正在加载视频...

视频加载失败

کراچی کی جناح ایونیو جو ملیرہالٹ سے ائیرپورٹ اور پھر یہ نیشنل ہائی وے موٹروے M-5 تک جاتی ہے سڑک کے ایک جانبMNA,MPA,ملیر کنٹونمنٹ وائس چیئرمین،کونسلر PPP کے، ٹاؤن جماعت اسلامی، دوسری سڑک MNA،MPA پر MQMP, سندھ حکومت نے وفاق کی جانب سےMQMPکو ملنے والے20ارب کے فنڈ پر کام...

22,703 次观看 • 11 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

یہ ہے وہ سڑک… جس پر پاکستان کو سالانہ اربوں کی آمدنی ہوتی ہے…! جی ہاں! یہ ہے وہ قیمتی سڑک…! یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک جاتا ہے — ہر سال ہزاروں سیاح، ٹریکرز اور مہم جو اسی راستے سے گزرتے ہیں، اور پاکستان کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی سیاحت کی آمدنی ہوتی ہے یہی وہ خستہ حال، ٹوٹی پھوٹی، گرد و غبار میں لپٹی سڑک ہے… جو ہمیں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک لے جاتی ہے یہ ہے پاکستان کی ایک قیمتی سڑک کی حالیہ حالت- یہ وہ سڑک ہے جس کے ذریعے پاکستان ہر سال لاکھوں ڈالرز کی آمدن حاصل کرتا ہے۔ یہی راستہ دنیا بھر سے آنے والے ہزاروں سیاحوں، کوہ پیماؤں اور ایڈونچر لورز کو کے ٹو اور دیگر خوبصورت مقامات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ پاکستان کا ایک نہایت اہم اور بین الاقوامی شہرت یافتہ روٹ ہے، جس پر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ گزشتہ چند مہینوں میں حکومت نے ٹورازم رائلٹی فیس میں اضافہ کر مقامی ٹور آپریٹرز، سروس پرووائیڈرز اور ایڈونچر ٹورازم سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات میں ڈالا ہوّا تھا۔ بطور سوشل ورکرز ہم نے یہ امید کی کہ شاید اس آمدنی کو انفراسٹرکچر کی بہتری، خاص طور پر سڑکوں کی مرمت یا سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات میں بہتری کے لیے استعمال کیا گیا ہو گا۔ تاہم، حال ہی میں پاکستان کے معروف کوہ پیما سرباز خان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے دل کو بہت رنجیدہ کر دیا۔ اُن کی ویڈیو سے معلوم ہوا کہ کے ٹو تک جانے والا راستہ پہلے سے بھی زیادہ خراب، خطرناک اور خستہ حال ہو چکا ہے۔ یہ سڑک برالدو ویلی کے درمیان سے گزرتی ہے، جو قدرتی خوبصورتی اور گلیشیئرز سے بھرپور ایک وادی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کے لوگ ہر سال گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلاب کے باعث متاثر ہوتے ہیں۔ سڑک کی عدم دستیابی کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو خاص طور پر بیماری یا ہنگامی صورتحال میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں (climate change) بھی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مقامی حکومت بلکہ UNDP اور GLOF جیسے بین الاقوامی اداروں کو بھی فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ راستہ نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے بھی کسی موت کے کنویں سے کم نہیں۔ اگر، خدانخواستہ، اس سڑک پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو اس کی ذمہ داری ٹورازم ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوگی، جو اجازت نامے جاری کرکے لوگوں کو اس راستے پر روانہ کرتا ہے۔ ہم برالدو ویلی کے باسیوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ صرف گھوڑوں اور خچروں کے کرائے بڑھانے کے لیے احتجاج کرنے کے بجائے، اپنی جان، زمین اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی آواز بلند کریں۔ اداروں کے دروازے کھٹکھٹائیں، سوال کریں، اور اپنے حقوق کے لیے منظم ہو کر بات کریں۔ یہ وقت صرف شکایت کرنے کا نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر عملی اقدامات اُٹھانے کا ہے تاکہ پاکستان کا یہ انمول اور عالمی شہرت یافتہ ایڈونچر روٹ محفوظ، پائیدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بین الاقوامی سیاح کس طرح ایک خطرناک پل عبور کر رہا ہے، اور اپنے تاثرات بھی بیان کر رہا ہے۔ نیپال سے تعلق رکھنے والے مشہور کوہ پیما مینگما جی نے بتایا کہ وہ ایک مقام پر بال بال بچے۔ ان کے تاثرات دنیا بھر میں ہزاروں ایڈونچررز سنتے ہیں اور اُن پر عمل عمل بھی کرتے ہیں

Gilgit Baltistan Tourism.

38,119 次观看 • 1 年前