی محنت، تنہائی اور جدائی برداشت کی، لیکن دل میں یہ سکون تھا کہ ماں باپ خوش ہیں اور اس کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پردیس میں وہ مسکرا کر زندگی گزار رہی تھی، مگر دل ہمیشہ وطن کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ پھر ایک دن وطن میں ایسا طوفان اٹھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک سازش کے تحت عوام کا محبوب وزیرِاعظم برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد ظلم و جبر کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے لاکھوں دل توڑ دیے۔ یہ خبر جب بیٹی نے سنی، تو اس کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ ظلم کے خلاف بولنے لگی، سچ کہنے لگی۔ لیکن طاقت کے ایوانوں کو ایک نازک سی لڑکی کی آواز بھی برداشت نہ ہوئی۔ انتقام میں اس کے والد اور بھائی کو اٹھا لیا گیا، دھمکایا گیا، اور حکم دیا گیا: "اپنی بیٹی سے کوئی بات نہ کرو، ورنہ انجام برا ہوگا۔" ایک ماں، جس کا دل ہر لمحہ اپنی بیٹی کے لمس کو ترستا تھا، اپنی جان سے بڑھ کر چاہی جانے والی بچی سے بات نہ کر سکی۔ وہ ماں روز آنسو بہاتی، راتوں کو جاگتی، بیٹی کی آواز سننے کو تڑپتی رہی۔ مگر جب سب دروازے بند کر دیے گئے تو اس کا دل بھی ٹوٹ گیا۔ ماں کی سانسیں مدھم ہونے لگیں۔ رخصتی کے وقت لبوں پر بس ایک ہی فریاد تھی: "میری بیٹی بے قصور ہے… میری بیٹی بے قصور ہے۔" یوں ایک ماں کا دل، ایک بیٹی کی آواز اور ایک گھرانے کا سکون، سب ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ Eshaal honey PTI PTI Faisal Khan Shehr Bano Official

Salman Iqbal

68,421 Aufrufe • vor 11 Monaten