Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی December 26, 1994: Parveen Shakir died in a car accident at the age of 42. A brief yet extraordinary life that gave us timeless verse—popular, soulful, tender, and...

11,542 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

بریکنگ نیوز 🚨خان کا سچا کھلاڑی چھا گیا، شہباز گل صاحب نے اعلٰی ظرفی کی مثال قائم کردی۔ شفیع جان کو معاف کرتے ہوئے ساتھ ہی بڑا اعلان کردیا۔ کوئی بھی اب تنقید نہ کرے شفیع جان پر 🔥🔥 ایک دو دن پہلے شفیع جان صاحب جو مجھ سے چھوٹے بھی ہیں، ہماری پارٹی کے بھی ہیں۔ چلیں جو بھی انہوں نے کہا ان کی مہربانی۔ میں سب سے یہ بھی ریکویسٹ کروں گا کہ اب شفیع جان پر مزید تنقید کرنا بند کر دیجئے۔ جو بھی ہے ہماری پارٹی سے ہے۔ چھوٹا ہے ہم سے، ظاہر ہے وہ وہاں پر جن کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے ہیں، میرا خیال ہے ان کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے گریبان پر بھی ہاتھ ڈال لیا۔ میرے خیال میں یہ سہیل آفریدی کی اور شفیع جان کی شاید، میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ شاید ان کا اپنا فیصلہ نہ ہو، انہیں شاید یہ بھی کہا گیا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یہ کرنے کے لیے۔ یا وہ اتنے رَیٹل ہو گئے، رَیٹل کا مطلب یہ کہ یہ جو پریشر آیا، پہلے بھی پریشر میں ہیں، پھر ۲۷ پر علیمہ خان صاحبہ نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ۱۳ اگست کیوں نہیں، میں نے بھی اٹھا دیا باقی لوگوں نے بھی۔ ہم نے جو سوالات اٹھائے اس میں شاید ان کو پتہ تھا اور یہ بھی ان کی مہربانی کہ انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ پر حملہ نہیں کیا، وہ ہم سب کے لیے بڑی عزت کی جگہ پہ ہیں، انہوں نے اس کام کے لیے مجھے چنا تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ کم از کم انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ کو بخشا اور میرا انہوں نے انتخاب کیا کہ انہوں نے مجھ پر تنقید کرنی ہے، لیکن اب جو بھی ہوا، شاید وہ پریشر میں ہوا، دل سے ہوا، بددلی سے ہوا، جیسے بھی ہوا۔ لیٹس گیٹ اوور اٹ (Let's get over it)۔ اب ان پر مزید، آپ سے میری التماس ہے کہ مزید شفیع جان پر کسی قسم کی تنقید مت کیجئے۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن، یہ جو ۲۷ تاریخ کا انہوں نے دن چنا ہے، اس پر میں ذاتی حیثیت میں کوئی تنقید نہ کروں۔ ہاں اگر کوئی ڈیولپمنٹ (development) ہوتی ہے، اہم ایشو ہوتا ہے، کسی کا بیان ہے، کسی کا ایکسپریشن (expression) ہے، وہ تو آپ کے سامنے رکھوں گا، لیکن کوشش کروں گا کہ وہ جو کچھ لوگ ہماری پارٹی میں یہ کہتے ہیں کہ یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے، جیسی تیسی بھی انہوں نے اب کال دے دی ہے، آپ ان کے پیچھے کھڑے ہوں اور آپ ان پر تنقید نہ کریں، میں اب ان کے، آپ یہ کہیے کہ ان کی دلجوئی کے لیے کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اس پر بات نہ کروں اور اگر ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں مجھے کچھ ہوتا ہوا نظر آیا، تو پھر میں ۲۷ ستمبر تک جیسے میں نے پہلے ۵ مہینے ان کنڈیشنلی (unconditionally) سہیل آفریدی کے جو پہلے ۵ سے ۶ مہینے تھے، وہ آؤٹ آف دی وے (out of the way) جا کے انہیں سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، میرا کرنا بنتا تھا، ابھی بھی کوشش کروں گا۔ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اگر تو وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں، تو میں وہ بھی سپورٹ کروں اور پھر ۲۷ تاریخ تک بھی بھرپور سپورٹ کروں اور دیکھوں کہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اگر اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن تک ہم نے وہی کام دیکھا جو عمران خان رہائی فورس کے وقت تھا، رمضان سے پہلے جو ایک اعلان کیا گیا، پورا رمضان گزرا، چھوٹی عید، پھر سارا درمیان کا وقت، پھر بڑی عید، پھر محرم، سب کچھ گزر گیا لیکن رہائی فورس میں کچھ ہوتا ہوا ہمیں نظر نہیں آیا۔ اگر اگلے ۱۵ دن میں وہی سب کچھ ہوا اور کوئی ایکٹیویٹی (activity) نظر نہ آئی، تو پھر مجھے دوبارہ سے تنقید کرنی پڑے گی، میری چوائس (choice) نہیں ہوگی، میری مجبوری ہوگی، مجھے لگے گا کہ یہ بددیانتی ہے عمران خان کے ساتھ، ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ، بشریٰ بی بی کے ساتھ، جتنی سخت جیل وہ قیدِ تنہائی میں کاٹ رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

12,770 просмотров • 20 дней назад

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,710 просмотров • 1 месяц назад

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 просмотров • 9 месяцев назад

