Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ہمارے بچپن میں ہی ہم سے بہادری چھین لی جاتی ہے اور خوف میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ مغربی معاشرے میں 8 ماہ کے بچے کو سوئمنگ کرواتے ہیں، بچوں کو ساتھ لے کر فری فال جمپنگ کرتے ہیں، بچوں کیساتھ 30,30 میٹر سمندر کی گہرائی میں لے جاتے...

54,777 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 30

Фото профиля Muhammad Arif
Muhammad Arif9 месяцев назад

بالکل درست فرما رہے ہیں۔ یہ بچپن کے خوف ساری زندگی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے ۔

Фото профиля Time traveler
Time traveler9 месяцев назад

یہ سب کچھ درست صحیح لیکن لوگوں کو مورد الزام ٹہرانے سے پہلے دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کس معاشرے اور کن. حالات میں رہتے اور زندگی گزار رہے ہیں. قیمتی کپڑے پہن کر لوگوں کو مورد الزام ٹھہرانا بہت آسان ہے.جن بچوں کو جسمانی ،دماغی اور ذہنی نشو و نما کے لیے مکمل خوراک میسر نہیں وہاں بہادری

Фото профиля M
M9 месяцев назад

بکواس ہے یہ سب۔ میرا بچپن پہاڑوں اور دریاؤں میں گزرا اور اب بڑا ہوگیا تو پہاڑ اور دریا دونوں سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے کسی نے نہیں ڈرایا

Фото профиля Amna
Amna9 месяцев назад

Kiya Karen hamere Bache agwa ho jate hain inko swimming SE nigleria ka khatra HOTA he hamere Bache khule main hole me gir jate hain hme fobia na ho to Kiya ho

Фото профиля _sulmanabajwa_
_sulmanabajwa_9 месяцев назад

@salmana15921324 سو فیصد درست بات

Фото профиля انتہا پسند
انتہا پسند9 месяцев назад

پتہ کرو اس کے اپنے بچے کتنے تیس مار خان ہیں

Фото профиля Mariam Awan
Mariam Awan9 месяцев назад

Sultan sahab jo bat kar rahay hein us py khud kis had tk amal kartay hein

Фото профиля Gohar Awan
Gohar Awan8 месяцев назад

بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ بچپن میں کی گئی تربیت کے اثرات پوری زندگی ساتھ رہتے ہیں۔

Фото профиля SRK
SRK8 месяцев назад

فضول باتیں! اس کا لباس دیکھو! کیا یہ عام پاکستانی کا لباس لگتا ہے؟ ایسی بے وقوفانہ خطبات کی ضرورت نہیں جو زمینی حقیقت سے میل نہیں کھاتے! کیا اسے معلوم نہیں کہ ہم خوراک،تعلیم،کھیل،سہولیات کہ مواقع سےمحروم ملک ہیں! پھر بھی ہم بے خوف ہیں ،ہم بہادر ہیں ہم پرعظم ہیں ،ہم پرامید ہیں

Фото профиля ASC Kashif Nadeem Malik
ASC Kashif Nadeem Malik8 месяцев назад

@grok اس بندے کی ویڈیوز دکھاو جس میں یہ عیاشیاں کر رہا ہے

Фото профиля Sadiya Waleed
Sadiya Waleed8 месяцев назад

The irony is that sometimes they are inspired to be brave by our ancestors!

Фото профиля 🪻رنگ ساز
🪻رنگ ساز9 месяцев назад

We are more brave- we live in a totally unsafe environment

Фото профиля کھیتران
کھیتران9 месяцев назад

@NailaMashhood تبھی وہ افغانیوں سے ویت نامیوں سے جیت گئے ؟

Фото профиля SARAH (لالہ رخ)
SARAH (لالہ رخ)9 месяцев назад

ہماری تلخ ترین حقیقت اور تاریخ ہے! بالکل ایسا ہی ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔

Фото профиля jamal
jamal9 месяцев назад

پاکستانیوں کو کھسرا ناچنے گانے والی قوم بنانے میں اس کے حکمرانوں کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ ان کو علم ہے کہ پاکستانیوں میں بہادری ہوئی تو ان کی لوٹ مار برداشت نہیں کریں گے۔امریکہ میں 10 سال کے بچے کے ہاتھ میں گن ہوتی ہے پاکستان میں کی چین پر چھوٹی سی نائف ہو تو پولیس پکڑ لیتی ہے

Фото профиля HyperMax
HyperMax9 месяцев назад

بلکل درست۔۔۔۔۔ھم مرید بنا دیتے ھے

Фото профиля Rahila
Rahila8 месяцев назад

ہم گود سے بچہ اتاریں گے تو وہ کچھ کرے گا ہم 30۔ سا والے خود فیصلے نہیں کرنے دیتے اور یہی ہمارا مسئلہ ہے وہ جتنی جلدی خود فیصلے کرے گا اس کا دماغ بھی کام کرے گا

