Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کوہاٹ میں غیرقانونی پلیسر گولڈ کی کان کنی کے خلاف پولیس کی کاروائی۔۔۔درابو کچھ کے علاقے میں لگائی گئی مشینری قبضے میں لیکر خیمے جلادیئے گئے۔۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس کان کنی میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے بھتیجے مجاہد آفریدی اور صادق آفریدی سمیت سابق ایم...

11,626 Aufrufe • vor 15 Tagen •via X (Twitter)

4 Kommentare

Profilbild von Syed Mahfooz Jan
Syed Mahfooz Janvor 15 Tagen

@aj_raja اس میں مرکری استعمال ہوتا ہے جو کہ نہ صرف ا بھی جانداروں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ انسانوں کے لیے بھی بہت خطرناک ہے

Profilbild von Observer Guardian
Observer Guardianvor 15 Tagen

@aj_raja

Profilbild von muhammad ayub khan
muhammad ayub khanvor 15 Tagen

@aj_raja ہاہاہاہا۔۔ اچھا ڈرامہ ہے۔۔

Profilbild von ahsan abbass
ahsan abbassvor 14 Tagen

@aj_raja Bullshit political story.

Ähnliche Videos

کل سے کچھ حضرات فرمائشی پروگرامز اور ٹویٹس کرکے کوہستان کرپشن کیس کا ملبہ پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کے اوپر ڈالنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ کوہستان کرپشن کیس کے حوالے سے وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا بیان آن ریکارڈ موجود ہے۔ اس کیس میں اصل ذمہ داری اکاؤنٹنٹ جنرل (AG) پر عائد ہوتی ہے، جو کہ وفاق کے ملازم ہیں۔ جتنی بھی رقم اکاؤنٹس سے نکالی گئی، وہ براہ راست AG کے اکاؤنٹ سے نکالی گئی، اس میں صوبائی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، اور نہ ہی صوبائی فنانس ڈیپارٹمنٹ اس معاملے میں ملوث ہے۔ یہ معاملہ ہم نے خود اجاگر کیا ہے۔ ہماری حکومت نے اس حوالے سے کابینہ میں باقاعدہ فیصلہ منظور کروایا ہے جو خیبر پختونخوا اسمبلی میں منظوری کے بعد باقاعدہ قانونی شکل اختیار کرلے گا۔ تاکہ آئندہ تمام سرکاری اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت ہوگی اور ان تمام اکاؤنٹس کا مکمل ڈیٹا فنانس ڈیپارٹمنٹ کے پاس دستیاب ہوگا۔ یہ اقدام اس لیے کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور مالی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