میں نے عادل راجہ کا ساتھ کیوں دیا؟ عمران ریاض پر تنقید کیوں کرنا پڑی؟ اور میں نے کتنے ڈالرز چھاپے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا مجھے مسلسل سامنا کرنا پڑا، تو سوچا آج ان کے جوابات بھی ہو جائیں۔ تو شروع کرتے ہیں۔ پہلے سوال کا جواب خود بخود واضح ہوتا چلا جائے گا، تو دوسرے سوال سے شروع کرتے ہیں۔ مگر پہلے آپ سے ایک سوال : جب تک عمران ریاض اعلان جنگ کر کے عادل راجہ کے خلاف میدان میں نہیں اترے، میں نے کبھی ان پر تنقید کی؟ عادل راجہ اکثر بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالتے رہتے ہیں، مگر کیا میں کبھی اس کا حصہ بنا؟ ممکن ہے کہ عمران ریاض کے اعلان جنگ سے قبل، کوئی دو چار پوسٹس میں مختصر تنقید ہو، مگر سچ کہوں تو مجھے بھی ان کے بولنے کا انداز اچھا لگتا تھا، اور بڑے بہادر بھی لگتے تھے۔ مگر جب وہ برطانیہ پدھارے، انہوں نے کہا کہ عادل راجہ چندہ کھاتا ہے، اور کہا کہ اب جو ان کو عدالت میں کیس کے لیے فنڈ کرے گا، اس سے لڑائی ہو گی، مجھے ان کا یہ اعلان فرعونیت لگا کہ وسائل کی فراہمی اللہ کا کام ہے۔ سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چل رہی تھی، کردار کشی جاری تھی راجہ فیملی کی، ایک تنقیدی پوسٹ کی عمران ریاض کے انٹرویو پر، ڈھائی سو کمنٹس، زیادہ تر میرے خلاف۔ لوگ عمران ریاض کے خلاف ایک لفظ تک نہیں سننا چاہتے تھے، چاہے وہ سچ کیوں نہ ہو۔ یہ مہم عمران ریاض لیڈ کر رہے تھے، لہٰذا ان پر فوکس ضروری تھا : ان کی مہم کو ناکام بنانے کے لیے بھی اور اس لیے بھی کہ جب تک کیس چل رہا ہے کوئی اگرمیدان میں اترے تو سوچ سمجھ کر۔ تیسری طرف، عادل راجہ کے معاملات پر لکھنا بھی تاکہ لوگوں میں آگاہی پھیلے۔ اس سہہ جہتی محاذ پر مسلسل نظر رہی، کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ اتنا مسلسل کیوں لکھا؟ صرف اسی وجہ سے لکھا ! عادل راجہ خاندانی آدمی ہیں، وہ گلی گلی چھابڑی لگا کر اپنی مظلومیت بیچنا پسند نہیں کرتے، دیگر لوگوں کی طرح، لیکن دنیا کو سچ بتانا بھی تو ضروری تھا۔ ٹارزن بھیا کا حملہ بہت لیتھل اور سٹریٹجک تھا، بہت نپا تلا۔ ڈائریکٹ فنڈنگ پر وار کہ عادل راجہ کیس لڑنا تو دور کی بات، کوئی وکیل تک بھی نہ کر پائیں اور تماشا بن کر رہ جائیں۔ جب یہ مہم شروع تھی، تو بظاہر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا والے کچھ لوگ پوچھ رہے تھے کہ تیس ہزار پاؤنڈز اکٹھے ہوئے تھے، وہ کہاں گئے؟ میں نے جب پوچھا تو بتایا گیا کہ تیس نہیں بلکہ اسی ہزار سے زیادہ اکٹھے ہوئے، ساتھ میں ضروری تفصیلات بھی کہ اگر چیک کرنا چاہوں تو خود چیک کر سکوں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کے ناقدین کو اتنی خبر تک نہ تھی کہ اصل رقم جمع کتنی ہوئی ہے، لیکن عمران خان کے خود ساختہ مجاہد تھے کہ مہم چلائے جا رہے تھے۔ یہ بات بذاتِ خود دلیل تھی اس بات کی عادل راجہ کے خلاف سارا پروپیگنڈا بے بنیاد تھا اور کسی مقصد کے تحت۔ تھوڑا بہت سوچا، سمجھا اور پرکھا اور اپنی پہلی پوسٹ لکھی : کیا عادل راجہ چندہ خور گدھ ہیں؟ اس کے بعد پھر چل سو چل۔ ڈی ایم میں معلومات آنے لگیں، کمنٹس میں بھی، لیکن حیرت انگیز بات پھر یہ رہی کہ عادل راجہ کے مخالفین کے پاس ڈھنگ کا سوال یا اعتراض بھی نہیں تھا۔ اب جتنا یہ موضوع آگے بڑھتا گیا، میں انوالو ہوتا چلا گیا، عادل راجہ اور سبین کیانی کی باتیں سچی ثابت ہوتی گئیں، دنیا بھی ماننے لگ گئی، کمنٹس گواہ ہیں کہ کسی نے ڈھنگ کا ایک اعتراض بھی نہیں کیا۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ اگر میرے سامنے سچ اور جھوٹ واضح ہوا پڑا تھا، تو سچ کی سائیڈ لیتا یا یہ مانترا گاتا رہتا کہ عمران ریاض جو بھی ہے، نام تو خان کا لیتا ہے؟ آج عمران ریاض کی کہانی پٹ چکی، ان کے الزامات جھوٹ ثابت ہو چکے، حتیٰ کہ ان کی یہ بات بھی جھوٹ ثابت ہو چکی، ان کے اپنے لفظوں سے، کہ عادل راجہ نے ان کی فیملی کی جان خطرہ میں ڈالی۔ دوسری طرف عادل راجہ کا کیس چل رہا تھا، انہوں نے لڑا بھی، اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے بھی ہیں۔ تو خود ہی بتائیے کہ کیا ساتھ دینا نہیں بنتا تھا ؟ ایک بات اور، میں نے عمران ریاض پر جتنی بھی تنقید کی وہ ان کی ان باتوں پر کی، جو وہ خود پبلکلی کہہ چکے، وہ بھی وہ باتیں جو وہ برطانیہ آنے کے بعد کہتے رہے، بڑے ہی محدود دائرے میں جو عادل راجہ سے متعلق رہا، میں نے کبھی ان کی قید یا گمشدگی کے دوران معاملات پر نہیں لکھا، کبھی ان کے مالی معاملات پر نہیں لکھا، اور کبھی ان معلومات کو استعمال نہیں کیا جو میرے پاس بھی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ معاملات حیات میں، انیس بیس نہیں بلکہ پندرہ بیس کے فرق کا قائل ہوں، ہم سب انسان ہیں، غلطیاں کرتے ہیں۔ لیکن اتنے محدود سے دائرے میں تنقید کے علاوہ کوئی آپشن نہ تھی ! خیر، اس صورت حال میں عمران ریاض کے کئی جھوٹ تو کھل چکے، مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اپنی فیملی کی جان کو خطرہ میں ڈالنے کا جھوٹا الزام انہوں نے مسلسل عادل راجہ پر کیوں لگایا؟ بلکہ اب بھی جونہی موقع ملتا ہے، پھر الزام لگا دیتے ہیں۔ عمران ریاض کہتے پھرتے ہیں کہ بے شک سو پروفائلز اور لے آئیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عمران ریاض ہوں اور بڑھک نہ لگائیں یہ کیسے ممکن ہے؟ جناب کو یاد دلاتا چلوں کہ جب آپ برطانیہ آئے تھے تو یہ کہہ رہے تھے کہ جو عادل راجہ کو فنڈ کرے گا، اس سے لڑائی ہو گی۔ حال اب یہ ہے کہ ہر جگہ اپنی صفائی دیتے پھر رہے ہیں کہ میری گواہی سے کچھ فرق نہ پڑتا۔ لوگ آپکے منہ پر کہتے ہیں کہ آپکو گواہی دینا چاہیے تھی، مگر آپ سے جواب نہیں بن پڑتا۔ ابھی تو کئی اور سوالات ہیں جو اگر لوگوں نے پوچھنا شروع کر دئیے تو آپ کے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو گا۔ آپ کچھ جواب دینے کی کوشش کریں گے تو چار سوال اور جاگ جائیں گے۔ ویسے کبھی سوچا، کہ کب بیانیہ پلٹ گیا؟ کب جناب کو اپنی صفائیاں دینا پڑ گئیں ؟ آپ کو تو فنڈ کرنے والوں سے لڑائی کرنی تھی ناں ؟ ففتھ جنریشن وار فئیر کسے کہتے ہیں ؟ اسے ہی کہتے ہیں۔ نامحسوس طریقے سے بیانیے کو پلٹ کر رکھ دینا۔ فرق تو کب کا پڑ چکا ٹارزن بھیا۔ عادل راجہ کے کیس کی فنڈنگ کے خلاف ٹارزن بھیا کی مہم ناکام ہوئی، راجہ صاحب کیس عدالت میں تو ہارے، مگر عوام میں جیت گئے۔ ان کا یو ٹیوب چینل بھی بن گیا، اس بار وہ پہلے سے مضبوط بن کر ابھر رہے ہیں۔ لیکن اگر عادل راجہ سچے نہ ہوتے، ان میں استقامت نہ ہوتی، تو صرف لفظوں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ عمران ریاض بڑھکیں جتنی مرضی لگا لیں، لیکن اس بات کو اب وہ بدل نہیں سکتے کہ موقع تھا مگر وہ بریگیڈیئر کے خلاف گواہی سے بھاگ گئے، جیسے وہ اپنی فیملی کو، ان کے اپنے بقول، خطرہ میں ڈال کر سات ملکوں کی سیر کو نکل گئے۔ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس موضوع پر میں نے متواتر کیوں لکھا؟ عرض ہے کہ اگر آپ لوگ خاموش نہ رہتے، سچ کو سچ کہتے، جھوٹ کو جھوٹ کہتے، تو مجھے ضرورت نہ پڑتی۔ ہم سوشل میڈیا پر بھی جھوٹ کو جھوٹ نہیں کہہ سکتے اور پوچھتے پھرتے ہیں کہ یار انقلاب کیوں نہیں آتا ؟ قصہ مختصر، عادل راجہ کا کیس اب اپیل میں جا چکا، جو ہونا تھا، ہو گیا۔ تو اب یہ باب بند کرنے کا وقت آن پہنچا۔ میں نے کتنے ڈالرز چھاپے؟ لکشمی دیوی کے پجاریوں کے لیے یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کچھ کام بنا پیسوں کے بھی کیے جاتے ہیں۔ سوال بہرحال سوال ہوتا ہے، اور اس کا جواب آپ کو Miss Sloane فلم کے اس کلپ سے مل جائے گا۔ تو انجوائے کیجیے جیسیکا چیسٹین کی شاندار پرفارمنس 😊 انہی الفاظ کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام کو پہنچتا ہے۔ کہا سنا معاف 🙏 رہے نام اللہ کا

