Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کیاپاکستان میں کچھ بڑا ہونے جارہا ہے یا ہونے والا ہے؟ آخر کیا ہونے والا ہے ؟ اس حوالے سے ہم گزشتہ چند روزکے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو سامنے رکھ کراپنا تجزیہ کرسکتے ہیں، مثال کے طورپرپی ٹی آئی کے بانی عمران خان جو گزشتہ تین...

17,579 просмотров • 6 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 11

Фото профиля Altaf Hussain
Altaf Hussain6 дней назад

2/2 اس دوران وزیراعظم، آرمی چیف، مسلح افواج کے اعلیٰ حکام، وفاقی وزرا ریاستی امور کے بارے میں صدر مملکت سے کیسے ملیں؟ آخرملک میں کیا ہونے جارہا ہے؟ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان نے جس قسم کی دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی ہے وہ پارلیمانی آداب،تہذیب، شرافت، اخلاقیات اورہرلحاظ سے غلط اورغیرمناسب ہے۔ وفاقی وزیرراناثناء اللہ نے بھی سندھ اسمبلی میں کی جانے والی تقاریر کو غیرضروری اورغیرمناسب قراردیا۔ جبکہ وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہاکہ ہم سندھ اسمبلی کی قرارداد کا احترام کرتے ہیں لیکن ملک میں بہتری کے لئے 15 صوبے بنا دینے چاہئیں۔ میں آج پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب، کورکمانڈرصاحبان اورفوج کے دیگر پالیسی ساز اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ایم کیوایم پرعائدتمام پابندیاں ختم کی جائیں اورایم کیوایم کو ملک کی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، ایم کیوایم کے تمام گرفتارکارکنوں کورہا کیا جائے، لاپتہ کارکنوں کو بازیاب کیاجائے، اسی طرح پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کوبھی رہاکیا جائے، ملک کو اس نازک صورتحال سے نکالنے کے لئے مشاورت میں شامل کیا جائے۔ میں فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب، کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز، آئی ایس آئی اورایم آئی چیفس سمیت تمام اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔  الطاف حسین ٹک ٹاک پر 464  ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب  4، ستمبر2026ء

Фото профиля Kashif Zaidi
Kashif Zaidi6 дней назад

آداب قائدِ محترم، آپ کی 464ویں ہنگامی فکری نشست میں موجودہ ملکی صورتحال، تیزی سے بدلتے سیاسی حالات اور اہم واقعات کے حوالے سے پیش کیے گئے نکات انتہائی غور طلب ہیں۔ بالخصوص نئے صوبوں کی بحث، عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں و گمشدگیوں اور ملک میں جاری سیاسی بے یقینی کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ کی طرح تمام کارکنان کو حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے، حقائق کو سمجھنے اور آنے والی صورتحال پر نظر رکھنے کی جانب متوجہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے اور آپ کی رہنمائی ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ آمین

Фото профиля MQM Birmingham Uk
MQM Birmingham Uk6 дней назад

زندہ ہے بھٹو زندہ ہے بہت کھیل لیا پیپلز پارٹی نے اب بھٹو ہمیشہ کے لیے دفن ہونے والا ہے 😋

Фото профиля Abdul Rauf
Abdul Rauf6 дней назад

بھائی بس بوری کا آرڈردے دو۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا

Фото профиля joharabid
joharabid6 дней назад

انشااللہ جلد

Фото профиля baji
baji6 дней назад

اسلام وعلیکم آداب محترم قائد مسٹر ٹین پرسنٹ ڈیل کے تحت گئے ہیں بلاول بھٹو کی شادی کرنی لازمی ہے وزیراعظم بنا ہے عوام اچھی طرح سمجھتی ہے مگر افسوس ملک کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے کچھ تو ہے جو چھپایا جاراہا ہے

Фото профиля rao asif
rao asif5 дней назад

Bhai bs 500000 lakh boorioun ka order dy do sb theek ho jye ga Ketton mn insan fit nhi baithta hy

Фото профиля Syed Muhammad Abdullah
Syed Muhammad Abdullah5 дней назад

ap khud tu pakistan nhi aaty aur zardari kau london jany par sawal kar rahy hen wow. nice

Фото профиля shafique
shafique5 дней назад

آپ بھی پاکستان آجائیں ۔ملک کو آپ کی ضرورت ہے

Фото профиля Doctor Nadir Afip
Doctor Nadir Afip5 дней назад

Altaf sab sab muje bakwas lag raha he apki bat Sahi lag sakti he Lekin afsossssss Kuch Samaj NAHI araha Allah pak Pakistan awam r Imran Khan sab sab pe raham kare Ameen

Фото профиля Sami Ullah Durrani
Sami Ullah Durrani6 дней назад

Altaf being #extradited from #London.

