Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

گلگت میں سیاح نے گاڑی سے کچرا سڑک پر پھینکا، اور جب راہگیر نے قریب رکھی ڈسٹ بن استعمال کرنے کا کہا تو سیاح موصوف کا غرور دیکھیے کہنے لگے کہ "یہ روڈ تمھارے باپ کا ہے جو منع کرتے ہو۔نوجوان نے بھی کمال خودداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے...

22,353 просмотров • 14 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

کئی فالورز نے کمنٹس میں سوال اٹھایا ہے کہ ایک بشو سکردو میں ایک گاڑی ٹھیک کرنے کے ستر ہزار روپے کیوں لگے؟ ایسے لوگوں کو چاہیے تھا کہ مکینک کی تعریف کرتے، اس کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اُس نے ایک اجنبی سیاح کی مدد کی، وقت دیا، بار بار لمبا سفر کیا۔یہ معمولی بات نہیں۔ تو آئیے، خود سنیے کہ وہ مکینک کیا کہہ رہا ہے۔۔ آپ لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ بشو ویلی سکردو سے کتنی دور ہے۔ وہ لڑکا پہلے سکردو سے بشو ویلی گیا، پھر وہاں گاڑی بک کر کے دوبارہ سکردو آیا کیونکہ وہاں ضروری سامان دستیاب نہیں تھا۔ سکردو سے واپس بشو ویلی گیا، اور پھر دوبارہ آیا۔ اب آپ خود کسی سے پوچھ لیں، بشو ویلی ایک چکر لگا کے آنا کتنا خرچ پڑتا ہے؟ اوپر سے اُس کی مزدوری، گاڑی کی مرمت کے پرزے، اور دن بھر کی محنت — ان سب کو ملا کر ستر ہزار روپے کچھ زیادہ نہیں بنتے۔ آج کے دور میں جب فیول، سپیئر پارٹس اور سروس سب مہنگے ہو چکے ہیں، تو یہ رقم بالکل مناسب ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس نے ایک اجنبی سیاح کی مدد کی۔ اللہ نہ کرے اگر وہ سیاح کسی مشکل میں پڑتا اور فیملی ساتھ ہوتی تو ہم سب کتنا کچھ سوچتے۔ تو ایسے وقت میں یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ خرچہ کتنا ہوا، بلکہ اس شخص کی نیت، خلوص اور مدد کو سراہنا چاہیے۔ اس نے انسانیت کا ثبوت دیا، اب ہماری باری ہے کہ ہم بھی اُسے اپریشیٹ کریں، نہ کہ اس پر سوال اٹھائیں۔

Gilgit Baltistan Tourism.

24,720 просмотров • 1 год назад