Kashif Aslam

63,465 просмотров • 9 месяцев назад

آج طیب بلوچ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ نہایت قابلِ مذمت ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے اس عمل کی مذمت کرتا ہوں کہ کسی بھی صحافی کو خواہ اس کا رویّہ کچھ بھی ہو جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچانا چاہیے اب ذرا سوچیے اور غور کیجیے کہ معاملہ کیا تھا جب ہم نے طیب بلوچ کو دیکھا اس وقت دن کے گیارہ بج رہے تھے وہ خاصے فاصلے پر کھڑے رہے، شاید اپنے ماضی کے بیانات اور رویوں کے باعث عوام سے براہِ راست سامنا کرنے سے گریزاں تھے اس کے باوجود وہ بار بار عوام سے فون پر رابطہ کرتے رہے جیسا کہ تصاویر اور ہماری ویڈیوز سے بھی واضح ہے کہ وہاں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن موجود تھے لیکن انہوں نے انہیں ہاتھ تک نہیں لگایا بعد ازاں پریس کانفرنس شروع ہونی تھی، جس میں کچھ تاخیر ہوئی کیونکہ علیمہ آپا وہاں کچھ دیر بعد پہنچیں ان کے ہمراہ موجود ساتھی بار بار کہہ رہے تھے کہ آپا کو فوراً پریس کانفرنس کا آغاز کرنا چاہیے، لیکن میڈیا نمائندگان اصرار کر رہے تھے کہ تھوڑا توقف کیا جائے۔ بالآخر علیمہ آپا نے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھ کر کانفرنس کا آغاز کیا۔ اسی لمحے طیب بلوچ سامنے آئے اور انہوں نے پہلا سوال رکھا۔ ان کا سوال یہ تھا کہ "آپ کے کارکن اور آپ خود بعض صحافیوں کے خلاف پراپیگنڈا کر رہے ہیں، یہ کیسا رویّہ ہے؟" اس پر نعیم پنجوتہ خاصے برہم ہوئے اور تلخ کلمات استعمال کیے۔ اگرچہ علیمہ آپا اور دیگر ساتھیوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، مگر ماحول کشیدہ ہوتا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد طیب بلوچ نے دوسرا سوال کیا: "آپ کس طرح سے صحافیوں کے خلاف منظم مہم چلا سکتی ہیں، آپ کی حیثیت ہی کیا ہے اوقات کیا ہے اپ کی؟" جیسے ہی لفظ "حیثیت" استعمال ہوا، تو نعیم پنجوتہ نے پھر بدزبانی کی اور دیگر افراد نے بھی اس کی تائید میں سخت جملے کہے۔ میں نے خود بھی طیب بلوچ کے رویّے کو غیر موزوں قرار دیا، لیکن حالات تیزی سے بگڑ گئے۔ اس موقع پر طیب بلوچ مشتعل ہو گئے اور کارکنوں کو للکارنے لگے کہ "میں تم سب کے خلاف ایف آئی آر درج کرواؤں گا"۔ نتیجتاً کارکنوں نے ان پر تشدد کیا۔ ہم صحافیوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور صلح صفائی کروائی، مگر اس دوران ہمیں بھی کچھ دھکے اور مکے سہنے پڑے۔ طیب بلوچ بار بار کہتے رہے: "مجھے جانے دیں، مجھے مارنے دیں"، اور ان کا رویّہ خاصہ غیر متوازن دکھائی دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر میڈیا نمائندگان نے علیمہ آپا کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ ہم نے علیمہ آپا سے کہا کہ چاہے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا آپ کی بات نہ سنے، لیکن ڈیجیٹل میڈیا آپ کی آواز ضرور پہنچائے گا۔ چنانچہ ہم نے پریس کانفرنس ریکارڈ کی، اگرچہ الیکٹرانک میڈیا کے نمائندگان ہمیں روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ آج علیمہ آپا کے ساتھ جو رویّہ اپنایا گیا، وہ نہایت نامناسب اور افسوسناک تھا۔ یوں لگتا تھا کہ میڈیا پہلے سے طے کر کے آیا تھا کہ پریس کانفرنس کو ناکام بنانا ہے۔ آخر میں میرا سوال یہ ہے کہ اگر آج طیب بلوچ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو "پراپیگنڈا" کہا جا رہا ہے، تو پھر میرا مقدمہ کہاں گیا؟ مینارِ پاکستان پر مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا، فائرنگ کی گئی۔ کیا آج تک ان قاتلوں کا سراغ ملا؟ کیا ان کا احتساب ہوا؟ جب ان سنگین جرائم کا حساب نہیں لیا گیا تو آپ بتائیے کہ باقی معاملات میں کس طرح انصاف ممکن ہے؟

Agha Sheikh Sarwar

115,003 просмотров • 11 месяцев назад

ہر مقابلہ کے کچھ اُصول ہوتے ہیں ہر جنگ کے کچھ قواعد ہوتے ہیں کچھ لکھے ہوئے اور کچھ بغیر لکھے جو کاغذ پہ تو نہیں لیکن صدیوں کی روایات نے تاریخ کے قلمدان سے لکھے ہوتے ہیں۔ جنہیں انگریزی میں Unwritten Rules of the game کہتے ہیں۔ سیاسی جنگ کے بھی کچھ حدود و قیود ہوتے تھے جن میں زات پہ حملے نہ کرنا ایک دوسرے کے گھروں تک نہ جانا مائیں بہنیں سانجھی ہیں کا اُصول بزرگوں اور بچوں کو مقابلہ سے باہر رکھنا اور ایک دوسرے کے گھروں کی خواتین کا احترام رکھنا ہر حال میں ان باتوں کا خیال رکھنا یہی ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے اور یہی ہمارا کلچر بھی ہے چاہے پختون ہو پنجابی ہو سندھی ہو یا بلوچ ان اصولوں کی پابندی کی جاتی تھی لیکن افسوس کہ حالیہ چند مہینوں میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پہ اپنے سیاسی مخالفین کو زندانوں میں تو ڈالا گیا لیکن ساتھ ہی گھروں کی پردہ دار خواتین کو بھی نہ بخشا گیا جن کا سیاست سے براہ راست کوئ تعلق نہ تھا۔ قاسم سوری صاحب اور شہریار آفریدی صاحب کی گھریلو خواتین کو گھروں سے اٹھا کر جیلوں میں ڈالا گیا جو بہت غلط ہوا اور سب نے اس کو برا جانا لیکن بلخصوص پختون علاقوں میں اس قبیح عمل کو بہت ہی برا بھلا کہا گیا۔ اب کل سے سابق خاتون اول کی نام نہاد ”ڈائری“ کا جھوٹا پروپیگئںدا کر کے آسمان سر پہ اٹھایا گیا اور مشرقی روایات اور چادر چاردیواری کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ کچھ نے سیاسی مقاصد کیلئے اور کچھ ضمیر فروشوں نے چند ٹکوں کی خاطر۔ جھوٹ ایک لعنت ہے اور اس لعنت سے بچیں اور عمران خان کا سیاسی مقابلہ سیاسی میدان میں کریں اگر ہمت ہے۔ ایک غلط کیس میں جیل میں تو ڈال دیا اب صرف بغض عمران خان میں ان کی پردہ دار اہلیہ پہ زاتی غیر اخلاقی حملے کیئے گئے بغیر کسی ثبوط کے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ”اسلامی “ جمہوریہ پاکستان میں اب پردہ دار دیندار خواتین کی عزت اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں؟ کہیں تو لکیر کوئ اخلاق کی کھینچ لو کہ اس سے نیچے پستی میں مزید اور نہیں گرنا !!!