Похожие видео

حکومتِ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جو مؤقف پیش کیا ہے، وہ گمراہ کن ہے،ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ مارچ 2025 سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا ایک فیصلہ اور حکم موجود ہے، جس میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ پاکستان کے قوانین اور بالخصوص صوبہ پنجاب کے جیل قوانین، جہاں اس وقت عمران خان قید ہیں، ایسی ملاقاتوں کی اجازت دیتے ہیں۔ عدالتوں نے بھی حکم دیا تھا کہ ان قوانین پر عمل کیا جائے اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ہر ہفتے کم از کم دو ملاقاتیں کروائی جائیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے کوئی ریکارڈ جھٹلا نہیں سکتا کہ 25 مارچ 2025 سے، جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا یہ فیصلہ اور حکم جاری ہوا، اس حکم پر ایک مرتبہ بھی عمل نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد سے ایک بھی ایسا ہفتہ نہیں گزرا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حکم دی گئی دونوں ملاقاتیں کروائی گئی ہوں۔ اکتوبر 2025 کے بعد تینوں بہنوں میں سے کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے بعد، یعنی 2 دسمبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک، عمران خان کی کسی بہن کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر تشکیل دیے جانے والے ایک میڈیکل بورڈ کو ان کا معائنہ اور علاج کرنا تھا۔اس بورڈ میں ڈاکٹر فیصل سلطان، جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں، اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ، جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، کو شامل کیا جانا تھا۔اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ یہ عمران خان کے حقوق کی نفی ہے، بطور خاندان عمران خان کی بہنوں کے حقوق کی نفی ہے، پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، اور تشدد کی بین الاقوامی تعریف کے مطابق اسے تشدد کے زمرے میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔اس پورے عرصے کے دوران عمران خان کے وکلا کو بھی ان سے باقاعدگی کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور نہ ہی بشریٰ بی بی کے وکلا کو ان سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی گئی۔ سلمان اکرم راجہ

PTI

20,998 просмотров • 11 дней назад

آج عدالت عظمی سے روشنی کی ایک کرن پھوٹی ہے عدالت نے ریاست کے تمام اداروں کو حکم دیا ہے کہ عمران خان صاحب کی صحت مقدم ہے۔ آج سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ دو دنوں میں عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ حکم ہوا جو ہم ایک سال سے مانگ رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ماہر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں تمام شعبوں کے سپیشلسٹ موجود ہونگے تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ عمران خان صاحب کو جو بلڈ پریشر کی بیماری بتائی جارہی ہے یہ کیوں لاحق ہوئی؟عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟وجہ کیا ہے؟ ان کے ساتھ جیل میں ایسا کیا سلوک کیا جارہا ہے؟ ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ اس تمام عمل کے دوران خان صاحب کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ جو ایک ایم بی بی ایس ہیں منسلک رہیں گی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں وہ بھی اس تمام عمل کا حصہ رہینگے ۔ salman akram raja

PTI

107,300 просмотров • 24 дней назад

مریم نواز کی ضد !! لاہور میں بیٹھے باپ بیٹی اس بات کو نہیں مان رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان کو ہاسپٹل شفٹ نہ کیا جائے ۔ عمران خان کو ابھی تک شفاء انٹرنیشنل ہاسپٹل شفٹ نہیں کیا گیا۔ کچھ معتبر وکلا سے میری بات ہوئی انکا کہنا ہے کہ ججز نے یہ فیصلہ اس انداز میں لکھا ہے کہ کوئی لُوپ ہول نہیں چھوڑا، تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ آپ نے یہ جھول چھوڑ دی تھی۔ عدالت نے اس فیصلے میں موجود تمام پارٹیوں کی ذمہ داریوں کو واضح طور پر لکھا ہے ۔ آج عمران خان کی بہن عظمیٰ خان جو پٹیشنر ہیں وہ اور انکے وکلاء نے اپنی تمام زمہ داریوں کو پورا کیا۔ عدالت کے فیصلے کی کاپی حاصل کی اور جیل انتظامیہ کو عدالتی فیصلے کے ساتھ ساتھ ایک ایک کاغذ کی کاپی جمع کروا دی ہے اور انھیں بتا دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے آڈرز ہیں کہ عمران خان کو 48 گھنٹے میں شفٹ کرنا ہے اگر نہ کیا تو توہین عدالت کی کاروائی ہو گی ۔ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا ۔ حکومتی ڈاکٹرز کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی طبعیت کافی خراب ہے اسکے بعد عدالت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ عدالت سے مزید وقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن20 تاریخ کی شام کے بعد سے ان پر توہین عدالت شروع ہو جائے گی ۔ (شہباز گل )