Фото профиля ASIF QASIM
ASIF QASIM9 месяцев назад

یہاں کی محبت اپاہج بناتی ہے۔

Фото профиля Insan
Insan8 месяцев назад

پھر بھی یہ قوم نہیں ڈرتی نہ اللہ سے نہ قانون سے نہ اپنے مستقبل سے

Фото профиля Jabbar-ul-haq Alvi
Jabbar-ul-haq Alvi8 месяцев назад

excellent analysis

Фото профиля بلال احمد خان جنجوعہ
بلال احمد خان جنجوعہ8 месяцев назад

بلکل ٹھیک کہا آپ نے

Фото профиля Karori
Karori9 месяцев назад

True😑😑🥺🥺🥺

Фото профиля There is no greater sin than hypocrisy.
There is no greater sin than hypocrisy.8 месяцев назад

اس لیے اسلام میں بچوں کو سات سال سے پہلے پڑھائی سے منع کیا گیا ہے 🤔

Фото профиля ملنگ بابا
ملنگ بابا9 месяцев назад

بہترین

Фото профиля gulzar Hussain
gulzar Hussain8 месяцев назад

True

Фото профиля Hurrian Fatima
Hurrian Fatima8 месяцев назад

واقعی سوچنے والی بات ہے ہم حفاظت کے نام پر خوف منتقل کر دیتے ہیں۔ آپ کے خیال میں بچوں میں اعتماد پیدا کرنے کی شروعات کہاں سے ہونی چاہیے؟

Фото профиля HaRD TaLK
HaRD TaLK8 месяцев назад

کیا یہ جلال پور شریف کا پیر ہے جو کہ انگریز کے کتے نہلاتے تھے ؟ فرنگری فوج میں مسلمانوں کو بھرتی کرواتے تھے۔ خلافت عثمانیہ کے خلاف ۔ ان کی جائداد کا آپ اندازہ نہین کرسکتے

Фото профиля Dark_Stop
Dark_Stop8 месяцев назад

He himself western victims.

Фото профиля woke
woke9 месяцев назад

Very true

Фото профиля Tehseen ALi Khan
Tehseen ALi Khan8 месяцев назад

مَا شَاءَ ٱللّٰهُ سُبْحَانَ ٱللّٰهِ

Похожие видео

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسا انوکھا سکول بھی ہے جہاں داخلہ لینے کے لیے آپ کو امتحان میں ٹاپ کرنے کی نہیں بلکہ دو سے تین بار فیل ہونے کی ضرورت ہے۔ فلم تھری ایڈیٹس اسی شخص کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا نام "سونم جی" ہے اور اس تعلیمی ادارے کا نام "Students Educational and Cultural Moments of #LADAKH" سونم نے سوچا کہ جو 25 فیصد بچے فیل ہو جاتے ہیں ان کے لیے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق ہی کوئی تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔ اس ادارے میں مختلف سکولوں سے " نالائق " کہہ کر دھتکار دیے جانے والے بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ اس سکول کو یہ بچے خود ہی چلاتے ہیں۔ ہر دو مہینے بعد الیکشن ہوتے ہیں اور باقاعدہ ان بچوں میں سے ہی ایک کو منتخب کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے ماتحت ایک ٹیم تشکیل دے کر ذمے داریاں سونپ کر " لیڈر" کا کردار ادا کرتا ہے۔ لداخ #India کا ایک ایسا علاقہ جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہوتا ہے وہیں اس سکول کے اندر 15 ڈگری درجہ حرارت ہوتا ہے۔ یہ پورا سکول سولر سسٹم پر چلتا ہے۔ کوئی بچہ سولر سسٹم کی لیڈر شپ قبول کرتا ہے کوئی جانوروں کی کوئی کھیتوں کی اس طرح ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں کام سونپ دیے جاتے ہیں۔ یہاں ہر بچے کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بچے نت نئی ایجادات کرتے ہیں مختلف میدانوں میں اپنا آپ منواتے ہیں اور پھر ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ یہ شخص کہتا ہے لداخ جیسے علاقے میں جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہے وہاں ایک بچے کو "ایف" فار فین کیسے اور کیوں پڑھایا جائے ؟ اسے یہاں پہاڑی علاقے کی مناسبت سے یہاں کے ماحول کے مطابق ہی چیزیں سمجھ آسکتی ہیں۔ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں ؟ روز مرہ زندگی میں کتنے موضوعات ہیں جن کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہمارے نصاب میں شامل ہیں ؟ خود اندازہ لگا لیجیے ہم اتنے پیچھے کیوں ہیں ؟ نفسا نفسی کی اس دنیا میں جہاں ہر شخص اور ادارہ ٹاپ کرنے اور ٹاپر پیدا کرنے میں مصروف ہے وہیں ایسے عظیم لوگ بھی موجود ہیں جو کچھ ایسا کر رہے ہیں جسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ایسا شخص جس کی توجہ کا مرکز وہ پچانوے فیصد بچے تھے جو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اپنے نظریات اور انقلابی سوچ کے ساتھ اپنے حصے کی کوشش کرنے والےاس شخص نے #India کے سرکاری سکولوں میں بچوں کو وہی معیار وہی تعلیم پہنچا دی جو صرف پانچ فیصد #American طرز سکولوں میں مہیا کی جاتی تھی۔ اور ہمارے ہاں ؟ سرکاری سکولوں میں اگر نظام تعلیم کو بہتر بنایا گیا تو پرائیویٹ سکولوں میں اپنے اربوں روپے انویسٹ کرنے والے طاقت ور لوگوں کا دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہر بچہ اپنے آپ میں ایک پوری کائنات ہے۔ اس کے اندر مختلف صلاحتیں موجود ہوتی ہیں ہر بچہ قدرتی طور پر کسی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت ، صلاحیت اور ٹیلنٹ کو دریافت کرنے اور پالش کرنے اہم کردار والدین اور ٹیچرز کا ہوتا ہے یہ تبھی ممکن ہے جب تعلیمی ادارے تجارتی منڈیوں میں تبدیل نہ ہوں ۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ممکن ہے۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں یہاں بھی امید زندہ ہے۔ ہم آج بھی اپنے بچوں کو " نوکری حاصل کر کے نوکر بننے کی سوچ سے آزاد کر دیں تو وہ مستقبل میں نوکریاں دینے والے بن سکتے ہیں۔ اپنا ٹیلنٹ دریافت کر سکتے ہیں۔ #ابو_عبيدة #Lahore #Cheating #ImranRiazKhan #Taliban #SheikhRasheed #Dubai #Cabada #Balochistan #AlShifaHospital #IsraelIsATerrorist #Islamabad