Ali Muhammad Khan

180,639 просмотров • 3 лет назад

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 просмотров • 2 месяцев назад

سیمن میں پروٹین ہوتاہے جو اپ کی سکن کیلے بہترین ہوتا ہے ۔۔ یہ الفاظ نہی یہ حیوانیت ہے ۔ یہ الفاظ ویڈیو میں نظر انے والی محترمہ نے کہے کچھ کوگ اس عورت کو ڈاکٹر مانتے ہیں۔ پہلے تو مردانہ کمزوری ۔ ٹائمنگ کے ایشو ۔ بانجھ پن اور عورتوں اور مردوں کے جنسی مسائل پر بات کرتی تھی ۔۔ پھر محترمہ نے کہا مزہ نہی ا رہا تھوڑامصالحہ اور مکس کرتے ہیں اور جنسی لذت کے ٹپس بتانے شروع کر دیے ہمبستری کے دوران بہترین پوزیشن کون سی ہے عوام کو فری میں بتانے لگی ۔۔ یہاں تک بھی سب ٹھیک تھا چل رہا تھا ۔ مگر اصل پھٹکار چہرے پر تب سے پڑنا شروع ہوا جب اورل سیکس کو جنسی لذت کے ساتھ جوڑ دیا ۔۔ ڈاکٹر صاحبہ نے سارے ارتے تیر اپنی طرف لے لیے اور ایسی بات کر دی جس نے ساری حدیں ہی پار کر دی ۔۔ انہوں نے semen میں چھپے پروٹین کے فوائد بتاڈالے اور اسے مغرب میں کیسے پروٹین سورس کیلے استعمال کیا جاتا ہے سکن کیلے اس کے فائدے ہیں ۔
1:06

Sensitive content

سیمن میں پروٹین ہوتاہے جو اپ کی سکن کیلے بہترین ہوتا ہے ۔۔ یہ الفاظ نہی یہ حیوانیت ہے ۔ یہ الفاظ ویڈیو میں نظر انے والی محترمہ نے کہے کچھ کوگ اس عورت کو ڈاکٹر مانتے ہیں۔ پہلے تو مردانہ کمزوری ۔ ٹائمنگ کے ایشو ۔ بانجھ پن اور عورتوں اور مردوں کے جنسی مسائل پر بات کرتی تھی ۔۔ پھر محترمہ نے کہا مزہ نہی ا رہا تھوڑامصالحہ اور مکس کرتے ہیں اور جنسی لذت کے ٹپس بتانے شروع کر دیے ہمبستری کے دوران بہترین پوزیشن کون سی ہے عوام کو فری میں بتانے لگی ۔۔ یہاں تک بھی سب ٹھیک تھا چل رہا تھا ۔ مگر اصل پھٹکار چہرے پر تب سے پڑنا شروع ہوا جب اورل سیکس کو جنسی لذت کے ساتھ جوڑ دیا ۔۔ ڈاکٹر صاحبہ نے سارے ارتے تیر اپنی طرف لے لیے اور ایسی بات کر دی جس نے ساری حدیں ہی پار کر دی ۔۔ انہوں نے semen میں چھپے پروٹین کے فوائد بتاڈالے اور اسے مغرب میں کیسے پروٹین سورس کیلے استعمال کیا جاتا ہے سکن کیلے اس کے فائدے ہیں ۔

Saleem Speaks

177,391 просмотров • 4 месяцев назад

اس بچے کے ورثاء کی تلاش کے لئے ہم نے چند روز قبل پوسٹ لگائی تھی لیکن تاحال ورثاء نہیں ملے۔ بچہ کراچی ملیر پولیس کو ملا تھا ،اس وقت سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظت میں ہے۔ بچہ جب ملا تھا تو کانوں سے سنتا نہیں تھا۔ چائلڈپروٹیکشن کی انتظامیہ نے ڈاؤ اسپتال سے ٹیسٹ کروائے تو پتہ چلا بچے کو آلہ لگایا جائے تو سننے کے قابل ہوسکتا ہے۔ پہلے ڈیوائس کی قیمت پچاس ہزار بتائی گئی تھی۔ لیکن پھر معلوم ہوا وہ سب سے ہلکی کوالٹی ہے جسمیں شور ہوتا ہے آواز صاف نہیں رہتی۔ گزشتہ کل ہم چائلڈ پروٹیکشن عملے کے ساتھ کلینک گئے وہاں اچھی ڈیوائس کا انتخاب کیا جسکی قیمت ایک لاکھ ستر ہزار روپے بعد از ڈسکاؤنٹ طے ہوا۔ الحمدللہ دوستوں کی مدد سے پیسے مکمل ہو گئے۔ کل بچے کی ناپ لی گئی ان شاءاللہ ایک ہفتے بعد تیار ہوکر لگے گی۔ بچے کو جب آزمائش کے لئے آلہ لگا تو چہرے کے تاثر سے پتہ چلا کہ پہلی بار کچھ سننے کو ملا ہے۔ ڈاکٹر کے بقول ڈیوائس لگنے کے چند ماہ بعد بچہ رسپانس کرےگا جب وہ سن کر کچھ الفاظ سیکھےگا۔ اس پر خصوصی محنت کی ضرورت ہے کوئی ٹیچر اسکے ساتھ باتوں میں مصروف رہے گا تو یہ بات کرنا سیکھےگا ورنہ نہیں۔ اس بچے کی پوسٹس ہر جگہ چلی ہیں لیکن ورثاء نہیں مل رہے۔ بچہ ماشاءاللہ بہت پیارا اور معصوم ہے۔ اگر بالفرض ورثاء نے بوجھ سمجھ کر اس پھول جیسے بچے کو چھوڑا ہو اور ہمارا یہ پیغام ان تک پہنچ رہا ہو تو وہ یاد رکھیں کہ کل قیامت کے روز یہ تم سب کو گریبان سے پکڑ کر سوال کرےگا کہ اتنی ننھی عمر میں مجھے کیوں دربدر کیا؟ خدارا اب بھی وقت ہے اپنی آخرت بچائیں آکر بچہ لیکر جائیں #waliullahmaroof