Rodium-A

69,401 просмотров • 22 дней назад

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 просмотров • 2 лет назад

🚨🚨 بریکینگ نیوز : حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات, اندر کی کہانی بتادی.!!!!🔥🔥🛑🛑🛑 جب محسن نقوی آٹھ دس دن پہلے بیرسٹر گوہر کی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کیلئے ان کے گھر گئے تھے, تو وہاں پر بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی سے یہ بات کی کہ عمران خان کی طبیعت کافی خراب ہے, تو کم از کم انہیں ہاسپٹل شفٹ کیا جائے ۔ تو محسن نقوی نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے, ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے, آپ عدالت کا راستہ اختیار کریں, ۔ عدالت اگر حکم دیدے گی ۔ تو ہم اس پر عمل کرینگے ۔اور پھر اس کے بعد پی ٹی آئی نے عدالت میں پٹیشن دائر کی, اور اس پر عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ۔ اس پر محسن نقوی بیرسٹر گوہر سے پورے رابطے میں تھے ۔ اور جس رات عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لایا گیا تھا, تو اس رات بھی محسن نقوی کا بیرسٹر سے رابطہ تھا ۔اور بیرسٹر گوہر کو آٹھ بجے ہی یہ اطلاع دیدی گئی تھی, کہ عمران خان کو شفاء میں ہی لایا جا رہا ہے ۔ لیکن پھر اس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ہماری جو ریویو پٹیشن ہے ۔ اس میں ہم نے کہا ہے کہ عمران خان کو پرائیوٹ ہسپتال نہیں لے جایا جاسکتا ۔ انکو سرکاری ہسپتال میں لے جایا جائے ۔اور پھر شفاء کے باہر کچھ لوگ اکٹھے ہوگئے, جس کو بہانہ بنا کر وہ عمران خان کو پمز لے گئے ۔تو اس پر میرا خیال ہے کہ محسن نقوی کا نام اس لئے شامل نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ یہ سمجھتی ہے کہ محسن نقوی نے ہماری درخواست پر عمران خان کو جیل سے ہاسپٹل لانے کا جو عمل تھا ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ تو ہو سکتا ہے, آئیندہ بھی وہ رکاوٹ نہ ڈالیں تو اس لئے انکا نام توہین عدالت کی درخواست میں نہیں ڈالا گیا ۔ حامد میر 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

242,488 просмотров • 20 дней назад

آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب عدالتی رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے ۔ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں۔ ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ایسا جواب دیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا ۔ اب ڈبے سے گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا ۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سہولیات دینا جرم کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ جرم کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے انوکھا فیصلہ دیا گیا ہے کہ 9 مئی کے بعد کے کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور عدلیہ نے جو مقدمہ اس کے علم میں نہیں ہے اس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدلیہ کہاں کھڑی ہے کس طرح وہ آئین اور قانون سے ماوراء فیصلے کر رہی ہے ۔ کیا یہ رعایت تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو دی گئی ؟ اور جب نواز شریف کو جیل میں اطلاع دی گئی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں ہے انہوں نے منت سماجت کی کہ اہلیہ سے فون پر بات کرنے دیں مگر اجازت نہ ملی ۔ کیا یہ رعایت نواز شریف ،مریم نواز کو دی گئی ؟ کیا یہ رعایت فریال تالپور کو دی گئی ؟ عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ۔ ملک میں غنڈہ گردی دہشت گردی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج ہو گا ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر 15 مئی 2023 ء کو احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچیں ۔ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ موثر طور پر عوام کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں ۔ پارلیمنٹ کو بالا دست سمجھنا ہو گا اس کے نمائندوں کو کیوں نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سن لو تین دو کا فیصلہ قبول نہیں ہے چار تین کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے جس کے تحت چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے ۔ ایک ایک کارکن باہر نکلے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

