Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ہفتے کے روز بلوچستان بھر میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری رہا، کوئٹہ میں کنٹینرز رکھ مختلف شاہراہوں کو بند کردیا گیا ہے۔ آخری اطلاعات تک کوئٹہ میں حالات کشیدہ ہیں جہاں مظاہرین پر پھر سے پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی جبکہ متعدد افراد کو گرفتار کیا...

22,660 views • 1 year ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

وڈھ میں آج صبح بی این پی کے احتجاجی مظاہرے پر ریاستی بربریت کی انتہا کر دی گئی ۔ براہ راست فائرنگ، شیلنگ سے اب تک کم. از کم پانچ مظاہرین زخمی ہیں۔ جب کہ ریاستی جبر کے باوجود بی این پی کارکنان میدان میں ڈٹے رہے اور اب تک وڈھ میں احتجاج جاری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں و دیگر سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لئے بلوچستان نیشنل پارٹی کا احتجاج گیارہویں روز میں داخل ہوچکا ہے۔قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل اور ہزاروں کی تعداد میں لانگ مارچ کے شرکاء مستونگ میں لک پاس کے مقام پر بیابان میں محصور ہیں۔جہاں ان پر ایک خود کش حملہ ہوچکا ہے اور اب بھی وہاں بی این پی قائدین سمیت ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بی این پی کے لانگ مارچ کو کوئٹہ میں داخل ہونے سے روکنے کے خلاف آج دوسرے دن بھی بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور شاہراہوں کی بندش جاری ہے۔کوئٹہ،خضدار، وڈھ،دالبندی، نوشکی،نوکنڈی، تربت، قلعہ سیف اللہ، سوراب، بُلیدہ، نال، قلات، حب، زہری، بسیمہ، جیونی، گوادر سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ علاوہ از ایں کوئٹہ سمیت بیشتر اضلاع میں بی این پی رہنماؤں کے گھروں کا محاصرہ کیا جا رہا ہے، چادر چار دیواری کی پامالی ہو رہی ہے اور گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

Balochistan National Party

47,932 views • 1 year ago

بلوچ سر زمین پر بلوچ نسل کشی ہر ریاستی پالیسی میں عیاں ہے۔ زہری میں عام عوام کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے، گزشتہ 4 دنوں میں محض شہر سے 12 شہریوں کو جبری گمشدہ کیا گیا ہے جبکہ دور دراز علاقوں سے کئی افراد اٹھائے گئے ہیں جن کا ڈیٹا تا حال مکمل نہیں مل سکا۔ آپریشن کے دوران ایک 16 سالہ نوجوان کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ کل سے لواحقین نے شا ہ راہ کو دو جگہوں “زہری کراس” ، اور سوراب زیروں پوائنٹ کے مقام پر بندھ کیا تھا۔ جسکے بعد دھرنے کو ایک جگہہ منظم کرنے کے لیے لواحقیں نے زہری کراس سے لیکر سوراب تک پیدل مارچ کیا، ٹھٹھرتی سردی میں پچھلے 24 گھنٹوں سے لواحقین سڑک پر بیٹھ کر انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، دوسری جانب سڑک بند ہونے کی وجہ سے مسافر بھی ازیت کا شکار ہے، مگر نسل کش ریاست کے لیے یہ انسان نہیں، جسمانی ازیت سے لیکر زہنی ازیت تک ہر بلوچ ریاستی بلوچ نسل کش پالیسیوں کی وجہ سے متاثر ہے۔ آج دھرنے کا دوسرا دن ہے اور سوراب میں نیٹورک مکمل بند کی گئی ہے #EndEnforcedDisappearances #StopBalochGenocide

Sabiha Baloch

11,336 views • 1 year ago