waliullah Maroof

15,330 просмотров • 2 месяцев назад

ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل پر جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے طاقتور طبقے کی اخلاقی اور سماجی پستی کا عکاس ہے۔ ایک نجی اشتہاری کمپنی Bionic Films کے مبینہ مالک سلمان فاروقی، جن کے پاس نہ کوئی برداشت تھی، نہ اخلاق، اپنی مرسیڈیز سے ایک موٹر بائیک والے کو ٹکر مار بیٹھے۔ لیکن حادثے سے بڑی ضرب تو اُس غریب لڑکے کی عزتِ نفس پر لگی، جسے صرف اس لیے سرِ عام مارا پیٹا گیا کیونکہ سامنے والا "سی ای او" تھا، اور خود کو "سرکاری افسر" ظاہر کر رہا تھا۔ بات ٹکر کی نہیں، طاقت کے نشے کی ہے۔ معافی مانگتی بہنیں ہاتھ جوڑ رہی تھیں، لیکن "شہر کے شرفاء" کو رحم کہاں آتا ہے؟ یہ وہی شہر ہے جہاں عزت بھی طبقاتی بن چکی ہے — جس کے پاس گاڑی ہے، سرکاری عہدہ ہے، میڈیا پاور ہے، وہ چاہے تو مارے، دھمکائے، عزت پامال کرے اور پھر کیمرے بند کر کے قانون سے بھی بچ جائے۔ سوال یہ ہے: سلمان فاروقی جیسے لوگ کس کی چھتری تلے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ کب تک کراچی میں طاقتور کا قانون چلے گا؟ کیا اس شہر میں غریب کی کوئی عزت نہیں؟ کیا بائیک پر بیٹھا ہر شخص بےوقوف ہے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ اگر آج اس نوجوان کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا، تو شاید وہ اور اس کی بہنیں یوں سڑک پر بے بس نہ ہوتیں۔ سوال صرف سلمان فاروقی پر نہیں، نظام پر ہے۔ یہ نظام کب بدلے گا؟ کیا میڈیا انڈسٹری کے "مائی باپ" قانون سے بڑے ہیں؟ یا پھر ہم سب نے اس ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا حلف اٹھا رکھا ہے؟ @@KarachiPolice_@SouthDig

Fahmidah Yousfi

123,710 просмотров • 1 год назад

خدا ہم سب کا پسندیدہ مضمون ہے۔ ان کا بھی جو خدا کو مانتے ہیں، اور ان کا بھی جو اُس کے ہونے کو جھٹلاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماننے میں بھی محور اُسی کی ذات ہے اور انکار میں بھی۔ شاید انسان کو خدا سے زیادہ کوئی خیال مسلسل مصروف نہیں رکھتا۔ اپنی زندگی کی تقریباً ڈھائی دہائیاں پاکستان میں، ایک مذہبی گھرانے میں گزارنے کے باوجود بھی مجھ پر مذہب اُس طرح طاری نہ ہو سکا جیسے توقع کی جاتی تھی۔ شاید کچھ لوگ عقیدے میں پیدا ہوتے ہیں، اور کچھ سوال میں۔ میرے بچپن کی کئی دوپہریں اکیلے جھولے پر جھولتے ہوئے خدا سے باتیں کرتے گزری ہیں، اور کئی راتیں ننّا کی جائے نماز کے ساتھ لیٹ کر۔ وہ عشاء پڑھتے ہوئے جس انہماک اور ایثار سے محوِ کلام ہوتیں، مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے خدا واقعی اُن کے سامنے موجود ہے، اور اُن کی ضرور سنے گا۔ بچپن میں شاید ہم خدا کو دلیل سے نہیں، دوسروں کے یقین سے پہچانتے ہیں۔ میں نے شاید کبھی خدا کی ذات کو جھٹلایا نہیں، ہاں روایتی طور پر اپنایا بھی نہیں۔ نمازیں پڑھیں، مگر وہاں ایک نہایت خوبصورت زبان کے درست تلفظ پر اتنی توجہ تھی کہ سارا دھیان اُسی پر رہتا۔ عبادت میرے لیے ایک صوتی ترتیب بن گئی تھی، روحانی تجربہ نہیں۔ یہ عمل meditative ضرور تھا، مگر اُس میں خدا کم تھا۔ ویسے meditation تو میرے لیے برتن دھونا اور کھانا پکانا بھی رہا ہے۔ شاید انسان جس لمحے مکمل انہماک میں داخل ہو جائے، وہ لمحہ کسی نہ کسی صورت عبادت بن ہی جاتا ہے۔ خیر، نماز سے آہستہ آہستہ دوری ہو گئی، خدا سے نہیں۔ گھر میں جب سب مل کر مغرب کی نماز پڑھتے، تو میں باہر نکل آتی تھی، اور پھر میری اور خدا کی براہِ راست یکطرفہ گفتگو شروع ہو جاتی۔ اور جیسے ہم سب جانتے ہیں، خدا بولنے سے زیادہ سننا پسند کرتا ہے، اور میں بولنے کی شوقین رہی ہوں، خاص طور پر جب کوئی چپ کرانے والا نہ ہو۔ اگر یہ کہوں کہ مجھے کبھی جواب نہیں ملے تو شاید یہ غلط ہوگا۔ ہاں، جواب براہِ راست نہیں ملے، مگر ملے ضرور۔ کبھی کسی حادثے کی صورت، کبھی کسی انسان کے جملے میں، کبھی کسی بے سبب سکون میں۔ شاید خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہونے کا اعلان کم کرتا ہے، احساس زیادہ دلاتا ہے۔ کبھی کبھار رنجش بھی رہی کئی کئی دن، ہفتے، مہینے، جیسے پرانے دوستوں میں ہو جایا کرتی ہے۔ مگر میرے اس خیالی دوست کی سب سے خوبصورت بات شاید یہ لگی کہ اُس نے میرے مزاج کے ساتھ ساتھ خود کوڈھالا، اور ہمیشہ ہر دور میں relevant رہا۔ انسان بدلتا رہا، خدا کا تصور بھی بدلتا رہا، مگر گفتگو کبھی ختم نہیں ہوئی۔ اب خدا وہ بچپن والی، آسمان سے اونچی اور کائنات در کائنات پھیلی ہوئی ہستی نہیں رہا؛ اب وہ کہیں زیادہ رسائی میں ہے۔ اب خدا سے بات کرنے کے لیے جائے نماز بچھانی نہیں پڑتی۔ وہ کبھی چائے بناتے ہوئے مل جاتا ہے، کبھی رات کے آخری پہر، اور کبھی کسی بے نام اداسی میں۔ اور میں منصور کو دُہرا کر خود کو مزید مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتی۔ میں نے ایسی کئی کتابیں خریدیں، جس سے میں جان پاتی کہ باقی لوگ خدا کو کیسے دیکھتے ہیں، صرف ایک مذہب یا ایک نظریے سے نہیں بلکہ مختلف زاویوں سے۔ کچھ کتابیں پڑھیں، کچھ اب بھی بک شیلف میں سجی ہوئی ہیں۔ کبھی ایک نہایت سمجھدار اور خوش گفتار شخص سے سنا تھا کہ تمام کتابیں پڑھی نہیں جاتیں، بعض کی محض سنگت ہی روح کو لطف دیتی ہے۔ شاید اسی لطف کو قائم رکھنے کے لیے ہم کتابیں خریدتے رہتے ہیں، پڑھتے رہتے ہیں، اُن میں الجھتے رہتے ہیں۔ اور یہ گورکھ دھندا گھوم پھر کر آخر ہمیں اُسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں دل میں بس ایک ہی صدا ابھرتی ہے: ”یہ خودی مجھ میں نہ ہوتی تو خدا ہو جاتا“ کیونکہ اناالحق کو سمجھنے والے نہ اُس دور میں تھے، نہ اس دور میں ہیں۔ ہم اپنے اندر بسنے والے منصور کو تھپکی دے کر سلاتے رہیں گے، اور خدا کو اس کائنات کی ہر شے میں تلاش کرتے رہیں گے۔

