Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

کشمیر ہائی وے اسلام آباد پر آرامکو پٹرول سٹیشن پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں ۔۔۔ لوگوں کے اس بھروسے کی وجہ سے ہی۔ کہ آرامکو کے علاؤہ کوئی اور کمپنی خالص تیل نہیں دیتی نہ ہی ان کے پیمانے پورے ہوتے ہیں ۔۔۔

79,148 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,183 views • 1 year ago

ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر قیادت کے لواحقین کے ہمراہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاست نے ان مظلوم ماؤں اور معصوم بچوں کی بات سننے یا ان کے مسئلے کے حل کے بجائے، انہیں شدید بارش میں ایک عارضی شیلٹر یا کیمپ لگانے کی اجازت تک نہیں دی۔ یہ بلوچ مائیں اور بچے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کوئٹہ سے اسلام آباد اس امید پر آئے کہ شاید ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے، ریاست نے ان کی فریاد سننے کے بجائے انہیں خراب موسم اور تیز بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے یہ خواتین اور بچے شدید خراب موسم کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے ہیں، مگر ریاستی بے حسی اپنی جگہ قائم ہے۔ ہم تمام انسان دوست افراد، سول سوسائٹی، اور بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظلوموں کی آواز بنیں، اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں، اور ان ماؤں اور بچوں کی اس پرامن جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔

Mahrang Baloch

19,552 views • 1 year ago

عطا آباد جھیل کے عین درمیان تعمیر ہونے والے ہوٹل کا سیوریج کہاں جا رہا ہے؟ ⚠️ مسئلہ یہ ہے کہ: جب تک کوئی “گورا” سیاح یا ویلاگر کسی چیز کو ہائی لائٹ نہیں کرتا، نہ میڈیا توجہ دیتا ہے، نہ حکومت ایکشن لیتی ہے، نہ ہی عوامی شعور بیدار ہوتا ہے لیکسس Lexus Hotel ہنزہ کے بعد اب Dolphin Floating Resort کا سیوریج بھی براہ راست جھیل میں چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ جب تک کوئی گورا سیاح یا ویلاگر کسی مسئلے کو ہائی لائٹ نہ کرے، وہ بات وائرل نہیں ہوتی، اور نہ ہی حکومت کوئی ایکشن لیتی ہے عطاء آباد جھیل کے درمیان بنے اس ہوٹل کے بارے میں سنجیدہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ اس کا سیوریج براہِ راست جھیل میں چھوڑا جا رہا ہے۔ ہم نے پہلے بھی لیکسس ہوٹل کے بارے میں نشاندہی کی تھی، لیکن تب بھی حکومت نے تب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا جب تک ایک غیر ملکی سیاح نے ویڈیو وائرل نہیں کی۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مقامی لوگوں کی آواز کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، جب کہ اصل زمینی حقائق سے ہم ہی واقف ہوتے ہیں۔ اب دوبارہ ہم سوال اٹھا رہے ہیں: ❓ کیا واقعی اس ہوٹل کا گندہ پانی جھیل میں جا رہا ہے؟ ❓ کیا کسی ادارے نے اس کی منظوری سے پہلے سیوریج اور ماحولیاتی نظام کا معائنہ کیا تھا؟ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ: •فوری طور پر اس ہوٹل کی تحقیقات کی جائیں۔ •اگر الزامات درست ہوں تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے — چاہے جرمانہ ہو یا عارضی بندش۔ یہ صرف ایک ہوٹل کا معاملہ نہیں، پورے عطاء آباد جھیل کے قدرتی ماحول، پانی کے معیار اور سیاحتی ساکھ کا سوال ہے۔ تمام مقامی لوگ، ماہرین، اور باخبر شہری اس پر ایک آواز ہو کر اپیل کر رہے ہیں کہ حکومت سنجیدگی سے ایکشن لے۔

Gilgit Baltistan Tourism.

38,837 views • 1 year ago