Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

کراچی میں ڈیڑھ سالہ بچی ایزل کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزم منان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے ملزم کو بالغ افراد کی جیل بھیجنے کی درخواست بھی منظور کرلی، جبکہ ملزم اور...

42,731 görüntüleme • 10 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

مریم نواز کو درخواست کیوں دی،ڈکیت نے سینئر نابینا صحافی کو تشدد اور زوجہ کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنا دیا ملزم بااثرخاندان سےتعلق رکھتاہے، کاروائ نہیں کی جاسکتی، پولیس کاموقف تفصیلات - چکوال سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ نابینا سینئر صحافی راجہ محمد خالد کی زوجہ عابدہ پروین ساکن پادشہان تحصیل و ضلع چکوال کے ساتھ 14/11/2024 کو ڈکیتی کی واردات پیش آئ، سائلہ نے ملزم شہریار ولد سرفراز کو پہچان لیا،بجرم 382 ت پ کے تحت مقدمہ نمبر 357 کے تتمہ بیان میں ملزم کو نامزد کر دیا۔ لیکن ملزم طاقتور و اثرورسوخ کے حامل ہونے کے سبب گرفتار نہ ہو سکا۔ گھریلو خاتون سائلہ عابدہ پروین نے ڈی پی او چکوال کو کھلی کچہری میں مورخہ 10/12/2024 اور 19/12/2024 کو بمع درخواست پیش ہوئ لیکن پولیس کاروائ کرنے سے قاصر رہی۔ سائلہ نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو درخواست ارسال کر دی جس میں ملزم اور اسکے خاندان کے کرتوت لکھ ڈالے۔ درخواست ن لیگی ایم این اے اور بااثر شخصیت کے ہاتھ لگ گئ اور ملزمان کے خلاف کوئ کاروائ نہیں ہوئ جبکہ 49 سالہ سائلہ کا جینا دوبھر کر دیا گیا۔ جنسی ہراسانی اور بے جا تنگ کیا جانا کئ گنا بڑھ گیا۔ 25/03/2025 کو صبح 05:30 بجے ملزم شہریار ولد سرفراز ساکن دیہہ ایک مرتبہ پھر سائلہ کے سکونتی گھر واقع تھانہ ڈھڈیال ضلع چکوال میں زبردستی گھسا، سائلہ اور خاوند کو زد وکوب کیا، لاتوں اور مکوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، اور سائلہ کی عزت لوٹنے کی کوشش کی، شدید مزاحمت پر ملزم بھاگ گیا جبکہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم شہریار کو دیوار پھلانگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کی ایف آئ آر بمشکل ایک ماہ بعد نمبر 154/25 بتاریخ 30/04/2025 درج ہو سکی۔ اس سب کے باوجود پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں تاحال ناکام ہے جبکہ 74 سالہ سینئر نابینا صحافی راجہ محمد خالد اور انکی 49 سالہ زوجہ عابدہ پروین انتہائ خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پولیس اس کیس میں نہ صرف ملزم کو تحفظ فراہم کر رہی ہے بلکہ من گھڑت و خود ساختہ جعلی کاغذات بنا کر ملزم کو کھلی چھوٹ دیئے ہوئے ہے۔ موقف حاصل کرنے کی کوشش میں پہلے متعلقہ تھانہ اہلکاران موقف دینے سے انکاری رہے جبکہ بار بار موقف طلب کرنے پر متعلقہ تھانے کے ایک اعلی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر موقف دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا تعلق بااثر خاندان سے ہے، کاروائ نہیں کی جا سکتی۔ سائلہ کی آئ جی پنجاب، وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لینے اور ملزم گرفتار کر کے انصاف دلوانے کی استدعاہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے بیک گراؤنڈ اوریجنل وائس میں 74 سالہ سینئر نابینا صحافی راجہ محمد خالد اور انکی 49 سالہ زوجہ عابدہ پروین کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے۔

