正在加载视频...

视频加载失败

گلگت سے تاوبت کشمیر تک نئی سڑک۔۔ تاریخ کا ایک نیا باب، مگر ترقی کے نام پر کہیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی یہ سرسبزی ختم نہ ہو جائے۔۔۔ گلگت سے تاوبت کشمیر تک بننے والی نئی سڑک بلاشبہ ایک اہم اور تاریخی منصوبہ ہے، جو گلگت بلتستان،...

35,511 次观看 • 10 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

میرے کشمیری بہن بھائیوں کے نام اہم پیغام... آزاد کشمیر کا الیکشن صرف ایک ووٹ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل، اپنے علاقے کی ترقی اور خوشحالی کو سامنے رکھ کر اپنا فیصلہ کریں۔جن لوگوں نے کئی دہائیوں تک آپ سے وعدے کیے، ان سے ضرور سوال کریں کہ اگر وہ محرومیاں ختم کر سکتے تھے تو آج بھی آزاد کشمیر ترقی کے سفر میں پیچھے کیوں ہے؟ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے استحکام پاکستان پارٹی پر اعتماد کیا تو آزاد کشمیر میں ترقی، شفاف حکمرانی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔ سیاحت کے فروغ، جدید انفراسٹرکچر، روزگار کے نئے مواقع، بہتر تعلیم اور بہترین طبی سہولیات کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آزاد کشمیر کو بے مثال قدرتی حسن سے نوازا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کے اس خوبصورت ترین علاقے کو جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے تاکہ عوام کی محرومیوں کا خاتمہ ہو سکے۔ فیصلہ آپ کا ہے، لیکن ووٹ ہمیشہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دیں۔ #AzaadKashmirIPPKa #آزاد_کشمیر_عقاب_کا

Abdul Aleem Khan

213,889 次观看 • 1 个月前

یہ مشرک ایسے ہی دھمکی نہیں دے رہے۔۔انہوں نے تیاری پوری کر لی ہے دوبارہ سے کسی بھی وقت جنگ شروع کرنے کی۔۔۔ پاکستانی قوم اور حکومت تو اپنی مستیوں میں لگے ہوئے ہیں، دشمن کی فوج اور اس کے سیاستدان اور حکمران پوری طرح سنجیدہ ہیں اور ان کے بیانات سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ بہت سخت بپھرے ہوئے ہیں اپنی پہلی ذلت کی وجہ سے اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ یہ ہم نے اپ کو بتایا تھا کہ مودی کو ایک چانس اور دیا جا رہا ہے اپنی عزت بچانے کا ورنہ اسے تبدیل کر کے یوگی کو لایا جائے گا۔ اس لیے مودی کو بھی جلدی ہے کہ پاکستان کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرے۔ ظاہر ہے اس مرتبہ اسرائیل دوبارہ اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ پاکستانی قوم غیر معمولی غیر سنجیدہ مزاج اور موڈ میں ہے۔۔۔ اللہ نہ کرے ہم کو نقصان ہو جائے گا۔۔ اب کی دفعہ جنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوگی اور ہمارے شہروں میں ہوگی۔ کراچی سے لے کر ازاد کشمیر گلگت بلتستان تک۔ یہ سارا فساد جو کشمیر میں کیا جا رہا ہے اسی حملے کی تیاری ہے ۔ کسی بھی دن شروع ہو سکتی ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

