Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

یوتھیا ستر سال کا ہو یا بیس سال کا ہو یوتھیا سیاستدان ہو یا عام شہری ہو ان کا ایوریج دماغ اتنا ہی چلتا ہے جتنا ان کو یوٹیوبرز بتاتے ہیں۔ سنئیے اور اپنا سر دیوار میں ماریں

17,582 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جب کوئی سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر سکے اور چال میں لچک بھی ہو تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے پہلی ڈسپریکسیا (Dyspraxia) ہے ​یہ اعصابی مسئلہ ہے جو عضلاتی کوآرڈینیشن کو متاثر کرتا ہے۔ ڈسپریکسیا کا شکار افراد کے چلنے کا انداز دیکھنے والوں کو عجیب، غیر متوازن، یا بہت زیادہ لچکدار لگ سکتا ہے کیونکہ ان کا دماغ جسم کے توازن کو صحیح طرح سنبھال نہیں پاتا۔ سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر پانا اور ہاتھ پیر کا بروقت نہ ہلنا ڈسپریکسیا کی سب سے کلاسک علامت ہے۔ ​اس کی دوسری وجہ Klinefelter Syndrome - XXY ہو سکتی ہے مردوں میں عام طور پر XY کروموسوم ہوتے ہیں، اس جینیاتی کیفیت میں ایک اضافی X کروموسوم (XXY) آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) کی کمی ہو سکتی ہے، جس سے مسلز کی طاقت کم ہوتی ہے جس سے جسم کی بناوٹ اور ہڈیوں کا ڈھانچہ تھوڑا نزاکت مائل ہو سکتا ہے، اور موٹر سکلز (چیزوں کو پکڑنا، توازن برقرار رکھنا) کمزور ہو جاتی ہیں۔ ​اس کی تیسری وجہ (Visual Processing Disorder) ہو سکتی ہے ​اس میں بال تو نظر آ رہی ہوتی ہے لیکن دماغ کا وہ حصہ جو اس منظر کو دیکھ کر جسم کو حرکت دینے کا حکم دیتا ہے وہ سست ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ فاصلے کا درست حساب نہیں لگا پاتا۔ چوتھی وجہ ہائپوٹونیا یعنی "مسلز کا ڈھیلا پن" ہو سکتی ہے ۔ اگر کسی کے پٹھے پیدائشی یا اعصابی طور پر زیادہ لچکدار اور نرم ہوں، تو اس کے جوڑ مستحکم نہیں ہوتے۔ ایسے افراد جب چلتے ہیں تو ان کی چال میں ایک خاص قسم کا لچکدار پن یا لہر ہوتی ہے اور ان کے reflexes بھی بہت سست ہوتے ہیں۔

Shafqat Ch

124,969 Aufrufe • vor 3 Monaten