Sadia Khalid

28,839 просмотров • 2 лет назад

اکثر دہشت گردوں کے ہمدرد یہ واویلا کرتے نظر آتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کے آپریشنز میں معصوم جانوں کا ضیاع ہوا لیکن وہ اس حقیقت کو چھپاتے ہیں کہ ان بچوں کو وہاں ڈھال کے طور پر رکھا کس نے تھا ؟؟ خوارجی دہشتگرد اپنے ٹھکانوں میں بچوں کو ایک سوچھی سمجھی گھناؤنی حکمتِ عملی کے تحت رکھتے ہیں جس کے مقاصد درج ذیل ہیں👇 ​دہشتگردی کے مراکز میں معصوم بچوں کو رکھ کر نہ صرف ان کا اخلاقی اور جنسی استحصال کیا جاتا ہے بلکہ ان سے وہ وہ کام لیے جاتے ہیں جسے سن کر انسانیت شرما جائیں، ان بچوں کا بچپن چھین کر انہیں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے اور انہیں مستقبل کے خودکش حملہ آوروں اور دہشتگردوں کے طور پر تیار کیا جاتا ہے، خوارجی دہشتگرد جانتے ہیں کہ جب پاک فوج ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گی تو وہاں موجود بچوں کی ہلاکت لازم ہے اس لیئے جان بوجھ کر بچوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ ان کی ہلاکت کو ریاست اور فوج کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جا سکے، بچوں کی ہلاکت کی تصاویر اور ویڈیوز پھیلا کر یہ عناصر مقامی سطح پر فوج کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ​خوارجی دہشتگرد نہ صرف ملک کے دشمن ہیں بلکہ ان معصوم بچوں کے بھی قاتل ہیں جنہیں یہ اپنی بقا کے لیے بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ اصل مجرم وہ ہے جو بچوں کو بارود کے ڈھیر پر بٹھاتا ہے وہ نہیں جو اس ڈھیر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،، پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰✊ پاک فوج پائندہ باد 🪖✊

Zarrar Marwat 🇵🇰

10,364 просмотров • 7 месяцев назад

عربی شہزادے ہر سال دسمبر/جنوری میں تلور کے شکار کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ ۔عربی شہزادوں کے لیے شکار گاہیں تیار کی جاتی ہیں۔ ہر سال چار کلو میٹر کے احاطے پر عارضی شہر تعمیر کیا جاتا ہے، اس عارضی شہر میں دو سو رہائشی مہمان خانے تیار کیے جاتے ہیں۔ عربی شہزادوں کی معاونت کے لیے ایک ہزار ملازم رکھے جاتے ہیں۔ یہ تمام ملازمین مقامی افراد ہوتے ہیں جن کو روزگار مل جاتا ہے۔ شہزادوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ ایک ہزار ملازم پورا سال تنخواہ سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اس صحرا میں پانی کی ترسیل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ صحرا میں مقیم شہر کو جنریٹر کے زریعے بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے اس عارضی شہر کو خار دار تاروں سے سیل کیا جاتا ہے۔ ان تمام سہولیات کا انتظام میزبان حکومت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔عرب شہزادوں کے جانے کے بعد اس شہر کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔ اور سامان کو گودام میں منتقل کر دیا جاتا ہے

Pakistan Tourism

102,187 просмотров • 9 месяцев назад