Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کوئی بھی میڈیا چینل یا صحافی ججوں کی مراعات پر بات نہیں کر رہا سوائے مبشر لقمان۔ ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مرتے دم تک مفت بجلی اور مفت پٹرول و دیگر مراعات دی جاتی ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے؟ غریب آدمی دو وقت کی روٹی مشکل سے...

10,193 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کا پروٹوکول اور ڈالہ کلچر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ھے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ھے۔ ایسے شاہانہ پروٹوکول طبقاتی تقسیم کو ننگا کرتے ہیں۔ جب عام آدمی کا بچہ سکول جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، یا بیمار ہو کر سرکاری ہسپتال کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، تو اسی وقت اشرافیہ کے بچے سرکاری گاڑیوں کے جھنڈوں، مسلح محافظوں اور پولیس کی سرخیاں بچھا کر سڑکوں پر بادشاہوں کی طرح گھوم رھے ہوتے ہی۔ یہ پروٹوکول صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ ایک نمائشی طاقت اور مراعات کا کھیل ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مفت سہولیات، سرکاری وسائل پر بیرون ملک دورے اور شاپنگ، ٹریفک روک کر راستہ صاف کرانا، جبکہ عام شہری کی ایمبولینس کو بھی راستے میں کھڑا کر دیا جاتا ھے، یہ سب کس کے پیسوں سے؟؟ اسی غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے ٹیکس سے، جس کے بچوں کو ایسا پروٹوکول تو دور کوئی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتی، اشرافیہ کے بچوں کو یہ حق دے دیا گیا ھے کہ پورا نظام ان کی سہولت کے لیے رک جائے۔۔ یہ مراعات نہیں، ظلم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں۔ کیا ایک بچے کی جان دوسرے بچے سے زیادہ قیمتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے والد کی کرسی اونچی ہے؟ یا وہ بہت پیسے والا ھے؟ یا پھر اسکے والد کے بہت تعلقات ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق امیر غریب سب برابر ہیں۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ خدارا یہ پروٹوکول ختم کریں، مراعات ختم کریں اور وسائل کو عام عوام تک پہنچائیں جہاں سے یہ آئے ہیں۔ #طبقاتی_انصاف #پروٹوکول_ختم_کرو

چوہدری شاہد محمود

17,651 Aufrufe • vor 8 Monaten

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,733 Aufrufe • vor 6 Monaten