Moonstruck

12,444 просмотров • 3 месяцев назад

اسرائیل نے کچھ عرصہ قبل مغربی کنارے کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ایک نوجوان اسرائیلی فوج پر حملے کی تیاری کررہا ہوتا ہے۔ ڈرون اس پر حملہ کرتا ہے تو وہ ایک علاقے میں ڈرون کا نشانہ بنتا ہے جس میں اس کی کمر شدید زخمی ہوجاتی ہے۔ ڈرون ان آخری لمحات کی مک۔ل ریکارڈنگ کرتا ہے۔ وہ نوجوان شہادت کی انگلی بلند کرکے زور زور سے ہلا کر کلمہ شہادت پڑھتا ہے۔ پھر آخری سانسوں پر دیوار کا سہارا لے کر اپنے اوپری دھڑ کو آگے دھکیلتا ہے اور سجدہ کی حالت میں آجاتا ہے اور پھر اسی حالت میں جان اپنے پروردگار کے حوالے کردیتا ہے۔ اسرائیل نے یہ ویڈیو مزاحمت کاروں میں مایوسی پھیلانے کے لیے شیئر کی مگر اسرائیلی چال کے آگے میرے رب کی چال تھی۔ وہ ویڈیو دنیا میں اس قدر وائرل ہوئی کہ خود اسرائیلی انتظامیہ کو اسے ڈیلیٹ کرنے کی کوشش کرنے پڑی۔ مسلمان نوجوانوں نے اس نوجوان کی موت کے مناظر کو قابل تقلید جانا اور اس لہو گرم رکھنے کے مناظر بنا دیا۔ اس پروپیگنڈہ مہم میں اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی۔ اسی طرح اب یحیٰ سنوار کے آخری لمحات کے دعوے سے جو ویڈیو اسرائیل نے شیئر کی اس کا مقصد بھی یہ تھا کہ سربراہ کی شہادت کو دیکھ کر خدانخواستہ مایوسی پھیلے گی۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ شہادت کے مناظر نے ایک نیا سبق دیا۔ شیر اگلے محازوں پر لڑرہا تھا، فریکچرڈ ٹانگ اور شدید زخمی بازو کے ساتھ، دشمن اس قدر خوفزدہ تھا کہ زخمی شیر کی کچھار میں گھسنے کی ہمت نہ کرسکا۔ اا لیے تصدیق کے لیے ڈرون بھیجا۔جب چند سانسیں باقی تھیں تو بھی اس زخمی شیر نے ان مناظر کی ریکارڈنگ کرنے والے ڈرون پر آخری وار کیا۔ اس وار سے خوفزدہ دشمن کو اندازہ ہوا کہ یہ اس حالت میں بھی وار کررہا ہے تو مارٹر شیلوں اور راکٹوں کی برسات کردی اور شیر شہید ہوگیا۔ تب دشمن کو اس کے قریب جانے کی ہمت ہوئی۔ اس وقت بھی یہ ویڈیو مایوسی پھیلانے کی چال تھی مگر رب نے اسے ناکام بناکر اسے یہود کے خلاف استعمال کرا دیا۔ اب یہ ویڈیو مسلسل وائرل ہورہی ہے۔ اب ہر کمانڈر کو یحیٰ سنوار کی تقلید میں اگلے محازوں پر لڑنا پڑے گا تاکہ جنت کے ساتھ اپنے۔لوگوں کو دل بھی جیت سکے۔

Tariq Habib

138,420 просмотров • 1 год назад

یہ تحریر ۱۷ اگست ۲۰۲۳ کو سانحہ جڑانوالہ کے موقع پر لکھی تھی۔ پہلے فقرے میں بس جڑانوالہ کی جگہ سرگودھا پڑھ لیں باقی کچھ نہیں بدلا۔😢😢😢😢 جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا یقیناً آخری بار نہیں ہے۔ میں بُھول سکتی ہوں کہ میرے غریب مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ بہت زیادتی ہوئی۔ بس اتنی التجا ہے کہ مجھے بار بار یہ نہ سُنایا جائے کہ کسی مسلمان کا ایمان حضرت مسیح اور بائبل مقدس کو مانے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ مجھے بار بار یہ بھی باور نہ کروایا جائے کہ اسلام اقلیتوں خصوصا اہل کتاب کے ساتھ حُسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ نمجھے یہ بات متاثر نہیں کرتی ہے کہ اسلام تو اہل کتاب کے ساتھ کھانے پینے کی اجازت دیتا ہے۔ اور مجھے بھی سُننے میں کوئی دلچسپی نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے اپنی امت پرمسیحیوں کی جان مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ذمہ داری کا معاہدہ کیا تھا جس کی پاسداری نہ کرنے والے کی قیامت کے دن پُوچھ گچھ ہوگی۔ آپ وہی کررہے ہیں جو آپکو لگتا ہے کہ آپکی اپنی مذہبی توجیہات کے عین مطابق ہے۔ اگر یہ ساری باتیں واقعی آپکے ایمان کا حصہ ہوتیں تو آپ نے ان مذہبی انتہاپسندوں کا اب تک قلع قمع کردیا ہوتا جو آپ کے بقول اسلام کو اپنے مذموم مقاصد کےلئے استعمال کررہے ہیں۔ اور اگر آپ انکی روک تھام کےلئے کچھ نہیں کر پائے تو میرے نزدیک آپ بھی ان کے نظریات اور اعمال کو دل سے درست مانتے ہیں۔بس بین الاقوامی خصوصا مغربی ممالک سے معاشی مفاد کےلئے ان کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کی غرض سے کہہ دیتے ہیں کہ اسلام میں ایسے کسی ظالمانہ فعل کی گنجائش نہیں۔ آپ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں مجھے اس سے نہ تو کوئی غرض ہے اور نہ ہی کوئی مطلب۔ مجھے اپنے مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ کیے گئے ظلم کا جواب چاہیے جو آپ ہی کے مسلمان بہن بھائیوں کی طرف سے کئی دہائیوں سے کیا جارہا ہے۔مجھے اندازہ ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ بہت شرمندہ اور نالاں ہیں لیکن محض اتنا کافی نہیں ہے۔ اور اگر کوئی جواب نہیں ہے تو خدا کےلئے مجھے اپنے مذہب کی اچھی تعلیمات کی تبلیغ کرنے سے پرہیز کریں۔ نوٹ: اگر ان ساری زیادتیوں کا جواب انڈیا اور مغرب کا رویہ ہے تو پھر ہمت کریں اور کہیں کہ ہم وہاں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا بدلہ آپ سے لے رہے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ شکریہ 🙏 #Sargodha #SargodhaTragedy #SargodhaIncident #ChristiansInPakistan