289,727 просмотров • 3 лет назад

وزیرِ قانون کو واضح جواب ہے کہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کروائیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ علاج صرف سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے اور پرائیویٹ ہسپتال میں نہیں ہو سکتا۔ تو پھر لندن میں نواز شریف کا علاج جس ہسپتال میں ہوا، کیا وہ سرکاری ہسپتال تھا؟ ، ان کی مرضی کے ڈاکٹرز نے علاج کیا، کیا وہ سب کچھ اس وقت جائز تھا؟ ہم نہ کوئی ڈیل مانگ رہے ہیں، نہ ڈھیل مانگ رہے ہیں، نہ کسی قسم کا این آر او چاہتے ہیں اور نہ ہی ملک سے بھاگنے والے ہیں،یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت کا حکم جاری ہو چکا ہے۔ آج سپریم کورٹ نے عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جو فیصلہ آپ کے حق میں آئے، وہ آپ کو درست لگتا ہے، لیکن جو فیصلہ انصاف پر مبنی ہو اور آپ کے خلاف ہو، اسے ماننے سے انکار کر دیا جائے—یہ طرزِ عمل قابلِ قبول نہیں۔ میں معزز عدلیہ سے مؤدبانہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنے فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اگر متعلقہ حکام عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کرتے تو عدالت اپنے احکامات کی خلاف ورزی کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں، یہ ایک انسان کی صحت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ عمران خان صاحب کو عدالتی حکم کے مطابق فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں وہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن کا عدالت نے حکم دیا ہے۔

Naeem Haider Panjutha

40,946 просмотров • 24 дней назад

عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس کے قانونی حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جب میاں نواز شریف صاحب جیل میں تھے اور پلیٹلیٹس کے حوالے سے ان کو مسئلہ ہوا، تو عمران خان نے ہمیں بلایا۔ میں وہاں موجود تھا، شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، پرویز الہی اور کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے ہم سب سے مشاورت کی اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ میاں صاحب کے جو کیسز ہیں، عدالتیں انہیں دیکھ رہی ہیں اور جو فیصلہ کرنا ہے، وہ عدالت کرے گی، لیکن ہم کسی کے ساتھ ذاتیات پر نہیں جائیں گے۔پھر ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ نے بھی کہا کہ پلیٹلیٹس جتنے گر گئے ہیں، اس سے مسئلہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان نے بہت بڑا پن دکھایا کہ میاں صاحب کو علاج کی سہولت دی جائے، چاہے وہ پاکستان میں علاج کروائیں یا ملک سے باہر۔ اور آج کی صورت حال یہ ہے کہ پہلے عمران خان کی رپورٹس کو چھپایا گیا، اور جب رپورٹس سامنے آئیں تو یہ جتنے بھی وزرا ہیں، عوام کے نمائندے، وہ اس طرح نہیں ہیں جس طرح کمشنر راولپنڈی نے انکشاف کیا تھا کہ جی ٹی روڈ کے اراکین کے حوالے سے یہ ناجائز تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ہم کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کریں گے۔ جیسا کہ ان کی فیملی کہتی ہے، ان کے علاج کی سہولیات آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر بحال کی جائیں.

Asad Qaiser

15,139 просмотров • 7 месяцев назад

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 просмотров • 25 дней назад

جب خان صاحب کو انہوں نے گرفتار کیاتو وہ ایک مکمل صحت مند عمران خان اڈیالہ جیل کے اندر گئے تھے، مکمل طور پر فٹ تھے۔ اور آج جو سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع ہوئی ہے اس رپورٹ کے مندرجات یہ ہیں کہ ان کو ہائی بلڈ پریشر کا ایشو ہے، فلکچویٹ کرتا ہے ان کا بلڈ پریشر۔ اور پھر انہوں نے کچھ ان کے لیے تجاویز دی ہیں جیسے انجیوگرافی یا اس طرح کی جو باقی چیزیں ہیں، ان کی تفصیل میں، میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ پچھلے چھ سات مہینوں سے مسلسل پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان یہ ڈیمانڈ کرتی آئی ہے کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین تک رسائی دی جائے، ان کو فوراً شفا انٹرنیشنل ہاسپٹل شفٹ کیا جائے، وکیلوں کو ملنے دیا جائے، بہنوں کی ملاقات کرائی جائے اور ان کے سیاسی رفقاء کی ملاقات کرائی جائے۔ تو بجائے اس کے کہ اس ایشو کو یہ سو کالڈ رجیم ایڈریس کرے، آج دوبارہ وہ خود اس طرح کی ایک مبہم قسم کی رپورٹ سامنے لے کے آئی ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی Hussain Ahmad yousafzai #EnoughIsEnoughFreeKhan

PTI

151,796 просмотров • 25 дней назад