Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کیا بات ہے میڈیا کے درجنوں چینلز کو سانپ کیوں سونگھ گیا؟ چلائیں نا بریکنگ نیوز؟ نواز شریف اور مریم کی جنرل باجوہ سے NRO لینےکی گواہی وہاں سے آ گئی جسکے ذریعے منتیں کی گئیں جبکہ عمران خان ڈٹ کر اپنے مؤقف پر کھڑا اکیلا 200 "جعلی" کیسز...

153,262 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اڈیالہ کے باہر بدترین ظلم و جبر کا منظر جاری ہے جہاں علیمہ خان ڈاکٹر عظمی اور نورین آپا کو تاحال گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کی بدترین تذلیل کی گئی ہے سب سے پہلے کارکنوں کو دوسری سمت سے پولیس بھیج کر منتشر کیا گیا اور بے دریغ لاٹھیاں برسائی گئیں اس کے باوجود کارکنوں نے گورکھپور ناکے کی جانب سے آنے والی پولیس کا بھرپور اور جرات مندانہ مقابلہ کیا اس کے بعد سادہ لباس میں ملبوس افراد نے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا اور جب یہ ہتھکنڈہ بھی ناکام ہو گیا تو واٹر کینن کا استعمال کیا گیا حالانکہ وہاں کم سن بچے موجود تھے آپ نے خود دیکھا کہ ڈاکٹر عظمی کے نواسے اور نواسیاں بھی وہیں موجود تھے مگر ان معصوم بچوں تک کا کوئی لحاظ نہ رکھا گیا اور ان پر بھی زہریلا پانی برسایا گیا کئی بچے اس پانی کی زد میں آ گئے اس کے بعد تینوں بہنوں کو گرفتار کر لیا گیا ایم این اے شاہد خٹک کو بھی حراست میں لے لیا گیا اور اس وقت متعدد افراد پابند سلاسل ہیں عثمان جوڑا بھی گرفتار ہے جو چند روز قبل قید و بند کی صعوبتیں جھیل کر رہا ہوا تھا مگر ظلم و ستم کی یہ انتہا بھی ان کے لیے کافی نہ تھی جب ان کا دل نہ بھرا تو علیمہ خان نورین آپا اور ڈاکٹر عظمی پر براہ راست واٹر کینن سے حملہ کیا گیا جس پر کارکنوں نے چاروں طرف حصار بنا لیا اور عمران خان کی بہنوں کو بھیگنے سے بچایا لیکن اس تمام جبر کے باوجود بہادر علیمہ خان ان تمام ظالم قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی

Agha Sheikh Sarwar

38,603 Aufrufe • vor 9 Monaten

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

Nadia Baloch

32,366 Aufrufe • vor 6 Monaten