Masood Chaudhary

145,880 görüntüleme • 1 yıl önce

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 görüntüleme • 1 yıl önce

مجھے فیصل آباد یونیورسٹی کا ایک واقعہ یاد آیا جس میں کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ کے ایچ او ڈی کی جگہ سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے کسی اور لگانا تھا وہ صاحب عہدہ چھوڑنے اور کسی دھمکی میں آنے تیار نہیں تھے پھر ایک سٹوڈنٹ سے ان کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست ڈلوا دی گئ۔ شریف آدمی تھا پہلے گھبرا گیا، اپنے تمام سوشل میڈیا بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیے ۔ پھر ہمت پکڑی اور فیصلہ کیا کہ میں اس ہراسمنٹ کمپلینٹ کو فیس کرونگا انہیں کمپلینٹ کے فیصلے تک معطل کر دیا گیا اور تقریبا ایک سال بعد وہ معصوم ثابت ہوے، بچی نے بھی بتایا کہ اسے استعمال کیا گیا اور یوں وہ باعزت اپنے عہدے پر بحال ہوے۔ میں نے یہ سٹوری کور لی تھی لیکن کیس میرے پاس بچی کے حوالے سے آیا تھا۔ اس کیس میں بھی ججوں صاحب کے خلاف جو ہراسمنٹ کمپلینٹس، جن کا دعوی کیا جا رہا ہے آئی ہیں تو وہ سامنے لانی چاہیں، جدون کو عہدے سے ہٹایا گیا اور میڈم اینا کو وہ عہدہ دیا گیا اس کا نوٹیفکیشن بھی سامنے آنا چاہیے۔ یونیورسٹی بنی ہراسمنٹ کمیٹی کی تفصیلات اور رہورٹس سامنے آنی چاہیں۔ اور جن طلباء کو ججوں صاحب بقول میڈیا اور ادارے کے فیور دیتے رہے اس کی تفصیل بھی پبلک کر دیں۔ جب فیکلٹی چیٹس پبلک ہو سکتی ہیں تو یہ سب پبلک ہونا بہت ضروری ہے۔

Saddia Mazhar|سعدیہ مظہر

11,665 görüntüleme • 5 gün önce

کراچی میں پیش آنے والے دو افسوسناک واقعات نے ایک بار پھر معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا دونوں واقعات میں دو خواتین اپنی ہی زندگی کے ساتھیوں کے ہاتھوں قت_ل ہو گئیں، جو نہایت دردناک اور قابلِ مذمت ہے پہلے واقعے میں تین روز قبل سرجانی ٹاؤن کی رہائشی مصباح کو مبینہ طور پر اس کے شوہر شہریار نے والدین سے نئی موٹر سائیکل لانے کا مطالبہ کیا مطالبہ پورا نہ ہونے پر سلمان نے اسے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا ، جس کے باعث وہ دورانِ علاج اسپتال میں دم توڑ گئی آج دوسرے واقعے میں بھی سرجانی ہی میں ایک 22 سالہ مصباح کو اس کے شوہر سلمان نے گھریلو ناچاقی پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ والدین کے گھر، بہن بھائیوں کے سامنے گولیاں مار کر قت_ل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا وڈیو ملزم سلمان کی ہے جب وہ فرار ہو رہا تھا ایسے سانحات صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو زخمی کر دیتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ گھریلو تشدد، جہیز اور لالچ جیسے ناسوروں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ والدین بھی رشتہ طے کرتے وقت کردار، اخلاق اور مزاج کو اولین ترجیح دیں، کیونکہ بیٹیاں بوجھ نہیں بلکہ خاندان کی عزت، محبت اور رونق ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت و احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے #Karachi #BudgetForPakistan

Samar Abbas

29,392 görüntüleme • 2 ay önce

جھنگ ایشال فاطمہ کیس خصوصی رپورٹ کے مطابق 17/18 سالہ ایشال فاطمہ سلطان کالونی سے اغوا کے بعد قتل ہوئی۔ خلیل الرحمان نامی لڑکا فرسٹ ائیر کی طالبہ کو لے گیا۔ لڑکی کو خلیل حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے جایا گیا۔ گھر میں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلایا گیا۔ سب نے مل کر لڑکی کو ڈانسنگ گولیاں اور نشہ آور ادویات دیں۔ بچی کی حالت غیر ہوئی، 2 دن تک ٹیکے لگاتے رہے مگر حالت نہ سنبھلی۔ حالت بگڑنے پر حسن اور امیش لڑکی کو مقامی ہسپتال چھوڑ گئے۔ خلیل گاڑی میں باہر بیٹھا رہا، تھوڑی دیر بعد لڑکی انتقال کر گئی۔ والد کی FIR کے بعد CCD اور پولیس متحرک ہوئی۔ سب انسپکٹر ملک علی رضا CCD نے امیش جوگی کو فوری گرفتار کیا۔ انچارج اسد دھولکہ، انسپکٹر حافظ عثمان ہراج ریڈ کر رہے ہیں۔ SHO سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے گاڑی برآمد کی۔ باقی ملزمان حسیب، حسن، خلیل الرحمان کی تلاش جاری ہے۔ CCD کیس میں محنت سے کام کر رہی ہے، ایک ملزم گرفتار، باقیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

Daim Mubashar

200,646 görüntüleme • 2 ay önce