49,271 次观看 • 11 个月前

یہ ہے وہ سڑک… جس پر پاکستان کو سالانہ اربوں کی آمدنی ہوتی ہے…! جی ہاں! یہ ہے وہ قیمتی سڑک…! یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک جاتا ہے — ہر سال ہزاروں سیاح، ٹریکرز اور مہم جو اسی راستے سے گزرتے ہیں، اور پاکستان کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی سیاحت کی آمدنی ہوتی ہے یہی وہ خستہ حال، ٹوٹی پھوٹی، گرد و غبار میں لپٹی سڑک ہے… جو ہمیں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک لے جاتی ہے یہ ہے پاکستان کی ایک قیمتی سڑک کی حالیہ حالت- یہ وہ سڑک ہے جس کے ذریعے پاکستان ہر سال لاکھوں ڈالرز کی آمدن حاصل کرتا ہے۔ یہی راستہ دنیا بھر سے آنے والے ہزاروں سیاحوں، کوہ پیماؤں اور ایڈونچر لورز کو کے ٹو اور دیگر خوبصورت مقامات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ پاکستان کا ایک نہایت اہم اور بین الاقوامی شہرت یافتہ روٹ ہے، جس پر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ گزشتہ چند مہینوں میں حکومت نے ٹورازم رائلٹی فیس میں اضافہ کر مقامی ٹور آپریٹرز، سروس پرووائیڈرز اور ایڈونچر ٹورازم سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات میں ڈالا ہوّا تھا۔ بطور سوشل ورکرز ہم نے یہ امید کی کہ شاید اس آمدنی کو انفراسٹرکچر کی بہتری، خاص طور پر سڑکوں کی مرمت یا سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات میں بہتری کے لیے استعمال کیا گیا ہو گا۔ تاہم، حال ہی میں پاکستان کے معروف کوہ پیما سرباز خان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے دل کو بہت رنجیدہ کر دیا۔ اُن کی ویڈیو سے معلوم ہوا کہ کے ٹو تک جانے والا راستہ پہلے سے بھی زیادہ خراب، خطرناک اور خستہ حال ہو چکا ہے۔ یہ سڑک برالدو ویلی کے درمیان سے گزرتی ہے، جو قدرتی خوبصورتی اور گلیشیئرز سے بھرپور ایک وادی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کے لوگ ہر سال گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلاب کے باعث متاثر ہوتے ہیں۔ سڑک کی عدم دستیابی کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو خاص طور پر بیماری یا ہنگامی صورتحال میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں (climate change) بھی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مقامی حکومت بلکہ UNDP اور GLOF جیسے بین الاقوامی اداروں کو بھی فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ راستہ نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے بھی کسی موت کے کنویں سے کم نہیں۔ اگر، خدانخواستہ، اس سڑک پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو اس کی ذمہ داری ٹورازم ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوگی، جو اجازت نامے جاری کرکے لوگوں کو اس راستے پر روانہ کرتا ہے۔ ہم برالدو ویلی کے باسیوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ صرف گھوڑوں اور خچروں کے کرائے بڑھانے کے لیے احتجاج کرنے کے بجائے، اپنی جان، زمین اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی آواز بلند کریں۔ اداروں کے دروازے کھٹکھٹائیں، سوال کریں، اور اپنے حقوق کے لیے منظم ہو کر بات کریں۔ یہ وقت صرف شکایت کرنے کا نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر عملی اقدامات اُٹھانے کا ہے تاکہ پاکستان کا یہ انمول اور عالمی شہرت یافتہ ایڈونچر روٹ محفوظ، پائیدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بین الاقوامی سیاح کس طرح ایک خطرناک پل عبور کر رہا ہے، اور اپنے تاثرات بھی بیان کر رہا ہے۔ نیپال سے تعلق رکھنے والے مشہور کوہ پیما مینگما جی نے بتایا کہ وہ ایک مقام پر بال بال بچے۔ ان کے تاثرات دنیا بھر میں ہزاروں ایڈونچررز سنتے ہیں اور اُن پر عمل عمل بھی کرتے ہیں

Gilgit Baltistan Tourism.

