Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

کیا عاصم منیر جنرل ڈائر اور نیتن یاہو کی طرح اپنا خوف بٹھانا چاہتا ہے؟! ہمیں جھوٹی کہانی سنائی گئی ہماری فوج پیاری فوج ۔ فوج کے ظلم اور بربریت کا ایک فائدہ ہوا کہ فوج کا سارا جھوٹ بے نقاب ہو گیا ۔ جسطرح کسی ڈراؤنی فلم میں...

16,967 views • 1 month ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

بریکنگ نیوز 🚨کیسے ملٹری فوج، ظالم ڈکٹیٹر لوگوں کے ذہنوں میں اپنا خوف پیدا کرنے کیلئے ظلم کرتے ہیں؟ اور ہمیں کیسے پچھلے 78 سالوں سے فوج کے معاملے میں بیوقوف بنایا گیا؟ اس پر معید پیرزادہ کا شاندار تجزیہ ملاحظہ کیجیے اور حقیقت سے خود روشناس کیجئے 🔥🔥 آپ جڑانوالہ باغ کے اندر کھڑے ہوتے ہیں اور حیران پریشان رہے جاتے ہیں کہ اتنی چھوٹی سی، تنگ سی جگہ میں جس کے صرف اندر داخل ہونے کیلئے ایک راستہ ہے، جس کے تین طرف اونچی دیواریں ہیں، کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ وہاں پر ایک راستے سے جو ہندوستانی فوج ہے، جنرل ڈائیر کا جو دستہ ہے، وہ اندر Enter کرتا ہے، پوزیشن لیتا ہے، لوگ انکو دیکھ رہے ہیں جو تقریریں کر رہے ہیں، انکو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ ان پر فائرنگ کر سکتے ہیں اور پھر وہ اُنکے اوپر اندھا دھند فائر کھولتا ہے۔ جب جنرل ڈائیر سے بعد میں پوچھا گیا کہ تُم نے یہ بربریت کیوں کی ہے؟ اُس نے کہا میں برٹش امپائر کا خُوف لوگوں کے ذہن میں بیٹھنا چاہتا تھا، میں چاہتا کہ انکو پتہ چلا کہ تُم نے راج کی Obedience کیسے کرنی ہے۔ مطلب اسکو کہتے ہیں Moral Authority۔ پولٹیکل سائنس میں۔ چنگیز خان کھوپڑیوں کے منار کیوں بناتا تھا؟ کیونکہ جس زمانے میں، بارہویں، تیرھویں صدی میں چنگیز خان کی چنگیزیت ہمارے سامنے آئی تھی، تو اُس وقت ویسے بھی رواج یہ تھا کہ جب جنگ ہوتی تھی تو جو Able Bodied Men ہوتے تھے جو جنگی سروس کرسکتے تھے انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اُنکی گردن مار دی جاتی تھی، عورتوں کو اور بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تھا، تو پھر کھوپڑیوں کے منار بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کھوپڑیوں کے منانے بنانے کا چنگیز خان نے جو رواج شروع کیا وہ اس لیے تاکہ خوف و ہراس پیدا ہو۔ میسج یہ تھا ہر وہ شہر جس کے لوگ لڑیں گے اور لڑے بغیر سرینڈر نہیں کریں گے وہاں پر یعنی مارا ویسا بھی جاسکتا تھا، لیکن اگر فتح کر لے گی منگول فوج تو اسکے بعد سارے شہر کو آگ بھی لگائے گی اور کھوپڑیوں کے منار بھی بنائے گی اور وہی جو خوف تھا پورے سینٹرل ایشیا کے اندر، مشرقِ وسطیٰ میں، یورپ تک خوف تھا کہ ہمارے ساتھ یہ ہوسکتا ہے۔ Even ہندوستان کے قریب بھی بعض منگول جنگ باز جب آئے تو یہاں پر بھی انہوں نے کھوپڑیوں کے منار قائم کیے۔ نیتن یاہو نے غزہ کے اوپر جو دو سال سے Bombing کی ہے، کیا وجہ تھی؟ Moral Authority، خُوف بیٹھانا، تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم کتنا ظلم تمہارے ساتھ کرسکتے ہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ ہمیں جو کہانی سنائی گئی تھی کہ پاکستانی فوج کی، جرنیلوں کی، ہماری فوج، پیاری فوج، پاک فوج۔ اُس میں ہم یہ Expect نہیں کرتے تھے۔ اصل میں یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہوگا کیونکہ بلوچستان میں تو ہو ہی رہا تھا۔ Former East Pakistan میں تو ہوا ہی تھا۔ کراچی میں خون کی ندیاں تو بہائی ہی گئیں۔ فاٹا کے ساتھ تو ہوتا ہی رہا لیکن اسکے باوجود ہم چونکہ کہ ایک سوہانہ خواب دیکھتے تھے اور جب ہم پیدا ہوئے تو ہمارے جس طرح سے کانوں میں اذان دی جاتی تھی، اسی طرح ہماری پیٹھ کے اوپر بھی انہوں نے ایک لگایا سٹمپ بیوقوفی کا یا کوئی ٹیکہ لگا دیا جس کے نتیجے میں ہمارے دماغ کے خولیے جو ہیں انہوں نے کبھی Grow کیا ہی نہیں اور ہمارے سامنے کی حقیقتیں تھیں کہ ایسٹ پاکستان میں انہوں نے کیا کیا، بلوچستان میں یہ کیا کررہے ہیں، فاٹا میں یہ کیا کررہے ہیں، کراچی میں کیا ہوا، کیسے مختلف گینگ بنائے گئے، کیسے کبھی سپہ صحابہ بنائی گئی، کبھی سپہ محمد بنائی گئی، کیسے قتلِ عام کرایا گیا۔ یہ سب چیزیں ہمارے سامنے تھیں لیکن ہم نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ ہماری کھوپڑیاں جو ہیں ایسی ہی رہیں گی اس لیے ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ ہمارے سامنے جو اس وقت بہت ہی کرب ناک واقعات ہو رہے ہیں۔ پہلے ہمارے ساتھ اسلام آباد کا واقعہ ہوا 26 نومبر 2024 کا، پھر مریدکے میں واقعہ ہوا 13 اکتوبر 2025 کا، پھر ہم نے آزاد کشمیر کی Valance دیکھی، پھر ہم نے بلوچستان کی Valance دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزوں کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وہ تمام جھوٹ جو تھا، اس کی تمام کلائی اُتر گئی ہے۔ کسی طرح دیکھاتے ہیں Demon یا ڈائن ہوتی ہے، جس نے بہت خوبصورت میک اپ کیا ہوتا ہے، Horror movies میں دیکھاتے ہیں، بارش ہوجاتی ہے کوئی خطرناک قسم کی، سارا میک اپ اتر جاتا ہے۔ وہ ڈائن جو خوبصورت بنی ہوئی تھی، اسکی جو آٹھ سو سال کی عمر تھی یا آٹھ ہزار سال کی ایک بوڑھیا تھی، وہ وہاں نظر آجاتی ہے۔ یہاں جرنیلوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ ان کے چہرے کا تمام رنگ روپ روغن، Pant جو انہوں نے کیا ہوا تھا وہ سارے کا سارا اتر گیا ہے اور انکی اصل حقیقت جو ہے، انکی جو نیچر ہے وہ کھل کر ہمارے سامنے آگئی ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