Mary James Gill

17,623 просмотров • 2 лет назад

27اکتوبرارشد ہم شرمندہ ہیں بہت زیادہ شرمندہ ہیں کہ تمہیں بچا نہیں سکے ، کیونکہ تم نے اللہ کے بعد ان لوگوں پر حد سے زیادہ یقین اعتماد کیا جو سب سے زیادہ تمہارے قریب تھے ،انہوں نے تمہیں چارے کے طور پر مگر مچھوں کے آگے پھینک کر اپنی اپنی جان اپنا اپنا پیسہ اپنا اپنا عہدہ بچایا ، کاش تم ہر طرف سے سوچتے جو زیادہ قریب تھے ان کا وار ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے جیسے عمران کے ساتھ والے جیسے تمہارے ساتھ والے قوم کو ایک بار پھر بتاتے ہیں سب سے پہلے سائفر ارشد کے پاس پہنچا جو ایک محب وطن جرنیل نے دلوایا ارشد کے زریعے خان کو پتہ چلا خان نے قریشی کو بتایا قریشی نے اپنے آفس والوں سے پوچھا تو پتہ چلا آیا ہو ہے لیکن کوئی دبا کر بیٹھا ہوا تھا سائفر کی وجہ سے کس کس سزا ہوئی؟ ارشد شریف پہلا بندہ تھا پڑھنے والا پہلے وہ مارا مارنے کے لیے امریکہ کی انٹیلیجنس کے ساتھ انڈیا کی انٹیلیجنس کی مدد لی گی آپ کو بتا دیں کینا میں سب سے زیادہ بزنس طبقہ انڈین کا ہے اور کافی مضبوط بھی جرنل سرفراز ؟ جس کو راکٹ مار کر مارا گیا اس وقت مارا گیا جب موسم خراب تھا اور اس کو مجبور کیا گیا اسی طرف اڑے جس طرف سے ڈرون آیا تھا اجتک نہ ملبہ ملی نہ لاش نہ فوجی ہیلی کاپٹر کا مانیٹر باکس برگیڈر برقی ؟ اس جگہ مارا گیا جب کوئی دہشت گردی کی اطلاع نہیں تھی پہلے بازو توڑے گے پھر گلے پر چھرا چلایا گیا کسی جگہ کوئی گولی نہیں تھی اس کے ساتھ دو فوجی مرے جن کو شوٹ کیا گیا تھا نہ کوئی کمشن بنا نہ کوئی پوسٹ مارٹم ہوا نہ باڈی گھروں کو دیکھائی گی صرف تابوت میں چہرہ دیکھا کر رات کے اندھیرے میں دفن کر دیا اس کے علاو دو بیٹ مین جنیف ، جنید ایک چوکیدار اکرم تین ڈرائیور آصف ، اکمل ،قیوم مارے گے جن کا کوئی میڈیا رپورٹ موجود نہیں شو کیا گیا محاظ پر گھر والوں کو یہی بتایا جاتا ہے کون سے لوگ خطرے میں ، صابر شاکر کمپنی کچھ نہ کچھ بدلہ ضرور لے گی معید اب کو پتہ وہ امریکہ ہے لیکن لسٹ میں ہے اطہر وہ کمپرومائز ہو گیا عمران ریاض سب کو پتہ ہے عبرت کا نشان بنا کر عوام کو دیکھایا گیا کہ ہمارے سامنے بولنے والوں کا یہ حال ہوتا ہے سب سے زیادہ خطرہ کس کو ؟ مراد سعید کو کیونکہ کمپنی سمجھتی ہے ارشد کو بھاگنے میں مراد کا ہاتھ ہے جب کہ کیا یہ ممکن ہے ارشد باہر جا رہا ہو اور کمپنی کو نہ پتہ ہو یہ ایک الزام کے سوا کچھ نہیں کمپنی سمجھتی ہے ارشد نے پن ڈرائیو اور لیپ ٹاپ مراد کے پاس ہے یہ بھی جھوٹ ہے مراد کے پاس اب کچھ نہیں ہے وہ دونوں چیزیں محفوظ ہاتھوں میں ہے ، کمپنی کو صرف غصے ہے کہ ہمیں بتایا کیوں نہیں اگر مراد کے پاس تھا اس نے ہمیں دھوکہ دیا اس لیے بدلہ بنتا ہے وہ سمجھتے ہیں مراد نے اصلی سائفر ارشد کے ساتھ پڑھا ہوا ہے ، اوپر سے اس کے ٹوئٹ نے آگ کو اور بھڑکا رکھا ہے ٹوئٹ جو بھی لکھ رہا ہے اعلیٰ دماغ کا مالک ہے مراد سعید کو آخری حد تک بچایا جائے گا آگے جو اللہ کوُمنظور ،اس پر کچھ ابھی لکھ نہیں سکتے کیوں کہ کمپنی کتوں کی طرح سونگ رہی ہے جگہ اور مخلتف اینکر کے زریعے یہ تاثر دے رہی ے کہ وہ مراد کے قریب ہے اس لیے اس پر ابھی بات نہیں کریں گے اس لیے علاوہ فوجیوں میں سے اعلیٰ عہدوں سمیت کچھ لوگوں پر سخت نگرانی ہے جہاں جاتے ہیں کس سے ملتے ہیں کتنے بجے کمپوٹر فون کیا کھولا سب چیک ہو رہا ہے کیونکہ کمپنی کے غداروں کو بہت سے شک ابھی کلیر نہیں ہوئے اب تک 205لوگ فوجیوں سمیت لوگ غائب ہیں جن کا کسی کو کچھ پتہ نہیں ،گھر والے سوچ رہے ہیں محاذ پر ہیں ۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی کی عورتوں آمریت کتنے لوگ غائب ہیں وہ سب کو پتہ ہے سائفر نے کیا دیا ؟ سائفر نے ابھی تک ملک کو بربادی تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا ،سائفر نے پاکستان کے ہر شعبے سے وابستعہ ہر ادارے کے منہ سے نقاب اتار دیا۔ کون سا ادارہ کیا کرتا رہا کس کے ساتھ کھڑا تھا وہ سب بتا دیا ،سب سے بڑھ کر قوم کو پتہ چلا آج تک ہر صوبے کی پارٹیاں ایک ہی گھر یعنی فوجی گھر سے چلتی تھی ، ہر ایک کو سکرپٹ اور باری کے طور پر ہر تین سال بعد آگے پیچھے کر کے کبھی آپس میں جوڑ کر لایا جاتا تھا ، قوم کو پتہ چلا عدالتیں پردے پیچھے کہاں سے حکم لیتی اور چلتی ہیں ، قوم کو پتہ چلا مہنگائی کیسے اور کہاں سے کنٹرول ہوتی تھی ، قوم کوُپتہ چلا فرقہ واریت اور بوری بند لاشیں ،انسانی حقوق انہیں پارٹیوں کے زریعے کرا کے کیا مقاصد حاصل ہوتے تھے ، یہ سب کچھ بتانے کے لیے اللہ نے خان کو بھیجا وہ جیسے بھی آیا اس نے اپنا حق فرض ایمانداری سے پورا کیا ساری قوم اس سے راضی ہے قوم مردہ ضمیر بکنے والی ڈرپوک نکلی اگلی کچھ ٹوئٹ فلسطین پر پھر خاں پر ہو گی سیاسی ٹوئٹ ابھی تصدیق کے بعد کی جائیں گی سیاسی ڈرامے ایسے ہی ابھی چلیں گے زندگی رہی پھر ملیں گے بدلہ فرض قوم پر 😡👮🏿‍♀️ کیا آپ کی ناک دیکھتی ہے 👁️‍🗨️🔛🔚🪐🪐6.5987

SAGA in Field

133,961 просмотров • 2 лет назад

159 دن گزر گئے… میرے والد سابق MNA نثار پنہور اور میرے بھائی محسن پنہور کو 22 دسمبر 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، اور آج 29 مئی 2026 ہے۔ آج تک نہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی واضح معلومات دی گئیں۔ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ اُن لوگوں کے بھی جنہوں نے اس سے پہلے 16 ستمبر کو میرے والد کو اغوا کیا تھا۔ اُس وقت میرے والد کو 87 دن کی غیر قانونی حراست کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ ہماری فیملی نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ چلو یہ اذیت ختم ہوئی، مگر رہائی کے صرف 10 دن بعد، 22 دسمبر کو، میرے والد کو دوبارہ اُن کے بیٹے، میرے بھائی محسن پنہور، کے ساتھ اغوا کر لیا گیا۔ آخر کیوں؟ میرے والد نے 10 سال سے زیادہ اس ملک کی خدمت کی۔ جب وہ رہا ہوئے تو بغیر کسی دعوت کے ہزاروں لوگ اُن کی رہائی پر خوشی منانے آئے۔ یہ عوام کی محبت تھی، مگر شاید کچھ لوگوں کو یہ بھی برداشت نہ ہوا۔ 159 دن گزر چکے ہیں۔۔۔ آپ نے دنیا کے مسائل مذاکرات سے حل کیے، ہم اپنی پاک فوج کی اُن کوششوں کو سراہتے ہیں، مگر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ انصاف کیوں نہیں؟ اگر اختلاف ہے تو قانون موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں، مگر ایک باپ اور بیٹے کو اس طرح غائب کر دینا کون سا انصاف ہے؟ عید ہے خدارا… آپ بھی مسلمان ہیں، انسان ہیں، رحم کریں۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ یا اللہ میرے بابا سائیں نثار پنہور اور میری جان میرے بھائی محسن پنہور کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ اُنہیں جلد از جلد آزادی نصیب فرما۔ اور دنیا بھر کے تمام بے گناہ اور ناحق قید لوگوں کو رہائی عطا فرما۔ آمین۔ #ReleaseNisarAndMohsinPanhwar #PakistanZindabad

