Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کل اپنی جوان بچی کو دفن کرنے کے بعد آج النور ہسپتال انچولی ڈاکٹر شازیہ کنول (M.B.B.S, M.C.P.S) گائناکالوجسٹ سے ملنے گئے تو اسٹاف نے بتایا کہ اُن کی لاپرواہی کی وجہ سے انہیں نکال دیا ہے۔ جب کہا کہ یہ بات لکھ کر دیں تو انکار کر دیا۔...

136,962 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля 𝐀𝐥𝐢 Warraich
𝐀𝐥𝐢 Warraich2 лет назад

آپ کو چاہیے ڈاکٹر سمیت پورے سٹاف کی ہڈیاں توڑ دیں کتے کی موت مارنا چاہیے ایسے حرام زادوں کو جو اپنے پیسوں کے لیے پہلے آپریشن کرتے ہیں پھر بغیرتی شروع کر دیتے ہیں😡😡😡

Фото профиля Ifrah Asad
Ifrah Asad2 лет назад

Case kren is hospital k khilaf

Фото профиля Musrrat_11
Musrrat_112 лет назад

پاکستان میں ڈلیوری کے لیے عورتوں کو ذبح کر دیا جاتا ہے سب پیسے بنانے کے چکر میں ہیں کسی بھی ہاسپٹل میں نارمل ڈلیوری نہیں ہوتی ڈاکٹرز اتنا انتظار نہیں کرتے اور پاکستان میں کوئی قانون ہی نہیں ہے

Фото профиля Hussnain Ali
Hussnain Ali2 лет назад

پورے پاکستان کے hospitals کا یہی حال ہے۔ ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ نارمل ڈلیوری کو آپریشن میں تبدیل کیا جائے چاہے حاملہ کی جان ہی کیوں نا چلی جائے۔ یہ وہی قوم ہے جو dollars کے لیے اپنی ماں بھی بیچ دیتی ہے۔

Фото профиля Informative Threads
Informative Threads2 лет назад

This is criminal negligence! Must be held to account!

Фото профиля Faridabokhari Bokhari
Faridabokhari Bokhari2 лет назад

دردِ زہ کی تکلیف سہہ کے مرنے والی “شہید” ہوتی ہے اللٰہ ماں باپ کو صبر عطا کرے اور ان کا صبر ان سب پہ پڑے جو شامل ہیں اس بچی مارنے والے ہیں آمین

Фото профиля Shani
Shani2 лет назад

Ameen 🤲

Фото профиля Muhammad Imran
Muhammad Imran2 лет назад

بہت افسوس ہوا قیمتی جان جانے کا۔ اگر تشخیص HELLP Syndrome ہے تو یہ ایک خطرناک condition تھی۔ یہ ایک rare syndrome ہے اور وجہ negligence نہیں بلکہ جسم کے اندر سے unexpected تبدیلیاں ہیں۔ آپ اچھے physician اور gynecologist سے مشورہ کریں۔ کیس بھی کر سکتے ہیں آپ کا right ہے

Фото профиля Kalim Ullah Khan
Kalim Ullah Khan2 лет назад

I am not sure about the situation but if it was HELLP syndrome then it’s truly life threatening condition & it develops mostly in late trimester. We see ICU admissions due to that. A human loss is loss of everything for deceased person & whole loss for family. My condolences

Фото профиля Samrina Hashmi
Samrina Hashmi2 лет назад

This was a case of 𝐏𝐮𝐥𝐦𝐨𝐧𝐚𝐫𝐲 𝐞𝐦𝐛𝐨𝐥𝐢𝐬𝐦 which happened on 1st post op day. After the patient started normal diet and was mobilised. Ends in Coagulation defects. The mortality rate is 80%. No one can save the patient. The problem is attendants do not understand. Everyone thinks it’s doctors negligence it’s fatal and results in multi-organ failure. It had nothing to do with her surgery.

