Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کچھ نا کچھ گڑبڑ تو ضرور ھے آزاد کشمیر کا سابق وزیراعظم بھی یہی کہہ رہا اگر انٹرنیٹ بند ھے تو پھر یہ لوگ سوشل میڈیا کیسے چلا رہے ہیں انکے پاس سیٹلائٹ انٹرنیٹ ھے جو 24 گھنٹے چلتا ھے ریاست سے سوال ھے انکے پاس سیٹلائٹ انٹرنیٹ کہاں...

16,531 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

دھرتی ماں کا انتقام۔۔۔!!! " کسی نہتے قیدی کی بدعا عرش تک یقینا ضرور پہنچی ھوگی جو استقامت اور صبر و عجز کا پہاڑ ھے جو راہ حسینیت کا مجاھد ھے جو اتنا عظیم بن چکا ھے کہ عظمت بھی گھبرا اٹھی۔۔۔یہ ریاست اسکے صبر و استقامت کا بوجھ اب شاید نہ اٹھا سکے ۔۔ اب 80 سالہ قائم عالیشان محل میں دراڑیں ڈلنے جارھی ھیں ۔۔۔زمین بوس ھونے کیلیے تیار یہ عالیشان محل دھڑام سے ضرور گریگا جسکے گرنے کی اوازیں دور دور تک جائیگی اس محل کے مکینوں پر خوف طاری شروع ھوچکا دھشت سے گھگیاں بندھ چکی ھیں نہ جانے کیا ھوجایے کی بلا انکے سر پر سوار ھے۔۔اب انکی باری ھے عوام اپنی باری گزار چکی ۔۔اسکی چکی بہت باریک پیستی ھے چکی کے چلنے کی اواز اب بہروں کو بھی آنا شروع ھے ۔زمین اور ریاست کا مالک فقط رب العالمین ھے کوئی بندہ بشر نہیں ۔یہ سب کچھ اسی کی ملکیت ھے ۔۔زمین پر عزت اسی کیطرف سے ھوتی ھے فنا بھی وھی کرتا ھے ۔یہ صرف ڈھیل دی جاتی ھے ملکیت نہیں ۔۔البتہ مائی زمین۔۔ نصیب والوں کو چند گز ضرور دے دیتی ھے۔۔۔ورنہ فقط دانت ھی مل پاتے ھیں ۔۔۔جو عبرت پکڑ لے تو پکڑ لے ورنہ عبرت ھی غائب ھوجاتی ھے۔۔۔۔اور لگتا یہی ھیکہ وہ غائب ھوچکی ھے ۔۔اب کرداروں کے غائب ھونے کا وقت شروع ھوا چاھتا ھے ۔۔۔زمین نجس اور ناپاک وجودوں کو تہس نہس کردیتی ھے اور زمین یہی کرنے جارھی ھے اسے حکم مل چکا ھے زمین کے خزانوں کی کنجیوں کے مالک اور علم کے شہر ْﷺ کی دعا سے بننے والی ریاست کیلیے علم کے دروازے ابو تراب نے یعنی مٹی کے باپ مولا علی عل نے یہ فرمایا تھا کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ھے مگر ظلم کی نہیں ۔

ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)

12,475 Aufrufe • vor 5 Tagen

بھیک مانگنا ایک پروفیشن بن چکا ھے۔ جو باقاعدہ آرگنائزڈ ھے۔ اسکے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ھیں جو بچوں عورتوں اور جعلی معذوروں کو بھرتی کرکے کروڑوں کما رہے ھیں۔ یہی مافیا انہی بھیک منگوں کو گلف کے ملکوں میں ھزاروں کی تعداد میں ایکسپورٹ کر رہے ھیں ۔ ان ملکوں نے زچ ھو کر ھمارے ویز ے بند کردیے ھیں۔ اس گھناؤنے کاروبار میں ائیر پورٹ پہ متعین مختلف محکموں کا عملہ برابر کا حصہ دار ھے اور مال بنا رہا ھے۔ سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سے آکر ھوٹلوں میں رہ کر دھندہ کرتے ھیں کچھ دیر سے انتظامیہ اور پولیس کی کاروائی سے اس کاروبار میں کمی آئ ھے مگر اب بھی انکی موجودگی نظر آتی ھے۔ سیالکوٹ میں بظاہر اچھے کھاتے پیتے انکے ٹھیکیدار ھیں جب گداگروں پہ کریک ڈاؤن ھوتا ھے تو وہ انکے سفارشی بن کر اپروچ کرتے ھیں۔ یہ کاروبار ملک بھر میں سب سے زیادہ "روزگار" میسر کر رہا ھے ۔ یہ کاروبار کسی شہر میں انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر نہیں ھو سکتا۔ اس کاروبار کے ساتھ اور بہت سے نہایت گھناؤنے دھندے منسلک ھیں۔

Khawaja M. Asif

64,514 Aufrufe • vor 6 Monaten