11,929 views • 1 month ago

ہماری غلطی یہی تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ فوج بھی پاکستان کی ترقی چاہتی ہے یہ بھی کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ پاکستان فوج وہ فوج نہیں رہی جو پروفیشنل سپہ ہے۔پاکستان فوج ایک بہت بڑی کارپوریشن ہے۔جسکا Profiteering منافع خوری کا mindsetہے جو اس تسلط کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو اس نظام پر حاوی ہے۔ یہ دو سو بلین ڈالرز سے ذیادہ کا، کاروباری ایمپائر ہے فوج میں جو ٹاپ ٹئیر لیڈر شپ پر پہنچاتا ہے اسکو اس کاروبار کے پرافٹ میں سے حصہ ملتا ہے ۔آج عاصم منیر کہ جگہ کوئی اور جرنیل آ جائے وہ بھی اسی طرح کرے گا۔ یہ وقت کے تقاضے کے حساب سے ڈنڈا رکھتے ہیں جیسے جیسے آپکے سہنے کی سکت بڑھتی گئی، انکا ڈنڈا بڑھتا گیا ہے۔جس چیز پر جنرل فیض کا کورٹ مارشل ہواہے ماسٹر ٹائل والی اسٹوری بھی اسی زمانے میں سامنے آئی۔ لیکن اسوقت اسے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا کیونکہ یہ فوج کا معاملہ تھا۔آج فیص زیر اعتاب ہے کل کوئی اور جنرل آئے گا وہ عاصم منیر کا کوٹ مارشل کرے گا۔بس ہم فانی ہیں ۔جنرلز لا فانی ہیں ان سے کوئی سوال نہیں کر سکتا۔ بیرسٹر شہزاد اکبر ۔

Rodium-A

46,212 views • 9 months ago