正在加载视频...

视频加载失败

کیا اسد طور سعد کریم کا انٹرویو کرے گا؟ 🚨🚨 یہ نوجوان بھی ایک بلوچ ہے اور ضلع لسبیلہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر ماہ رنگ بلوچ تمام بلوچ عوام کی ترجمانی کر رہی ہے تو سعد جیسے بلوچ کو کیوں دھکے مار کر نکالا گیا؟ کیا پاکستان کا...

32,574 次观看 • 2 年前 •via X (Twitter)

10 条评论

Shoaz 的头像
Shoaz2 年前

ڈاکٹر صاحب اسد بہت دُکھی اے کیونکہ کسی کی شادی ہوگئی ہے اور آپ اُسکے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہو کہیں وہ شادی کو سازش قرار دیکر ریاست پر نہ ڈال دے 😜🙏

Abdullah Khan 的头像
Abdullah Khan2 年前

Mahrang the Rangbaz

Syed Amanat 的头像
Syed Amanat2 年前

ایک بلوچ دہشت گرد یہ بھی ہے جس کی مشہورہ حامد میر نے کی اور ماہ رنگ بلوچ بھی کرتی رہی ہے

Shamoon Chaudhary 的头像
Shamoon Chaudhary2 年前

اس طور آج کل مجھے پینے کا شوق نہیں سن رہا ہے اور دیسی ٹھرا پی رہا ہے۔ ایمان نے شادی جو کسی اور سے کر لی۔ 🙈🙈🙈

Saleem Malik 的头像
Saleem Malik2 年前

😡😡😡😡😡😡😡👌👍

Aliuc 的头像
Aliuc2 年前

😂🤣

Shadow--Light 的头像
Shadow--Light2 年前

انکا انٹریو آپ کرا لے اگر اتنی لگی پڑی ہے.

Naila Khan 的头像
Naila Khan2 年前

Teri maa sai ghaliz orat hogi wessy

🇵🇸 عثمان 的头像
🇵🇸 عثمان2 年前

@AsadAToor

khan 的头像
khan2 年前

@Bishi_1995 Hello G 😜

相关视频

آج ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک معالج، ایک باشعور انسان، اور ایک متحرک بلوچ سیاسی رہنما ہے۔ ان کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کی بیٹی، سمی دین، گزشتہ سولہ برسوں سے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ میرے نزدیک ان سولہ برسوں میں صرف ڈاکٹر دین محمد ہی لاپتہ نہیں رہے، بلکہ انصاف بھی لاپتہ رہا۔ یہاں عدلیہ خاموش رہی، سچ کی آواز دبا دی گئی، حق چھین لیا گیا، اور انصاف کے تمام تقاضے مسلسل پامال ہوتے رہے۔ آپ سمی دین کو محض ایک فرد یا ایک بیٹی سمجھتے ہوں گے، لیکن میرے نزدیک ان کی جدوجہد پورے ریاستی نظام پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ: کیا سمی دین نے ان سولہ سالوں میں پاکستان کے کسی ادارے سے انصاف نہیں مانگا؟ انہوں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، عدالتوں سے لے کر تحقیقاتی کمیشنز، پارلیمانی کمیٹیوں سے لے کر دیگر تمام اداروں تک لیکن ہر جگہ سے صرف جھوٹ، تاخیر اور مایوسی ملی۔ ان سولہ برسوں میں جتنی حکومتیں آئیں، وہ سب انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہیں۔ جتنی عدالتیں اور جتنے بینچ بنے، سب نے ان کی فریاد کو نظرانداز کیا۔ سمی کی جدوجہد صرف انفرادی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی علامت ہے—ہر اس بلوچ خاتون کی کہانی جو انصاف کی تلاش میں ریاستی در و دیوار سے ٹکرا رہی ہے۔ یہ کہانی ہم سب کی کہانی ہے، اور یہ درد ہم سب کا مشترکہ درد ہے۔ ذرا ان بلوچ بیٹیوں کے بارے میں سوچیے جو بولنے کی طاقت نہیں رکھتیں، جن کے پاس کوئی سہارا نہیں، جو آگے بڑھنے سے قاصر ہیں۔ سمی کی جدوجہد نے ان تمام خاموش کہانیوں کو منظرِ عام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اور اس دوران خود سمی کو بارہا ہراساں کیا گیا، گرفتار کیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا، اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن میں سمجھتی ہوں وہ سمی نہیں تھی جو تشدد کا نشانہ بنی، وہ سچ اور حق کا بیانیہ تھا جسے توڑنے کی ہر کوشش کی گئی۔ آج جب ہم جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، تو ہمارے ساتھیوں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ ،گلزادی بلوچ اور دیگر ساتھیوں کو جیل کیا گیا ہے، انہیں دھمکایا جارہا ہے ڈرایا جارہا ہیں، میں بھی آج لواحقین کے ساتھ کھڑی ہوں تو میرے والد کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تاکہ ہم خاموش رہے تاکہ اس مسئلے سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس جدوجہد میں تمام متاثرین کا ساتھ دیں، کیونکہ یہ صرف سمی دین کی لڑائی نہیں، یہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ: •ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے •بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے •اور میرے والد کو فی الفور بازیاب کیا جائے #ReleaseDrDeenMohammad

Sabiha Baloch

16,127 次观看 • 1 年前