Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کیا تنخوا دار طبقہ کو ریلیف دیا گیا ہے؟ "تنخوا دار طبقے نے اس سال 600 ارب روپے ٹیکس دیا ہے تو اگلے سال وہ 550 ارب دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگلے سال وہ تقریباً 700 ارب روپے ٹیکس ادا کرے گا۔ حکومت صرف یہ کہہ رہی...

22,754 Aufrufe • vor 3 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک بہت بڑی وضاحت یہ ہے کہ جس شخص کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے یا اس سے کم ہے، اس پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ میں یہ بات بالکل واضح کر دوں کہ 50 ہزار روپے ماہانہ یا اس سے کم آمدنی پر زیرو ٹیکس ہوگا۔ اسی طرح جس شخص کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے، اس پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ اس کے اوپر والے تمام سلیبز میں بھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 22 لاکھ سے 32 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی۔ 32 سے 41 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کر دی گئی۔ 41 سے 56 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دی گئی۔ 56 سے 70 لاکھ سالانہ آمدن والے طبقے کیلئے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کر دی گئی۔ تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں کمی کے علاوہ سرچارج کا مکمل خاتمہ جو کہ 9 فیصد تھا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ #AskYourGovernment

Ministry of Information & Broadcasting

22,048 Aufrufe • vor 3 Monaten

وفاق کہتا ہے سارا کچھ صوبوں کے پاس چلا جاتا ہمارے پاس بچتا کچھ نہیں ، 14131 ارب ریوینیو میں 57 فیصد صوبوں جبکہ 42.50 فیصد وفاق کو جاتا ہے اس کے علاوہ نان ٹیکس ریوینیو ایک بڑی رقم 5141ارب روپے جو سو فیصد وفاق اپنے پاس رکھتا ہے۔ اس سال وفاق کی آمدنی کا تخمینہ 19278 ارب روپے ہے۔ جس میں صوبوں کو 8200 ارب دینے ہیں وفاق کے پاس 11072 ارب روپے بچیں گے اس میں وفاق جو کہتا کہ ہمیں ساڑھے 41 فیصد ملتا یہ سراسر بے ایمانی ہے۔ وفاق کے خرچ کا تخمینہ 17593 ارب ہے اصولاً اس میں ترقیاتی اخراجات 20 فیصد ہونے چاہئیں تھے لیکن انہوں نے صرف 1000 ارب رکھے، اس کو بھی اب یہ کہہ کر 700 ارب تک محدود کررہے کہ پیسے نہیں ہیں تو کہاں گئے پھر معیشت کی درست سمت کے دعوے؟ پیسے کدھر جارہے ہیں؟ 8260 ارب روپے سود کی ادائیگی میں جارہے ہیں جب سود کی شرح 22 فیصد تھی تب بھی 8900 ارب تھے شرح سود نصف پہ آگئی لیکن ادائیگی اتنی ہو رہی۔ تمام صوبوں کو ملا کر اتنی رقم دی جاتی ہے جتنی سود میں ادا کرتے۔ مزمل اسلم

Shakir Mehmood Awan

21,023 Aufrufe • vor 10 Monaten

اٹھارہ ہزار پاکستانی روپے اج انویسٹ کرو اور 139000 روپے کماؤ۔ کیا یہ ممکن ہے ؟ فیصل رضا عابدی کی یہ ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ کہ رہا ہے جس نے ارب پتی بننا ہے وہ اج ایرانی کرنسی خرید لے ۔ فیصل رضاعابدی نے نکمل لاجک کے ساتھ یقین کے ساتھ اپنی طرف سے بہترین دلائل دیے ہیں ۔۔ کیونکہ میں تھوڑا بہت نالج جانتا ہوں اب اس پر تھوڑی سی ریسرچ کی ہے مجھے لگتا ہے یہ بہترین وقت ہے انویسٹ کرنے کا ۔۔ اج کی تاریخ میں ایرانی 10 کروڑ ریال ÷ 15,49,000 = $64.56 ڈالر پاکستانی روپے میں تقریباً 18,000 روپے بنتے ہیں ۔۔ اگر ایرانی ریال 2 لاکھ فی ڈالر پر آ جائے اگلے چند سالوں میں تو سوچیں 10 کروڑ ریال ÷ 2,00,000 = $500 ڈالر پاکستانی روپے میں تقریباً 1,39,000 روپے اپکو فائدہ ہو گا ۔۔ 18,000 ہزار پاکستانی روپے لگائیں اور 1,39,000 روپے واپس۔۔ یعنی تقریباً 7.7 گنا اضافہ مطلب 670 فیصد منافع۔ 10 کروڑ ریال خریدنے کے لیے ابھی صرف 18 ہزار روپے چاہئیں۔ یہ رقم بہت کم ہے۔ اگر آپ 1 لاکھ روپے لگائیں تو بہترین صورت میں 7 سے 8 لاکھ روپے بن سکتے ہیں۔ لیکن یاد رہے یہ 2 سے 3 سال کا سفر ہوگا، راتوں رات نہیں۔ اور معاہدہ ٹوٹا تو رقم مزید آدھی بھی ہو سکتی ہے۔​​​​​​​​​​​​​​​​ رسک ہای ہے ۔ اور دو لاکھ ڈالر تک انے کیلے بھی یہ شرائط لازمی ہیں ۔۔ ایران پر پابندیاں ختم کر دی جائیں ایران کے سو ارب ڈالر سے زائد اثاثے جو پابندی کی وجہ سے فریز کیے گے تھے وہ واپس کیے جائیں ۔ مستقل جنگ بندی کی جاے ابناے ہرمز پر ایرانی ٹیکس ۔۔ اپ کو کیا لگتا ہے کہ ایرانی کرنسی کی ویلیو بڑھے گی اس میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے ۔۔ ؟

Saleem Speaks

91,377 Aufrufe • vor 5 Monaten

میں جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں، اس علاقے میں جو سب سے زیادہ فصل ہوتی ہے وہ تمباکو ہے۔ 70 فیصد میرے علاوہ تمباکو کے کاشتکار ہیں۔ یہ کیش کراپ ہے جس کی وجہ سے ہماری اکانومی چلتی ہے۔ یہاں میرے بارے میں ایک موصوف صاحب نے کہا کہ شاید میرا تمباکو کا کاروبار یا روزگار ہے۔ میں حلفیہ کہتا ہوں کہ نہ میرا تمباکو کا کوئی کاروبار ہے نہ روزگار ہے اور میں تمباکو کے پتے کو بھی نہیں جانتا۔ لیکن میں اس حلقے کا نمائندہ ہوں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے۔ آپ نے تمباکو پر 390 ارب روپے کا ٹیکس لگایا لیکن انٹرسٹنگ بات یہ ہے کہ جب آپ نے ٹیکس لگایا، اس سے پہلے 2023-24 میں ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق آپ کی ٹیکس کلیکشن 394 ارب روپے تھی، لیکن جب یہ ٹیکس لگایا تو آپ کی ٹیکس کلیکشن گر کر 165 ارب روپے ہو گئی۔ خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں جہاں تمباکو کی فصل ہوتی ہے، وہاں کے کسانوں کو بالکل کرش کر دیا گیا ہے، کسان بیچارے رو رہے ہیں۔ آپ نے مارکیٹ میں کمپٹیشن ختم کر دی، آپ نے چھوٹے اور بڑے کمپنیوں پر یکساں ٹیکس لگا دیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ تیسرا ٹیکس سلیب لے کر آئیں تاکہ کمپٹیشن میں اضافہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کا اچھا نرخ مل سکے۔

Asad Qaiser

45,184 Aufrufe • vor 3 Monaten