Похожие видео

میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے

Agha Sheikh Sarwar

177,678 просмотров • 6 дней назад

پاکستان کے جو فسادی شیعہ مولوی ہمارے سپاہ سالار اور پاک فوج کو امریکہ کا غلام ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں ان بے شرموں کو چاہیے کہ اس ہندو کی بات سن لیں۔ ایران تو پاکستان کا شکریہ ادا کر رہا ہے ‌ ۔ پاکستانی بحری جہازوں کو راستہ دے رہا ہے۔‌ اور یہاں بیٹھ کر یہ خبیث کہتے ہیں کہ ہمارے سپہ سالار کو امریکہ زیادہ پسند ہے تو امریکہ چلا جائے۔۔ ہمارے سپہ سالار کی شیعہ علماء سے ملاقات میں اصل بات یہ ہوئی کہ ہمارے سپہ سالار نے سکردو میں ہونے والے فسادات کی ساری ویڈیوز اور ان کی تقریریں سنا دیں جس میں یہ پاک فوج پر حملے کر رہے تھے آرمی پبلک سکول کو جلا دیا فوجی تنصیبات کو جلا دیا فوجی جوانوں کو شہید کر کے جلا دیا۔۔۔ یہ سب دکھا کر ہمارے سپہ سالار نے کہا کہ پاکستان میں یہ فساد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جس کو ایران زیادہ پسند ہے وہ ایران چلا جائے۔۔۔ بالکل جائز اور درست بات کی ہمارے سپہ سالار نے۔۔ اب یہ فسادی اصل بات بتائے بغیر ایک چھوٹے سے جملے کو پکڑ کر طوفان برپا کر رہے ہیں کہ سپہ سالار نے کہا کہ جس کو ایران پسند ہے وہ ایران چلا جائے۔۔ اصل بات نہیں بتائیں گے کہ سکردو کے فسادات کی وجہ سے جہاں انہوں نے پاک فوج پر حملے کیے اور جوانوں کو شہید کیا ہمارے سپہ سالار نے یہ بات کی۔۔ سکردو والے فسادات کا یہ ذکر کیوں نہیں کرتے؟ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم نے آرمی پبلک سکول کو جلایا اور فوجی کمانڈر کے گھر جلائے اور فوجی یونٹوں کو تباہ کیا اور جوانوں کو شہید کیا۔ یہ بھی تو بولیں نا۔۔ یہاں پر ان پر کیوں موت طاری ہو جاتی ہے اور سکتا طاری ہو جاتا ہے۔

⚡️Faisal🤺

17,096 просмотров • 5 месяцев назад

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

Nadia Baloch

32,332 просмотров • 6 месяцев назад

محسن نقوی نے عمران خان کے علاج کے معاملے پر علیمہ خان کی سیاست اور بیرسٹر گوہر کی بیچارگی کو کھول کر رکھ دیا۔۔ 👇👇👇👇👇 ہم نے کہا عمران خان کا چیک اپ کرنا ہے، ساتھ جانے کے لیے آپ اپنے ڈاکٹر کا نام دے دیں جواب میں کہا گیا ڈاکٹر نہیں فیملی کا بندہ لے جائیں، پھر ہمیں قاسم زمان کا نام دیا گیا۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر کہا گیا آپ پہلے ایک ہفتے کے لیے عمران خان کو اسپتال منتقل کر دیں تو ہم مانیں گے۔ میں نے جواب دیا ایک نہیں دو ہفتے کے لیے کر عمران خان کو اسپتال بھیج دیں گے اگر ڈاکٹرز کہیں گے تو۔۔ تین روز تک ان کی وجہ سے عمران خان کا چیک اپ ڈیلے ہوا۔۔ ہم نے چیک اپ کے دن بیرسٹر گوہر کو انفارم کیا کہ آپ جیل آ جائیں ڈاکٹرز کے ساتھ آپ اندر چلے جائیں اور خود چیک اپ کے دوران آپ وہاں رہیں،، اڑھائی بجے کا انہیں ٹائم دیا، ایک گھنٹہ اڈیالہ میں انتظار کرتے رہے مگر پھر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے میں نہیں آ سکتا۔۔ ان کے انکار اور چیک کے اپ کے بعد ہم نے پھر رابطہ کیا کہ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی، قائد حزب اختلاف سینیٹ اور بیرسٹر گوہر تینوں آ جائیں اپنے ڈاکٹرز کو بھِی لے آئیں۔۔ جواب ملا کہ ڈاکٹرز تو لاہور میں ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر پمز آئے اور ان کے ڈاکٹرز فون پر تھے، ڈیڑھ گھنتہ بریفنگ ہوئی، ان کے ڈاکٹرز نے کہا بہترین علاج ہو رہا ہے ہم مطمئن ہیں۔ اس موقع پر میں نے پھر کہا کہ اپنے ڈاکٹرز سے پوچھیں کہ کوئی ایسا ٹیسٹ رہ گیا ہے جو آپ کے ڈاکٹرز کروانا چاہئیں ہم تیار ہیں۔۔ اس کے بعد جب سب واپس گئے تو علیمہ خان نے پارٹی کے لوگوں کو کہا اور یہ ہمارے پاس موجود ہے کہ اگر ہم سب کچھ مان گئے تو ایشو ختم ہو جائے گا۔۔ علیمہ خان کی وجہ سے تین دن تک عمران خان کا چیک اپ نہیں ہو سکا، پی ٹی آئی کے سیاسی لیڈر عمران خان کے علاج پر آن بورڈ ہوتے تھے مگر علیمہ خان ہر چیز کو ویٹو کر دیتی تھیں۔ ان کی اپنی نیت میں کھوٹ ہے۔

