Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

”ہمارا این ایف سی شئر جو تقریباً 400ارب روپے بنتا ہے پورا ہمیں نہیں مل رہا۔ فاٹا کا انتظامی انضمام ہوا ہے لیکن ابھی تک مالی انضمام نہیں ہورہاـ،اگر ان قبائلی اضلاع کا مالی انضمام کیا جائے تو ہمارا این ایف سی شئر 19.4 بنتا ہے جو نہیں دیا...

13,049 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

مرکزی رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے پشاور میں مشاورتی کانفرنس میں قرار داد پیش کی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف تمام من گھڑت کیسز واپس لیے جائیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین کی گئی۔ وزراء نے ڈھٹائی سے اس پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت توہینِ عدالت کے کیس پر کارروائی کی جائے۔ یہ عدالتوں کی اپنی توقیر کا مسئلہ ہے۔ جس جس نے عدالتوں کی بے توقیری کی ہے، ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔ ایسی قرار واقعی سزا دی جائے کہ دنیا بھر کو پتہ چلے کہ عدلیہ آزاد ہے۔ خیبر پختونخوا ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ہمارے پاس حکومت ہے لیکن ہمیں حقِ حکمرانی نہیں دیا جا رہا ہے۔ ریاست فاٹا کے عوام کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کر رہی۔ 3 فیصد این ایف سی حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئین کے مطابق جو خیبر پختونخوا کا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ہے، وہ دیا جائے۔ اس وقت گندم کا جو بحران ہے، مریم نواز اور شہباز شریف نے اسے مس ہینڈل کیا۔ کسانوں کا 900 ارب روپے کا نقصان کیا گیا۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گندم کی آمدورفت پر جو پابندی لگائی گئی ہے، اس کو ختم کیا جائے۔ شرکاء نے قرار داد کو متفقہ طور پر پاس کیا۔

Asad Qaiser

11,833 Aufrufe • vor 5 Tagen

ہمیں بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، وہاں کسٹم ایکٹ، انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کو توسیع دی گئی ہے۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے ہماری وزیرِ اعظم سے بات ہوئی، پھر وزیرِ خزانہ سے ہماری بات ہوئی، جن کے ساتھ رانا ثناء اللہ بھی تھے۔ بات ہوئی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ ہم یہ ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ دوسرا، تمباکو پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے، اس پر بھی ہم نے بات کی، لیکن دونوں چیزیں انہوں نے مسترد کر دیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے جائز حقوق اور مطالبات کو خاطر میں نہیں لا رہے ہیں۔ این ایف سی میں ہمارے حصے کا مسئلہ ہے، جو ہمیں نہیں مل رہا۔ وفاق کے ذمے ہمارے 434 ارب روپے کے فنڈز ہیں، جو نہیں دیے جا رہے۔ ضم شدہ اضلاع کے بارے میں جو کمٹمنٹ کی گئی تھی، وہ بھی پوری نہیں کی جا رہی۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اسمبلی کے فلور پر ہم نے بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ ان شاء اللہ ہم ہر موقع پر اپنے صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

Asad Qaiser

12,024 Aufrufe • vor 2 Monaten