Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ہمیں ہمیشہ یہ سنایا گیا یہ پڑھایا گیا یہ باور کرایا گیا کہ ریاست ماں کے جیسے ہوتی ہے لیکن کیا ماں اپنے بچے کو مارنے کے بعد ہتھکڑیوں سمیت لاش واپس کرے گی؟ شہید قاسم کھوکھر معصوم جوان کو 9 مئی میں سزا سنائی گئی ریاست ماں نے...

38,508 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔ اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔ ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔ اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔ اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔ اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔ تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب 25 اگست 2026

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,489 görüntüleme • 1 ay önce

اسلام آباد جیسی شہر میں بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں مسلسل ہمیں فالو کر رہی ہیں، ہراساں کر رہی ہیں اور ریاستی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ بحث اب بےمعنی ہے کہ یہ گاڑیاں کس کی ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے: کیا اس ملک میں بلوچوں کیلیے کوئی قانون نہیں؟ کیا ہم دشمن ریاست کے شہری ہیں؟ ہم نے جو دوسرا گھر کرائے پر لیا تھا آج اس کے مالک کو بھی ریاستی دباؤ کے تحت مجبور کیا گیا کہ ہمیں نکال دے۔ اب ضعیف مائیں، بہنیں، اور نوجوان کھلے آسمان تلے ہیں بے آسرا، بے سہارا، صرف اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کی امید لیے۔ ریاست جس طرح اپنے ہی شہریوں کو بے گھر کر کے ہراساں کر کے، اور در بدر کر رہی ہے، شاید دشمن ملک بھی اپنے قیدیوں سے ایسا سلوک نہ کرے۔ اگر ہمیں دارالحکومت میں ایک کرائے کا گھر لینے کی اجازت نہیں تو کم از کم ہمیں نیشنل پریس کلب کے سامنے خیمہ لگا کر پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے۔ یا ہمیں واضح طور پر بتا دیں کہ اس ریاست میں بلوچوں کے لیے نہ زمین ہے، نہ آواز، نہ سانس لینے کا حق۔ چند گھنٹے قبل ایک پی ٹی آئی رہنما صرف کھانا دینے آیا تھا، اس کے ڈرائیور اور گاڑی کو غائب کر دیا گیا۔ یہ ہراسانی نہیں، یہ بلوچوں کو سبق سکھانے کا ریاستی منصوبہ ہے۔ ریاست کو یہ یاد رکھنا چاہیے: جو قومیں انصاف مانگنے پر دھتکاری جائیں، وہ ایک دن خاموش نہیں رہتیں وہ چیختی بھی ہیں اور پھر لڑتی بھی ہیں۔ بلوچوں کو دیوار سے لگانا بند کریں کیونکہ دیوار گر گئی تو اس کے ملبے تلے ریاست خود دفن ہو سکتی ہے۔ #ReleaseByCLeaders

Nadia Baloch

74,359 görüntüleme • 1 yıl önce

کاش سندھ سرکار کو اس ماں کی دل دہلا دینے والی چیخیں سنائی دیں،آخر کب تک روشنیوں کا یہ شہر کرپشن اور نااہل حکمرانوں کے ہاتھوں اپنے بچوں کو یوں کھوتا رہے گا؟ کیا ان مسلط کردہ فارم 47 کے حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے دلوں میں ذرا سا بھی خوفِ خدا باقی ہے؟ کمسن ابراہیم آج اس بدانتظامی اور بےحسی کی بھینٹ چڑھ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، مگر اس کی ماں کو اس کا بیٹا کون واپس لا کر دے گا؟ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن نے کراچی کو اس حد تک برباد کر دیا ہے کہ یہ شہر اب انسانوں کے رہنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، لاقانونیت، کرپشن، بھتہ خوری، ہر طرف مافیا کا راج، اور بے قابو ڈمپر روزانہ انسانی جانیں نوچ رہے ہیں،کراچی والوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے چاہ کر بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اگر اب بھی خاموشی برقرار رہی تو یہ بربادی صرف کراچی تک نہیں رہے گی بلکہ پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

Senator Allama Raja Nasir

64,144 görüntüleme • 10 ay önce