Mudassar Saeed

23,323 просмотров • 6 месяцев назад

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 просмотров • 8 месяцев назад

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل اپنے موقف پر، اپنے کیے گئے انکشاف پر ڈٹ گئے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا تہلکہ خیز انکشاف کرکے سہیل آفریدی کو چیلنج کردیا 🔥🔥 کل کے جو آپ کے انٹرویوز آئے اُس میں آپ نے Deny کیا اُس خبر کو جو ہم نے دی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آپ کی ایک بہت ہی اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی اور ہم نے کورکمانڈر کا نام لیا تھا۔ پہلے ہم نے جس دن خبر دی بتایا کہ دو سے چار بجے، اُسی دن ہمارے سورس نے کنفرم کیا کہ ٹائمنگ غلط تھی چار بجے کے بعد اور یہ بھی بتایا کہ وہ سنئیر ترین پولیس افسران کے ساتھ ملاقات میں تھے، آئی جی کے گھر کے قریب۔ کتنی گاڑیوں پر گئے، کون کون انکے ساتھ تھا کورکمانڈر کے، کیسے وہ چیف منسٹر ہاؤس تک پہنچے۔ وہ تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں، ہم ان Details میں نہیں جارہے۔ اور ہمارے Source نے بتایا کہ ملاقات چار ساڑھے چار بجے کے بعد ہوئی، اگلے ہی ویلاگ میں ہم نے وہ اپڈیٹ کیا۔ آپ نے کہا کہ وہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری ذمہ داری کے ساتھ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں، اگر خبر غلط ہو تو میں پہلے ہی کہے دیتا ہوں، یہ سنی سنائی ہے، ہم اسکے اوپر پہرہ نہیں دے سکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے بہت قریبی شخصیت وہ اس کے سورس ہیں اور وہ ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بتا دیں، میں پکڑا بھی گیا تو خیر ہے، لیکن یہ آفریدی صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ سب کو پتہ ہے۔ اچھا اب کیا آپ پہلی مرتبہ کورکمانڈر سے ملے ہیں، کئی مرتبہ پہلے بھی ملے ہیں۔ اب آپ اس ملاقات کو Deny کر رہے ہیں۔ میں کہے رہا ہوں ایک ملاقات نہیں، آپ کی بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور پہلے بھی ہوتی رہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور ہمارے بہت ساری ملاقاتیں علم میں بھی ہیں اور ہم نے کبھی یہاں سے رپورٹ نہیں کیا کیونکہ وہ Importants نہیں ہیں۔ آپ چیف منسٹر کے عہدے پر ہیں کئی وجوہات کی بناہ پر آپ کو ان سے ملنا پڑ سکتا ہے۔ اب کیونکہ یہ جلسے سے ایک دن پہلے معاملہ تھا اور پھر 27 تاریخ کے اوپر ہماری Reservations ہیں۔ کورکمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا، پولیٹیکل کمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا۔ بہت سے سنئیر لوگوں سے میں نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ Date کیسے دی گئی ہے۔ اُسی پر میں نے بھی سوالات اُٹھائے، مراد سعید صاحب نے بھی اُٹھائے اور علیمہ خانم صاحبہ نے بھی اُٹھائے۔ اب آپ نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوئی، میں ابھی بھی پوری ذمہ داری سے اور ایمانداری سے اپنی خبر کے اوپر کھڑا ہوں کہ ملاقات ہوئی۔ بلکہ آپ کو ایک اور Interesting بات بتا دوں۔ کل تین آپ کے انٹرویو چلے، تین ڈیفرنٹ چینل پر۔ حالانکہ پورے سال کے اندر کبھی آپ کا کوئی بھی ایسا انٹرویو چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے فون کے اندر میسج ہے کبھی اچھے دن آئیں گے تو یہ کیمرے میں ریکارڈ کر لیجیے تاکہ ثبوت رہے کہ جن تین لوگوں نے کل آپ کا انٹرویو لیا، انٹرویو کے فوراً بعد اُنہی کی ٹیم میں سے مجھے یہ میسج بھیجا گیا۔ وہ بہت ہی معتبر شخصیت جنہوں نے میسج بھیجا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے چیف منسٹر نے آپ کی خبر کو جھٹلا دیا ہے کہ اُنکی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے آگے سے کہا مجھے پتہ ہے اور ان کا جھٹلانا ہی بنتا ہے، یہی انکی پوزیشن ٹھیک ہے۔ میں بار بار تو چیزیں Rep نہیں کروں گا، میں نے جو کہنا تھا کہے دیا۔ تو اُس شخصیت نے آگے سے کہا کہ میری بھی یہی خبر ہے کہ اُنکی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ میں بالکل خدا کو گواہ بناکر آپ کو بات کہتا ہوں اور یہ انہوں نے کہا اور کبھی آپ کو دیکھا بھی دیں گے اُنکی اجازت سے ویسے نہیں۔ ان سے اجازت لے کے اور وہ اجازت دے بھی دیں گے کیونکہ وہ خان صاحب کے خیرخواہ ہیں اور وہ چاہیں گے کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میرے پاس یہ خبر تھی۔ اور انہوں نے ایک جملہ بولا کہ ایسی ملاقاتیں چھپتی تھوڑی ہیں۔ اگر مجھے ساری Details پتہ ہے، ایک ایک بات پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے، تو CM صاحب کو بھی چھپانی نہیں چاہیے تھی۔ میں اپنی خبر پر ابھی بھی قائم ہوں کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو میں خود مانتا اور آپ سے معذرت کرتا کیونکہ کوئی میرا یہ کوئی IQ لیول کا ٹیسٹ تو نہیں ہے ناں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