MohsinPanhwar

12,559 просмотров • 3 месяцев назад

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل کا بڑا تہلکہ خیز انکشاف۔ Exclusive سٹوری بریک کرڈالی۔ بلاول کا اسٹبلیشمنٹ کے خلاف بیان، پنڈی سے آئی ایک کال پر لیٹ گئے، دو گھنٹے بھی اپنے موقف پر کھڑے نہ ہوسکے 🔥🔥 بلاول زرداری نے تقریر میں کہا کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا ریاست کے مفادات کیلئے ن لیگ کیلئے نہیں۔آپ نے اس کو مقبوضہ کشمیر بنادیا۔ تقریر بلاول ذرا بھاری کر گئے۔ بلاول سیاست کی آئس کریم ہیں، جیسے آسکریم پگھل جاتی ہے، اپنی ہیت، شکل برقرار نہیں رکھ سکتی، بلاول کا بھی کچھ ویسا ہی حال ہوا ہے۔ اس بیان کے بعد بلاول سے کوئی ملنے آیا۔ یہ Exclusive خبر ہم آپ کو بالکل پوری طرح سے تحقیق کرنے کے بعد دے رہے ہیں۔ چوہدری صاحب کی طرح سے انکو کوئی ملنے آیا۔ یہ بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں ایک برگیڈئیر صاحب ملنے آئے، انہوں نے فون پر بات کسی اور سے کروائی جو ان سے ایک درجہ اوپر شخصیت ہیں، میجر جنرل فیصل نصیر صاحب سے۔ انہوں نے بلاول صاحب کی اچھی خاصی درگت بنائی ٹیلی فون کے اوپر۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ آواز کافی اونچی تھی اور سیدھی کھلی بے عزتی کی گئی، کہ آپ کو شرم نہیں آئی آپ نے یہ کیا باتیں کی ہیں ساری۔ آپ بھول گئے ابھی گلگت بلتستان میں آپ کو حکومت دی ہے۔ How Much You and Your Dad Wants۔ صدارت آپ کو دی، دو گورنر شپ آپ کو دیں، ڈپٹی سپیکر آپ کا بنوایا۔ انہوں نے سب کچھ گنوا دیا۔ سب کچھ آپ کو دیا ہوا ہے، آپ کو شرم نہیں آرہی آپ نے کس قسم کی تقریر ہمارے بارے میں کی ہے۔ اور پھر ساتھ ہی بلاول آئس کریم پگھل گئی۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے، آپ بلاول صاحب کو اسٹروبری آئس کریم سمجھتے ہیں یا آپ انہیں چاکلیٹ سمجھتے ہیں، یا آپ انہیں ونیلا یا بیچ میں کوئی اور فلیور مکس سمجھتے ہیں، بہرحال جو بھی ہو وہ آئس کریم ہیں، تو پھگل گئی فوراً ہی۔ بلاول نے کہا کہ نہیں نہیں میرا مقصد یہ نہیں تھا، میرا تو یہ تھا، میرا تو یہ تھا، وہی جو وہ کچی پکی بچارے اردو بولتے ہیں۔ پھر جنرل نے کہا مجھے نہیں پتہ، ابھی اور اسی وقت اسے ختم کریں اور Statements جاری کریں اور پھر فون بند کردیا۔ جو برگیڈئیر صاحب ساتھ بیٹھے تھے اُن سے بلاول صاحب نے پوچھا اب کیا کریں؟ اب یہ بھی فوجیوں کا طریقہ ہوتا ہے، ایک ذرا جو بھی ریٹائرڈ فوجی افسران ہے وہ آپ کو بتائیں گے پاؤں بھاری رکھیے گا، دوسرا کہے گا سر وہ آپ سے زیادہ کچھ غصہ کر گئے، صاحب غصے میں تھے لیکن میں آپ کی پوزیشن سمجھتا ہوں تو ایک آپ کے ساتھ مل جاتا ہے، تو بریگیڈیئر صاحب نے کہا کہ آپ انٹرویو دے دیں ٹیلی ویژن پر۔ پھر دو عدد انٹرویو Arrange کروائے گئے۔ پھر بلاول نے وسیم بادامی کے پروگرام میں کہا میں نے ریاست کہا تھا، میں نے اسٹبلیشمنٹ تو نہیں کہا تھا۔ یہ حالت ہے انکی۔ یہ Statements دے کے دو گھنٹے اپنی Statement پر نہیں رہے سکتے اور انہوں نے لیڈر بننا ہے اور کل کو وزیراعظم بننا ہے۔ دیکھ لیا آپ نے کیسے بری طرح سے انکو ملٹری جنرل استعمال کرتے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

46,672 просмотров • 29 дней назад

بقیہ پاکستان سے کہیں بہتر پھلتے پھولتے پاکستان کا نام پنجاب ہے نظام حکومت کا ہر شعبہ دوسرے تمام صوبوں کے مقابلے میں زیادہ efficient نظر آتا ہے کسی زمانے میں پاکستان کی شان کاروبار کی جان معیشیت کی Life Line کراچی ہوتا تھا 18 سال سے سندھ میں PPP حکومت ہے اور آج کراچی دنیا بھر میں بدترین نظام حکومت بدترین شہری سہولتوں کی مثال بن چکا ہے گزشتہ ہفتہ جب کراچی گل پلازہ کی تباہ کن آگ کے ملبے پر نوحہ کناں سندھ حکومت کی کارکردگی پر کھری کھری سنا رہا تھا انیس سال بعد لاہور میں بسنت کی واپسی ہوئی وہ محض ایک جشن نہیں تھا ، بلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے عوامی موڈ، معیشت اور سیاست تینوں کو ایک ساتھ ہلا دیا۔ تین دن تک لاہور رنگ، پتنگ، موسیقی اور خوشی میں ڈوبا رہا۔ چھتوں پر کھڑے لوگ ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے مگر ایک ہی نعرہ سب کو جوڑ رہا تھا — بو کاٹا۔ سخت سیکیورٹی، جدید ریگولیشن اور غیر معمولی انتظامات کے ساتھ بسنت نہ صرف محفوظ رہی بلکہ اربوں روپے کی معاشی سرگرمی بھی سامنے آئی۔یہ سب کچھ اُس پنجاب میں ہوا جہاں سیاسی تقسیم گہری ہے اور نوجوان و خواتین ایک فیصلہ کن قوت ہیں۔ بسنت نے نہ کوئی جلسہ کیا، نہ نعرے لگوائے، مگر عوامی فضا ضرور بدل دی۔ دہشت گردی کے واقعے کے باوجود جشن جاری رکھنا بھی ایک مضبوط پیغام تھا — کہ خوف زندگی کو نہیں روک سکتا۔سوال یہ نہیں کہ بسنت اچھی تھی یا بری، سوال یہ ہے کہ اس نے سیاست میں کیا بدل دیا؟مکمل، گہرے اور چونکا دینے والے تجزیے کے لیے On My Radar کا مکمل یوٹیوب ولاگ ضرور دیکھیں

Kamran Khan

43,605 просмотров • 6 месяцев назад