Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کیا ہمارے دور میں کوئی ڈرون حملہ ہوا، کیا ہمارے دور میں دھماکے ہوتے تھے، کیا کوئی insurgency ہوئی، وزیرستان سے سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے خود کہا تھا کہ اتنا کام شروع ہو گیا تھا کہ مزدور نہیں ملتے تھے، معاشی سرگرمیاں اتنی بڑھ گئی تھیں۔...

41,726 просмотров • 13 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 11

Фото профиля Anti lifafa
Anti lifafa13 дней назад

جناب آپ اتنے سینیئر سیاستدان نہیں سمجھ سکے کہ سلیم لفافی طلعت حسین عاصمہ شیرازی وغیرہ خان کے ذاتی سطح پر مخالف ہیں اور ایجنڈا پر خان کے خلاف کیمپین کرتے رہے ہیں ۔ مجھے پتہ نہیں کہ کوئی اگر آپ کی اپنی ماں بہن بیٹی کے خلاف گھٹیا کیمپین کرے گا تو آپ کی غیرت گوارا کرے گی کہ نہیں ۔

Фото профиля yousafzaii
yousafzaii13 дней назад

تم تو پختون دشمن ہو ہزارہ کا بل بھی تمھاری پارٹی نے 3 مرتبہ منظور کیا سپیکر ہوتے ہوۓ تم نے تربیلہ سے صوابی کو کیا دیا تمھارا ضلع صوابی سب سے زیادہ تمباکو پیدا کرتا اس کو فصل کا درجہ تک نہیں دے سکے علی وزیر محسن داوڑ کے ساتھ کیا ہوا تمھاری حکومت کے دوران عوام کو نہیں پتہ کیا

Фото профиля muhammad hammad
muhammad hammad13 дней назад

sarai taliban ko laa kai dobara agencio mai settle kardia. ap woh galai ki haddi banai hoay hain

Фото профиля sami ullah
sami ullah13 дней назад

Is Ka mtlb ab ap log Wapes sy drone Karwa rahy hai ta k dinars gvt Dy

Фото профиля Muhammad Umar
Muhammad Umar13 дней назад

Ye safi lafai hai is ko mun kyun lga rahay.

Фото профиля Ajmal Nayyar
Ajmal Nayyar13 дней назад

@RukhsanaQ

Фото профиля AsaD Awaن
AsaD Awaن12 дней назад

Youthiye..Kp me 15 years ka progress dekao?

Фото профиля Athar Shaheen
Athar Shaheen13 дней назад

بے عیرت ادمی وزیرستان کی حالت پر جب محسن داوڑ علی وزیر بولتے تھے تو اپ مائیک بند کر دیتے لعنتی

Фото профиля OliveBaxter
OliveBaxter13 дней назад

کیا ضرورت تھی اس کتے کے پروگرام میں جانے کی ؟

Фото профиля Khan G
Khan G13 дней назад

اتنا چھوڑنے کی ضرورت نہیں کہ پھر سنبھالنا مشکل ہو جائیں۔نوسرباز نیازی خود میڈیا پہ بتا چکا ہے کہ وہ صرف ایک چپڑاسی جبکہ باجوہ سپر کنگ تھا جس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا تھا ملک میں۔ اب آپ جھوٹ بول رہے ہیں یا ہمیشہ کی طرح نیازی؟

Фото профиля pakistani
pakistani13 дней назад

وفادار۔۔۔۔۔غدار مخلص۔۔۔۔۔منافق آذاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلام حقیقی۔۔۔۔۔مصنوعی

Похожие видео

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 просмотров • 4 месяцев назад

شفیع جان کے شہباز گل پر ایک مرتبہ پھر الزامات شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ شہباز گل نے فیصل آباد سے دو حلقوں کے لیے ٹکٹ کا اپلائی کیا تھا اور ان دنوں عمران خان انٹرویوز بھی کر رہے تھے حقیقت یہ ہے جن دنوں عمران خان انٹرویوز کر رہے تھے شہباز گل ان دنوں امریکہ میں تھے انہوں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا، جس دن اپریل 2023 کو ٹکٹ اناونس ہوئیں اس دن نیویارک میں خورشید بھلی جن کے بھائی کو سیالکوٹ سے ٹکٹ بھی ملی تھی اس دن ہم نیویارک میں ان کے گھر تھے میں بھی وہاں موجود تھا شفیع جان نے ایک مرتبہ پھر من گھڑت الزامات لگاۓ حالانکہ سہیل آفریدی نے لاہور کے ایک بہت معتبر صحافی کے زریعے پیغام رسائی کر کے اس سارے معاملے کو ختم کروانے کا کہا تھا اس کے علاوہ ایک اور PTI کے سنیر ترین لیڈر نے بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا اور تمام اطراف سے خاموشی کی درخواست کی تھی اور تھوڑی دیر پہلے جب ان سے بات ہوئی تو ان کا خیال تھا کہ اب یہ لوگ کوئی شیطانی نہیں کریں گے

Waqar khan

14,980 просмотров • 1 месяц назад

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 просмотров • 1 месяц назад

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,475 просмотров • 5 месяцев назад

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,053 просмотров • 1 месяц назад