64,969 просмотров • 21 дней назад

2022 کے وسط میں ہم نے یہ منظر دیکھا کہ سپریم کورٹ آدھی رات کو بیٹھی۔ رات بارہ بجے سپریم کورٹ کا اجلاس ہوا۔ کیا دنیا میں کہیں ایسا پہلے کبھی ہوا ہے کہ آدھی رات کو عدالتیں اس طرح بیٹھیں اور مقدمات کی سماعت کے لیے کارروائی شروع کر دی جائے؟ اور پھر پاکستان کے ایک وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کارروائی کی گئی اور پارلیمان کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔حالات نے ثابت کر دیا کہ عمران خان کے خلاف ایک سازش تھی۔ پھر گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں جو کچھ ہم نے مسلسل دیکھا ہے، وہ انسانی اور بنیادی حقوق کی بے رحمانہ خلاف ورزیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ ملک کو ایک ایسی ریاست میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں خوف اور جبر کا راج ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ملک کو ایک آمرانہ اور جابرانہ طرزِ ریاست میں تبدیل کر دیا گیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں بنیادی حقوق کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں رہا۔ آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ قانون کی حکمرانی کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ہر چیز کو بے رحمی سے پامال کیا گیا ہے۔ اور اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دنیا اس بیان یا اس نوٹ پر یقین کر لے گی، تو میرا نہیں خیال کہ دنیا 8 فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات کو بھول گئی ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ لوگ گھروں سے نکلے، سڑکوں پر آئے اور پھر عمران خان کے حق میں ووٹ دیا۔دنیا جانتی ہے کہ عمران خان نے 180 نشستیں جیتیں۔دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کے پاس صرف 17 نشستیں تھیں۔ دنیا نے جمہوریت کے تصور کی ایک بے رحمانہ پامالی دیکھی، جہاں 17 نشستیں رکھنے والے شخص کو پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا، جبکہ 180 نشستیں جیتنے والا شخص 5 اگست 2023 سے جیل میں قید ہے۔ سردار لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ

PTI

27,894 просмотров • 1 день назад