Yar Muhammad Khan Niazi

17,527 Aufrufe • vor 1 Jahr

آج خیبر میں کربلا تھی خیبر میں پرامن پٹھان جو بیابان میں بیٹھے ہیں جرگے کے انتظامات کررہے ہیں ان پر صوبائی حکومت کے احکامات پر پولیس نے کارروائی کرکے تین افراد کو شہید اور 12کو زخمی کردیا میں وہاں جانے لگا تو پولیس نے مجھے وہاں جانے نہیں دیا میں اس معزز ایوان کا حصہ ہوں اور فارم 45کا ممبر ہوں فارم 47کی پیدوار نہیں ہوں سٹبلشمنٹ ، صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو شکست دے کرآیا ہوں عوام کی طاقت اور جرات سے آیا ہوں کوئی خوش ہوتا ہے یا خفا ہوتا ہے خیبر پختونخوا کی عوام پر ظلم اور بربریت جاری ہے وفاقی حکومت نے پی ٹی ایم پر پابندی لگائی ہے جو آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے پرامن تنظیم وہ جوان کو گزشتہ 20سال سے جاری جنگ اور بدامنی سے تنگ آگئے ہیں اپنے عوام کیلئے امن مانگ رہے ہیں پولیس کیلئے امن مانگ رہے ہیں اس پرامن تنظیم پر وفاقی حکومت نے پابندی لگادی انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997کے تحت پابندی لگی ہے جو رجسٹرڈ تنظیم بھی نہیں ہے یہ آئین ہمیں تنظیم پارٹی تحریک چلانے اور پرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کا حق دیتا ہے اس تحریک نے آج تک کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا جس قانون کے تحت پابندی لگی ہے اس کے تحت تین روز میں وفاق پابند ہے کہ وجہ بتائے کہ اس تنظیم نے کہاں دہشتگردی کی ہے یہ اس مٹی کے بچے ہیں چاہے یہی کہ ریاست اس کے سوالات کے جوابات دے مسائل کو حل کرے آج وفاقی ہو یا صوبائی حکومت ہو۔۔۔ دونوں بے اختیار ہیں صوبائی حکومت کہتی ہے آئی جی میرے اختیار میں نہیں بہت افسوس کی بات ہے چیف سیکرٹری اور آئی جی آپ کے اختیار میں ہیں آئین یہی کہتا ہے کیسے پولیس اپنے احکامات پر پرامن نوجوانوں پر کارروائی کرتی ہے تین بار کارروائی کی گئی شیلنگ کی گئی خیمے جلائے گئے جس طرح پی ٹی آئی کے کارکنوں پر وفاقی حکومت نے شیلنگ کی اورآپ لوگ اسے ظلم کہتے تھے ویسے ہی صوبائی حکومت نے ان پر تین بار شیلنگ کی آنسو گیس استعمال کی ایف سی بھیجی گئی جس کے حکم پر گئی ؟ آئی جی کو اس ہاﺅس میں طلب کیاجائے اور سوال کیاجائے کہ کس کے کہتے پر یہ کارروائی کی گئی عوامی نیشنل پارٹی اس ظلم اور بربیت کی مذمت کرتی ہے اور سوال کرتے ہیں ریاست سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے کہ کیوں ظلم اور بربریت کی گئی عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی نثار باز

Muhammad Faheem

64,104 Aufrufe • vor 2 Jahren

اسلام آباد: 27 اپریل 2026. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی و پراسیسنگ کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی اور انکی برآمدات میں اضافے کا عزم، وزیرِ اعظم نے ملک میں تین سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی. اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے قیمتی پتھروں سمیت قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے. یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مقامی وسائل سے برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے. معاون خصوصی ہارون اختر اور انکی ٹیم کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات قابل ستائش ہیں. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت کے عنصر کو اہمیت دی جائے. وزیرِ اعظم نے پاکستانی قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات میں اضافے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی کو سونپ دی. وزارت منصوبہ بندی جلد جامع لائحہ عمل مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی. اجلاس کو قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور کان کنی کے جدید طریقوں کو رائج کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور انہیں زیورات میں مزین کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے حکومت تین سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لارہی ہے. گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں سینٹرز کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی. علاوہ ازیں اسلام آباد میں سینٹر کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی پر کام جاری ہے. اجلاس کو بتایا گیا کہ ان سینٹرز آف ایکسیلینس میں قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار کی پراسیسنگ کیلئے تربیت فراہم کی جائے گی. اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی نمائش کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے. اس کے علاوہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے افرادی قوت کی تربیت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں. اجلاس کو قیمتی پتھروں کی کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے حوالے سے وزارت پیٹرولیم کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر اس حوالے اشتراکی منصوبوں کا اجراء کیا جارہا ہے. ایک ہزار لوگوں کو قیمتی پتھروں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کان کنی کی تربیت بھی دی جارہی ہے. وزیرِ اعظم کو منصوبوں کے مراحل اور انکی تکمیل کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم کی شعبے کی برآمدات میں اضافے کیلئے وزرات منصوبہ بندی کو جامع لائحہ عمل مرتب کرکے جلد پیش کرنے کی ہدایت. اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، جام کمال خان، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Prime Minister's Office