کل شام کو تقریبا چھ بجے میں اپنے بچے کے ساتھ ریمو سینٹر کے قریب بال کٹوانے کے لیے گیا جب میں سیٹ پہ بیٹھا تھا تو وہاں دو لڑکے ائے انہوں نے کہا اٹھو میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا اٹھو ہم کو بال کٹوانے تو اس پر میرے نائی نے کہا کہ ان کا نمبر ہے ان کو کٹوانے دو ان کے بعد اپ کے بال کاٹ دوں گا تو انہوں نے گالی گلوج شروع کر دی کیونکہ وہ پولیس والے تھے جس میں سے ایک کا نام عمیر اور ایک کا نام فادی تھا جو دونوں ہیڈ کانسٹیبل تھے تو مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر لیکر آئے گئے اور مجھ پہ تشدد کرنا شروع کر دیا دیکھ کر میرا بیٹا باہر ایا اور انہوں نے اس کن کو روکنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے میرے بیٹے کے ساتھ بھی تشدد کیا جس کی وجہ سے میرا بیٹا ابھی تک اپنے ہوش حواس میں نہیں ہے اور مجھ پہ بھی اتنا تشدد کیا جو ویڈیو میں اپ دیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ پولیس والے تھے اس وجہ سے ان کے خلاف تھانے نبی بخش میں بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی وہ گارڈن ہیڈ کورٹر کے اہلکار تھے Karachi Police

Naqabpoush

25,819 просмотров • 1 год назад

عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جب میاں نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور پلیٹلیٹس کے حوالے سے ان کو مسئلہ ہوا، تو عمران خان نے ہمیں بلایا۔ میں وہاں موجود تھا، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الہی اور کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے ہم سب سے مشاورت کی اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ میاں صاحب کے جو کیسز ہیں، عدالتیں انہیں دیکھ رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا ہے، وہ عدالت کرے گی، لیکن ہم کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے بھی کہا کہ پلیٹلیٹس جتنے گر گئے ہیں، اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے بہت بڑا پن دکھایا کہ میاں صاحب کو علاج کی سہولت دی جائے، چاہے وہ پاکستان میں علاج کروائیں یا ملک سے باہر۔ اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے عمران خان کی رپورٹس کو چھپایا گیا، اور جب رپورٹس سامنے آئیں تو یہ جتنے بھی وزرا ہیں، عوام کے نمائندے، وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح کمشنر راولپنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ٹی روڈ کے اراکین کے حوالے سے یہ ناجائز تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ ان کی فیملی کہتی ہے، ان کے علاج کی سہولیات آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر بحال کی جائیں.

Asad Qaiser

15,139 просмотров • 7 месяцев назад

میں اپنی ورچوئل کلاس روم میں تھی اپنے ورچوئل طلبہ کے ساتھ۔ وہ لنچ کے لیے لاگ آؤٹ کر رہے تھےاور میں یہیں بیٹھی تھی کہ اچانک راہداری میں کچھ شور سنائی دیا۔ میں باہر نکلی تو دیکھا کہ چند پانچویں جماعت کے بچے کھڑے ہیں، وہ نماز پڑھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے، رمضان کا مہینہ ہے،وہ مسلمان ہیں، اپنے دین پر عمل کرتے ہیں اور انہیں نماز ادا کرنے کے لیے ایک جگہ درکار تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ میرے کمرے میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے اس سے پہلے کبھی ان بچوں کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ پڑھتے ہیں، عموماً اسکول میں کسی اور جگہ پر، لیکن آج وہ ٹیچر موجود نہیں تھے، کونسلر۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں آ سکتے ہیں؟ انہیں معلوم تھا کہ میرے پاس اس وقت کوئی طالب علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چاہیں تو یہیں رہ سکتی ہیں۔ میں اپنی میز پر بیٹھی رہی اور میں نے ان چار معصوم بچوں کو دیکھا۔ وہاں کوئی بڑا موجود نہیں تھا جو انہیں مجبور کر رہا ہو، جیسا کہ اکثر مذہب کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔ کوئی انہیں ہدایات نہیں دے رہا تھا، نہ کوئی رہنمائی کر رہا تھا، نہ بتا رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن منظر بے حد خوبصورت تھا۔ ان چاروں کی ایک ہم آہنگی تھی۔ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے، ہاتھوں کی حرکات، جسم کی ادائیں، کھڑے ہونا، بیٹھنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا۔ سب کچھ مکمل سنجیدگی اور ترتیب کے ساتھ۔ یہ منظر دیکھنا ناقابل بیان تھا۔ میں اپنی ڈیسک پر بیٹھی رہی اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟" میں نے کہا، "مجھے تم پر فخر ہے، مجھے تم سب پر بہت فخر ہے۔" وہ میرے پاس آئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور وہ لمحہ بہت خاص تھا۔ واقعی، پانچویں جماعت کے بچے کا یہ ایمان کہ وہ خود ذمہ داری لے کر وقت پر نماز ادا کرے، جو اس پر فرض ہے، یہ دیکھنا بہت خوبصورت تھا اور مجھے اپنے بچوں پر بہت فخر ہے ایک غیر مسلم ٹیچر کا بیان

شبانہ شوکت

49,603 просмотров • 6 месяцев назад