Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

گورنمنٹ ہمارے اسلامیہ سکول کا ایک ایک کمرہ ایک ایک کروڑ کا بنا رہی ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر 20لاکھ میں بنا کر دے رہا ہے ہم کیا کیا رونا روئیں ہم سیاستدان 4 سال تک کھاتے پیتے ہیں پھر نئے آ جاتے ہیں اصل لوٹ مار تو یہ کر...

110,658 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 16

Фото профиля Abdul Jabbar
Abdul Jabbar1 год назад

کھل کر کیوں نہیں بتاتے کہ ٹھیکیدار کا چیک کمیشن کے کن مراحل سے گزرتا ہے اورسئیر 2% ایس ڈی 2% ایکسئین 2% اے جی آفس اور کلیریکل سٹاف 2% اس کے بعد جو بچتا ہے اس میں ٹھیکیدار میٹیریل اور لیبر کے اخراجات نکال کر اپنی روزی روٹی چلاتا ہے۔، اس سب کے بعد پھنستا ٹھیکیدار، باقی عیش کرتے

Фото профиля Humanist
Humanist1 год назад

he himself admitting how corrupt they are when in the govt but as usual their brain dead supporters wouldn't even budge on this revelation

Фото профиля pakistani
pakistani1 год назад

مکروہ سیاسی پراکسی

Фото профиля Raza
Raza1 год назад

You can’t be a minister and pretend to be against the government.

Фото профиля Muhammad Ahsan
Muhammad Ahsan1 год назад

Is this swine a journalist or from opposite who always makes criticism but takes no action?

Фото профиля pakistani
pakistani1 год назад

سیاسی ناسور

Фото профиля waqas J.
waqas J.1 год назад

سہی کہہ رہا ہے اس کھانے والے پاکستانی بیوروکریسی ہے جو اتنا حرام مال اندر کر چکی ہے کہ اب مزید گنجائش نہیں مگر پھر بھی مال آندی کری جا رہے ہیں

Фото профиля Cartoon Animal Land
Cartoon Animal Land1 год назад

خوجہ آصف بات تو سچی کر رہا ہے اور باتوں سے بھی ساتھ یہی لگ رہا ہے کہ۔کر کچھ نہیں سکتے

Фото профиля Warraich Adnan
Warraich Adnan1 год назад

عوام تو اس کے ماں باپ کو رو رہے ۔۔۔۔۔ جنہوں نے کتا پیدا کیا

Фото профиля ALI
ALI1 год назад

سیاستدانوں سے زیادہ بیوروکریسی، جرنیل کھاتے ہیں

Фото профиля ShehryarKhan
ShehryarKhan1 год назад

اس لوٹ مار کی بنیاد اس خواجہ آصف جیسا کمی نسل چور رکھتا ہے جب وہ ووٹ چوری کر کے معاشرے میں قانون اصول اور اخلاق کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیتا ہے جس سے ہر منفی جزبہ اور کردار نشونما پاتا ہے اور حق تلفی کو اپنا حق سمجھتا ہے

Фото профиля reality
reality1 год назад

اصل مسئلہ ڈیہاڑی ھے

Фото профиля Ghulam Nabi
Ghulam Nabi1 год назад

بے شک خواجہ صاحب۔۔ بیوروکریسی اس ملک کو چاٹ رہی ہے۔۔

Фото профиля Asrar Amir اسرار امیر
Asrar Amir اسرار امیر1 год назад

پاک موج کا پراجیکٹ عمران خان ون ٹائم بزنس opportunity تھی اس میں عمران ریاض صابر شاکر جیسے مال بنا گئے اب یہ موقع / شارٹ کٹ دوبارہ نہیں آنا

Фото профиля Muhammad Binyamin
Muhammad Binyamin1 год назад

ویسے دیر سے سمجھ آجانے پر خواجہ صاحب کی پھانسی تو بنتی ھے

Фото профиля muhammad hussain
muhammad hussain1 год назад

جو پکے بیٹھے انکے حق میں سینہ تان کر آتے ہیں ۔ یہ بیچارے چھوٹے موٹے ٹھیکیدار کس کھیت کی مولی ہیں

Похожие видео

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,509 просмотров • 21 дней назад