38,119 次观看 • 1 年前

اسلام آباد: 10 جولائی 2026. وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان کی اسمبلی کے ممبران کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی. ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان سے اپنی محبت، وفاداری اور قومی یکجہتی کا عملی ثبوت دیا ہے۔ آپ عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ آپ کے ذریعے عوام کی توقعات، مسائل اور ترجیحات سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، ہمارا مقصد صرف اور صرف عوام کی خدمت اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ علاقے میں بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت اور باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ گلگت بلتستان میں چار دانش سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں، اگلے سال سے ان میں کلاسز شروع ہو جائیں گی۔ ہے۔ اسکے علاوہ شمسی توانائی سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں موسماتی تبدیلی اور گلاف کے حوالے سے پیشگی اطلاع کا نظام بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ مقامی لوگوں کو بروقت اطلاع فراہم کی جاسکے اور موسمی حالات کے نا مصائب صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے۔ عوام کو درپیش مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور شفافیت کے فروغ کے لیے وفاقی اور مقامی قیادت کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آپ کی تجاویز اور سفارشات ہمارے لیے اہم ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہم مل کر کام کریں گے۔ تمام ممبران اسمبلی میں تعمیری کردار ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچائیں گے۔ وزیر اعظم کی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کمیٹی کی تشکیل کی ھدایت، جو ان ممبران اسمبلی کی جانب سے دی گئی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں وزیر برائے امور گلگلت بلتستان و کشمیر امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناءاللہ شامل ہیں۔ ملاقات میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ، وزیر برائے امور گلگلت بلتستان و کشمیر امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناءاللہ شریک تھے۔

Prime Minister's Office

10,848 次观看 • 1 个月前

گلگت بلتستان میں 23 مارچ کو ایک بار پھر عوام نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اور پاک فوج سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ ایک کامیاب اور تاریخی تحریک تھی جس کی قیادت سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) Hafiz Hafeez ur Rehman نے کی۔ اس دن جی بی کے لوگوں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان سے وفاداری میں ہم سب سے آگے ہیں، اور کوئی بھی ہمیں اپنے ملک اور اداروں کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کر کے چند من مانے اور دو نمبر لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے تو حالات خراب ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان ایک حساس خطہ ہے، یہاں فیصلے ہمیشہ عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں۔ اداروں سے گزارش ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ پہلے بھی ڈھائی سال ایک نام نہاد سیٹ اپ بنا کر گلگت بلتستان کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے اثرات آج تک نظر آ رہے ہیں۔ اس بار ایسے لوگوں کو آگے لایا جائے جو عوام کے ووٹ سے آئے ہوں، جو سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہوں، اور جو پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں۔… پاکستان زندہ باد 🇵🇰 گلگت بلتستان پائندہ باد

Sajid usmani

10,558 次观看 • 5 个月前

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 次观看 • 1 个月前

گلگت بلتستان کی سیاحت کے لیے ایسے لوگ ناسور ہیں! یہ گلگت بلتستان کا وہ علاقہ ہے جہاں اٹلی سے آئے سیاحوں پر ایک مقامی شخص ہاتھ میں ڈنڈا لیے چڑھائی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بظاہر وجہ صرف یہ ہے کہ جس مقام پر یہ سیاح کھڑے ہیں، وہاں کوئی باقاعدہ ٹکٹ نہیں، مگر جناب کو زبردستی ٹکٹ کے نام پر پیسے لینے ہی لینے ہیں۔ سیاح حضرات، خصوصاً غیر ملکی مہمانوں سے مقررہ فیس کے علاوہ کسی بھی قسم کے ایکسٹرا چارجز وصول کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اگر کسی مقام پر سرکاری فیس مقرر ہے تو اس کی باقاعدہ رسید اور واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے، نہ کہ کسی فرد کو ڈنڈا لے کر سیاحوں سے زبردستی رقم وصول کرنے یا انہیں ہراساں کرنے کا اختیار ہو۔ ہمارے گلگت بلتستان کی ٹورزم کے لیے ایسے لوگ ناسور ہیں۔ ایک فرد کی ایسی حرکت نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کو برا تاثر دیتی ہے بلکہ پورے گلگت بلتستان کی سیاحتی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ مقامی لوگوں اور گلگت بلتستان حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں، بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور قانون کے مطابق قرارِ واقعی سزا دی جائے۔ سیاح ہمارے مہمان ہیں، انہیں عزت، تحفظ اور خوشگوار ماحول دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ سیاحت کے نام پر زبردستی وصولی اور بدتمیزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔

Gilgit Baltistan Tourism.

