正在加载视频...

视频加载失败

کسی عام پنجابی کی بلوچستان یا بلوچوں یا پشتونوں بارے معلومات پر کیا بات کرنی ہے کہ پنجابی میڈیا کا سرخیل اینکر ایک پشتون قاسم سوری کو بلوچ کہہ رہا ہے اور یہی منیب فاروق بلوچستان پر بڑھ چڑھ کر تبصرے کررہا ھوتا ہے

13,439 次观看 • 8 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

" بلوچ طلباء، بلوچ نوجوان، وکلاء ، پروفیسر اور بلوچ خواتین سب "دہشت گردی" کا حامی ہیں ان سب کا ٹرائل ہونا چائے " (ٹرائل یعنی ؟؟ جبری گمشدگیاں بڑھاو ) پنجابی زونسٹ حمنہ ملک ولد بریگیڈیئر بلال اسلام آباد کے کسی بند اسٹوڈیو میں ایک سانس میں بلوچ طلباء، بلوچ وکلاء ، اسٹوڈنٹ کوٹہ سسٹم ، طلباء تنظیمیں اور بلوچ خواتین سب کو "ٹیرر اپولوجسٹ" قرار دینے والی یہ پنجابی خاتون، عاصم باجوہ اور انور کاکڑ کے ہاتھوں سامنے لائی جانے والی ، کویٹہ کینٹ حمنہ ملک ہے یہ چیخ چلا کر اس بلوچستان میں طلبہ کے بار بار ٹرائل (جبری گمشدگی ) پر زور دے رہی ہیں، جہاں پہلے فی شہر سے درجنوں نوجوان اور خواتین لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ ان کے لہجے میں جو اندھا درد ہے کہ بلوچ نوجوان نسل کی "چھان بین " کرو ، اس حقائق کے باوجود کہ کیا پنجاب، وفاقی اداروں یا یونیورسٹیوں سے بلوچستان کے طلبہ کو لاپتہ نہیں کیا گیا ؟ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور بلوچ طلبہ کے ماورائے عدالت قتل کی جو رفتار جاری ہے، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے چند برسوں میں ہر خاندان کو جبری گمشدگی کے عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پنجابی خاتون، جسے چند سال قبل بلوچستان یونیورسٹی کے ایک مخصوص وائس چانسلر کے علاوہ کوئی پہچانتا نہیں تھا، جس کے آشیرباد پر سردار بہادر خان یونیورسٹی میں گھسائی گئی ، پھر عاصم باجوہ کی کسی پروپگینڈا این جی او کے ذریعے منظر عام پر آئیں اور پھر "بلوچستان کا درد" کے عنوان سے جتنا کھا سکتی تھی کھایا اور پازٹو بلوچستان کا خواب لیکر اسلام آباد میں اعلیٰ عہدہ حاصل کر کے بلوچستان چھوڑ گئیں یہ پنجابی زونسٹ ، اگر مسلح تنظیموں کے نام پر بلوچ طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کی جبری گمشدگی کو جائز قرار دیتی ہیں اور بلوچ خواتین کے اغوا کو قابل قبول سمجھتی ہیں، تو کیا پنجاب سے آنے والا ایک سپاہی کا بلوچستان میں سب سے بڑا معاون پنجابی مانا جائے؟ کیا آپ جیسے تمام پنجابی، مرد و خواتین، جوابدہ ٹھہرائے جائیں ؟ کیا پھر ہر پنجابی مشکوک قرار پائے اور بلوچستان میں گروہی شکل میں موجود ہر پنجابی کو جوابدہ ٹھہرایا جائے؟ کیا حمنہ ملک اور زینب آصف جیسی ہر پنجابی خاتون جوابدہ ہے، جو کینٹ میں رہ کر پھر بروری روڈ پر واقع CTD آفس میں دیکھائی دیتی رہتی ہیں؟ کیا بلوچستان کے لوگ اندھے ہیں کہ بروری روڈ پر رکشے بھر کر لائی جانیوالی نوجوان لڑکیاں کون ہیں؟ اگر بلوچ عورت کا ٹرائل ہوسکتا ہے تو کیا پنجابی عورت مستثنیٰ ہے؟ پھر عام پنجابی کا شناختی کارڈ دیکھنا ٹھیک ہوا ؟ ہم تنظیموں سے گزارش کرتے ہیں کہ شہباز ٹاؤن فیز ٹو کی حمنہ ملک کی امی سمیت ہر ایسے پنجابی فرد پر خصوصی نظر رکھی جائے، کیونکہ وہ پنجاب فوج کی دہشتگردی کے خاص معاون ہوسکتے ہیں اس ٹرائل میں مرد و عورت کا امتیاز بند کیا جائے کیونکہ اس سائکو کیس کے مطابق تمام بلوچ مرد و خواتین سب ٹیرر اپالوجسٹ ہیں طلباء کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی یہ ذہنی مریضہ چونکہ خود اب بلوچستان چھوڑ کر اسلام آباد کی وزارتِ اطلاعات میں ملازمت حاصل کر چکی ہے۔ سینکڑوں بار بلوچی لباس پہن کر چینیوں کے سامنے خود کو بلوچ ظاہر کرنے والی اس عورت کے دل سے بلوچ عوام کے خلاف نفرت ختم نہیں ہوئی Stop Brig Bilal's Chicks propaganda #StopStatePropaganda #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearance #BalochistanFacts

Balochistan Facts

43,878 次观看 • 11 个月前