18,313 Aufrufe • vor 5 Monaten

*وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا حزب اختلاف کے ممبران اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس* صوبائی اسمبلی میں ممبران اسمبلی کی مراعات کے متعلق جو قانون پاس ہوا ہے اس حوالے سے کنفیوژن پیدا کیا گیا، سوشل میڈیا اور میڈیا میں ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں جن کا اس ایکٹ میں نام و نشان بھی نہیں ممبران صوبائی اسمبلی کے لئے بلیو پاسپورٹ 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود تھا صوبائی کابینہ کسی ایسی نئی چیز کی منظوری نہیں دی جو 1988 کے ایکٹ میں شامل نہ ہو صوبائی کابینہ نے جو مسودہ منظور کرکے اسمبلی کو بھیجا تھا اس میں ممبران اسمبلی کے لئے لائف ٹائم پاسپورٹ اور اہل خانہ کے لئے پاسپورٹ شامل نہیں تھا، اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد اپوزیشن نے ان میں کچھ ترامیم کیں، آج وزیر اعلی سہیل آفریدی نے واضح ہدایات دی ہیں کہ ایکٹ کے جن شقوں پر اعتراضات آرہے ہیں، تمام پارلیمانی لیڈر کو بٹھا کر ان پر نظر ثانی کی جائے، پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ہمیشہ مثبت تنقید کا خیر مقدم کیا ہے، وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایات پر صحافی برادری کیساتھ مل بیٹھ کر جرمانوں اور دیگر نکات پر بات کرینگے، شفیع جان خیبر پختونخوا کی اسمبلی عوام کی منتخب نمائندہ اسمبلی ہے یہاں عوامی مفادات کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوگا اگر موازنہ کیا جائے، تو خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران کی مراعات دیگر صوبوں کی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے ممبران کے مراعات سے کہیں زیادہ کم ہیں، جب سے صوبے میں ہماری حکومت آئی یے ممبران اسمبلی کی مراعات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لئے جو نئی مراعات منظور کی گئیں ہیں وہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہیں، ٹول ٹیکس پچھلے 20 سالوں سے پارلیمنٹیرینز اور ججز کے لئے فری ہیں، بجٹ کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت پر بلا جواز تنقید کی گئی حالانکہ ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق ایک بہترین بجٹ دیا ہے، ہم پر شائد اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ ہم عوام کے اصل نمائندہ حکومت ہیں، ممبران اسمبلی کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہیں کٹیگری بی سکیورٹی دی گئی ہے، قومی اسمبلی، سینٹ ممبران سمیت ملک میں کل 57000 بلیو پاسپورٹ جاری ہوئے ہیں، ان پر بات ہونی چاہئے، وفاقی حکومت جاری شدہ بلیو پاسپورٹ کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے، صوبائی اسمبلی کے ممبران کو پہلے سے چار اسلحہ لائسنس کی اجازت تھی، صوبے کی مخصوص سکیورٹی حالات اور ممبران کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ادائیگیوں پر ممبران کو مزید چار لائسنس کی منظوری دی گئی ہے،

Shafi Jan

11,524 Aufrufe • vor 2 Monaten

وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِصدارت محکمہ ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات و جنگلی حیات کا اہم اجلاس! درختوں کی غیر قانونی کٹائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ٹمبر مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ جنگلات قوم کی امانت ہیں اور ان کی لوٹ مار ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔ غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی تجارت کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کو فوری گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سخت ترین قانونی اصلاحات کی جائیں گی اور سزاؤں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ قانون مؤثر اور ناقابلِ فرار بنایا جا سکے۔ وزیرِاعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ قانون میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر کے نئی تجاویز پیش کریں۔ وزیرِاعلی نے کہا کہ قانون کی خامیوں کے باعث قومی وسائل کی لوٹ مار ناقابلِ برداشت ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان قوانین کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ کوئی بھی شخص درختوں یا جنگلی حیات کے وسائل پر ناجائز ہاتھ نہ ڈال سکے۔

Yar Muhammad Khan Niazi

201,562 Aufrufe • vor 11 Monaten