Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس چھاپہ آفس بند ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا لیکن سارا عملہ غائب اور آفس میں صفائیاں چل رہی ہیں۔ لوگوں کو واپس بھیجا جا رہا۔ وزیرداخلہ کو بھی بولا گیا کہ آفس بند ہوچکا ھے😂 موجود عملہ کسی ایک سوال کا جواب نہیں دے سکا۔...

152,440 Aufrufe • vor 8 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

لاہور،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاون کا اچانک دورہ پاسپورٹ بنوانے کیلئے آئے شہریوں کی لمبی قطاریں، کئی کئی گھنٹے انتظار، ایجنٹ مافیا بھی سرگرم کئی کاونٹرز خالی، عملہ ہی موجود نہیں،پاسپورٹ بنوانے کیلئے آئے شہریوں نے وزیر داخلہ کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے صبح سے آئے ہیں، 4 گھنٹے ہو گئے ، ابھی تک باری نہیں آئی،شہریوں کی شکایات باہر ایجنٹ کو 5500 روپے دئیے ہیں، ایجنٹس باہر سرعام جلد کام کرانے کے پیسے مانگتے ہیں، شہریوں کی شکایات آج پاسپورٹ ملنا تھا، عملہ کہا رہا ہے کہ ابھی پرنٹ نہیں ہوا، بزرگ شہری کی شکایت وفاقی وزیرداخلہ کا پاسپورٹ آفس کی صورتحال دیکھ کر شدید برہمی کا اظہار انچارج پاسپورٹ آفس ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اسلم کو بدنظمی اور فرائض سے غفلت پر عہدے سے ہٹانے کا حکم پاسپورٹ آفس کے باہر ایجنٹ مافیا کی موجودگی پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایف آئی اے لاہور کو بھی عہدے سے ہٹانے کا حکم وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے موقع پر ہی احکامات دیئے میں آپ سے ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی شہریوں سے گفتگو یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، محسن نقوی شہریوں سے اسی طرح کا سلوک ناقابل برداشت ہے،محسن نقوی پاسپورٹ آفس میں شہریوں کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا،محسن نقوی کوتاہی یا غفلت پر بلاتفریق تادیبی کارروائی کی جائے گی،محسن نقوی آپ کو سہولتیں مہیاکرنا ہماری ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی، محسن نقوی

Azaz Syed

142,483 Aufrufe • vor 16 Tagen

میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے

Agha Sheikh Sarwar

177,925 Aufrufe • vor 9 Tagen