Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ہزاروں کلومیٹر سفر کے بعد ریاست نے بلوچ ماؤں اور بہنوں کو تشدد اور تذلیل کا نشانہ بناکر بلوچ قومی نسل کشی کو جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ اعلان وہ اپنے کیپیٹل میں پوری دنیا کے سامنے کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظٰمیں کب...

33,508 views • 2 years ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں صرف فوج کرتی ہے لہذا پوری ریاست کو ذمہ دار نہ ٹھہرائے جائے۔ ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ جب فوج انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل عام کرتی ہے تو ریاست کے باقی ادارے بشمول پارلیمنٹ اور عدلیہ کس جانب کھڑے ہوتے ہیں؟ بلوچستان میں گزشتہ 75 سالوں سے جاری نسل کشی میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کا کیا کردار تھا؟ ان سب کو چھوڑے، ہم گزشتہ ایک مہینے سے جبری گمشدگیوں اور ماروائے عدالت قتل کے خلاف لانگ مارچ کررہے ہیں، گزشتہ دس دنوں سے ہم اسلام آباد میں موجود ہیں، ہمارے ساتھ بزرگ، خواتین اور بچے ہیں، ہمارے اوپر اسلام آباد میں داخل ہوتی ہی تشدد ہوا، گرفتاریاں ہوئی اور مسلسل دھمکیوں اور ہراسمنٹ کا سامنا کررہے ہیں۔ کیا اس دوران آپ کے پارلیمنٹ اور عدلیہ نے ان سب کو روکنے میں کردار ادا کیا؟ جب آپ کے عدلیہ، پارلیمنٹ سمیت ریاست کے تمام ادارے ازخود اس قتل عام اور ظلم و جبر کے خاموش حمایتی ہونگے تو سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ پوری ریاست ہماری نسل کشی میں شریک ہے۔ #MarchAgainstBalochGenoscide #StopBalochGenocide

Mahrang Baloch

139,572 views • 2 years ago

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,168 views • 1 year ago

ڈاکٹر ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر قیادت کے لواحقین کے ہمراہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پُرامن احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاست نے ان مظلوم ماؤں اور معصوم بچوں کی بات سننے یا ان کے مسئلے کے حل کے بجائے، انہیں شدید بارش میں ایک عارضی شیلٹر یا کیمپ لگانے کی اجازت تک نہیں دی۔ یہ بلوچ مائیں اور بچے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کوئٹہ سے اسلام آباد اس امید پر آئے کہ شاید ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے، ریاست نے ان کی فریاد سننے کے بجائے انہیں خراب موسم اور تیز بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے یہ خواتین اور بچے شدید خراب موسم کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ احتجاج پر بیٹھے ہیں، مگر ریاستی بے حسی اپنی جگہ قائم ہے۔ ہم تمام انسان دوست افراد، سول سوسائٹی، اور بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظلوموں کی آواز بنیں، اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں، اور ان ماؤں اور بچوں کی اس پرامن جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔

Mahrang Baloch

19,552 views • 1 year ago

شہید ظریف بلوچ کے گھر پر چھاپہ اور گھریلو املاک کی تباہی ریاستی جبر کے تسلسل کی عکاسی کرتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کل بروزِ جمعہ رات کے وقت شہید ظریف بلوچ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں فورسز کی جانب سے گھر کے اندر موجود قیمتی اشیاء، جن میں خواتین کے زیورات، کپڑے اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء شامل تھیں، اپنے ساتھ لے جائی گئیں۔ اس کے علاوہ گھر کے سامان کو نقصان پہنچایا گیا اور اہلِ خانہ کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔ شہید ظریف بلوچ کو 26 دسمبر 2025 کو فورسز نے جبری طور پر حراست میں لیا تھا، اور ایک دن بعد ان کی مسخ شدہ لاش ان کے ہمسایے کے گھر کے قریب پھینکی گئی تھی۔ ان کی لاش پر انسانیت سوز تشدد کے نشانات موجود تھے، ان کی زبان کو بھی داغا گیا تھا۔ یہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ایک انتہائی تشویش ناک عمل تھا۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس مسلسل ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، گھروں پر چھاپوں اور متاثرہ خاندانوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی جبر، و بربریت کے خلاف آواز بلند کریں، اور ریاست پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے۔

Baloch Yakjehti Committee

19,673 views • 3 months ago