Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ہائے ہمارا معصوم لیڈر ! وہ دنیا مسلمانوں کو سمجھاتا رہا کہ آپس میں نہ لڑنا بیٹھ کر بات کر لو کیونکہ یہ ایک ایسا مغربی مفاد ہے جو چاہتا ہے کہ یہ تنازع ضرور ہو ۔ ہمیں کبھی بھی اس تنازع کو ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔...

33,685 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 Aufrufe • vor 9 Monaten

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 Aufrufe • vor 2 Jahren

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 Aufrufe • vor 8 Monaten