88,667 次观看 • 10 天前

جگلوٹ سکردو روڈ JSR —•— سرسبز وادیوں ، لق و دق پہاڑوں ، برف پوش چوٹیوں ، خوبانی ، بادام اور چیری کے لب ِ سڑک باغات سے مزین ، جھرنوں اور گلیشیرز کے یخ پانیوں سے لبریز نالوں ، بلند و بالا آبشاروں کے بیچ سے گزرتی اور دریاۓ سندھ کے ساتھ لہراتی اس سڑک کا ماحول قدرت کے حُسن کا شاھکار ھے ۔۔ 60 ارب کی لاگت سے تعمیر شدہ یہ سڑک میاں نواز شریف کے بڑے کارناموں میں سے ایک ھے ، اسکی تعمیر نے نہ صرف اس پسماندہ علاقے کو پورے ملک سے جوڑ دیا بلکہ آۓ روز کے حادثات میں بھی بہت کمی آئ گلگت بلتستان کے آٹھ روزہ دورے کے دوران میں نے وعدہ کیا تھا کہ GB کے ایک وکیل کی حیثیت سے انکے چبھتے مسائل پر آواز بلند کرتا رھونگا ۔۔ اس عمدہ سڑک کی تعمیر میاں نواز شریف کے حکومت سے جانے کےبعد مکمل ھوئ ، تعمیر میں بہت سی خامیاں نمایاں ھیں ۔ مقامی لوگوں کے بقول اس سڑک کی تعمیر کیلئے سنگلاخ پہاڑوں کو بارود سے اڑاتے وقت پیشہ وارنہ مہارت کا خیال نہیں رکھا گیا چنانچہ یہ سڑک ھمہ وقت لینڈ سلائیڈنگ کی گرفت میں رھتی ھے ، یہاں کم از کم 9 بائ پاس ٹنلز کی تعمیر نہایت ضروری ھے ، دریا کی سائیڈ پر Protection Walls براۓ نام ھیں ، ایک بھی کام کا rest Area اور پٹرول پمپ موجود نہیں ، انکی تعمیر وقت کی ضروت ھے ۔ اس سڑک پر لگے اربوں روپے بچانے ، زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے اور مسافروں کی سہولت و تحفظ کیلئے ان اقدامات پر فوری عملدرآمد درکار ھے --

Khawaja Saad Rafique

12,783 次观看 • 2 个月前

یہ بھائی چلاس گلگت بلتستان کا ایک مقامی صحافی ہے، جو حال ہی میں Belgium کے ایک سیاح جوڑے کا انٹرویو کر رہا تھا۔ کافی احباب نے اس کا مذاق اُڑایا اور طنز و تشنیع پر مبنی تبصرے کیے۔ میں ان آراء سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ کئی بار میں نے اس بھائی کی ویڈیوز پر تنقیدی تبصرے بھی کیے ہیں، لیکن اس بار میں اسے داد دیتا ہوں۔ یہ اس کا بے پناہ حوصلہ اور بے مثال جرات ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں جوڑے سے گلگت بلتستان، بالخصوص اپنے ضلع دیامر، کے بارے میں تاثرات معلوم کر رہا ہے۔ اس کی انگریزی اہم نہیں، بلکہ وہ پیغام اہمیت کا حامل ہے جو وہ اس ٹوٹی پھوٹی انگریزی کے ذریعے دنیا کو دینا چاہتا ہے۔ کوئی زبان فرفربولنا اہم نہیں، مخاطب کو اگر آپ جیسے بھی سمجھا سکتے ہیں تو بس یہی کافی ہے۔ بولنے سے بولنا آتا ہے، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دن یہ روانی کے ساتھ بھی بول سکے گا۔ زبان سیکھنے کے لیے تعلیم نہیں، بلکہ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ماحول میسر آ جائے، زبان اپنے آپ آجاتی ہے۔ اس کلپ کے آخری کلمات ضرور سنیں، یہ حوصلے اور جذبے کی بہترین مثال ہیں

Gilgit Baltistan Tourism.

37,299 次观看 • 11 个月前