Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

یوٹیوبر رجب بٹ کو گرفتاری کا خطرہ میاں علی اشفاق علی ایڈووکیٹ کے ساتھ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے، عدالت نے رجب بٹ کی ایک بار پھر ضمانت منظور کرلی،سشن عدالت نے رجب بٹ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ضمانت منسوخ کردی تھی

53,849 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں پنجاب پولیس کے تفتیشی کو دھکے ریپ کے مقدمے میں ملوث ملزم کی عبوری ضمانت منظور کیے جانے کے بعد مدعیوں نے تفتیشی افسر کو گھیر لیا۔ مدعیوں نے تفتیشی افسر کا گریبان پکڑتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے عدالت میں ملزم کی گرفتاری مطلوب نہ ہونے کا بیان دیا۔ مدعیوں کا تفتیشی افسر پر ملزم سے رشوت لینے کا الزام اور کمرہ عدالت کے باہر مدعیوں اور تفتیشی افسر کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ملزم ملک اعجاز کی عبوری ضمانت منظور کی لاہور ہائیکورٹ کی سکیورٹی نے موقع پر پہنچ کر بیچ بچاو کرایا سی پی او گواجرانولہ نے ملزم کو قصور وار قرار دیا تھا مدعی خاتون کی دہائی تفتیشی نے کمرہ عدالت میں بیان دیا کہ ملزم کی گرفتاری نہیں درکار مدعی خاتون کی دہائی ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہمیں انصاف فراہم کیا جائے مدعی خاتون کی دہائیاں لاہور ہائیکورٹ کی سکیورٹی نے مدعیوں کو ہائیکورٹ سے روانہ کردیا ملزم کے خلاگ گواجرانولہ کے تھانہ میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا

Pakistan24

21,617 Aufrufe • vor 5 Monaten

رجب بٹ کی طلاق کے زمہ دار دو لوگ ہیں ایک رجب کا سالہ اور دوسری رجب کی ماں ، رجب بےشک لفنڈر آدمی ہے لیکن وہ لفنڈری اُس کا روزگا ہے ڈیلی چالیس پچاس لاکھ بندے کو انٹرٹینمنٹ دینے کے لیے اُسے کوئ شوشا چاہیے ہوتا ہے یہ ایمان کو پتا ہونا چاہیے تھی عون نے میاں بیوی کی ناراضگی کیش کروانے کی کوشش کی اور رجب کی ماں نے ہر روز دس لاکھ کمانے والا بیٹا بہو کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے صرف ساس کا رول ادا کیا یہ طلاق بچ سکتی تھی اگر عون پتلو کی لائیو میں نا جاتا ، یہ طلاق بچ سکتی تھی اگر ایمان طلاق نوٹس سوشل میڈیا پر شئیر کرنے کے بجائے پرسنل رجب سے رابطہ کرتی یہ طلاق بچ سکتی تھی اگر رجب کی ماں ساس ہونے کے بجائے ماں بن کر سوچتی یہ طلاق بچ جانی تھی اگر رجب اپنے غربت کے دن یاد کرتے ہوئے ایک یتیم بچی کی کسی غلطی کو معاف کردیتا لیکن وقت کبھی معاف نہیں کرتا جتنی دشمنیاں اور پنگے رجب نے لیے ہوئے ہیں یہ بھی کسی دن عامر لیاقت کی طرح کسی کمرے میں کسی عورت کے انتقام کا نشانہ بنا نظر آئے گا وقت کی چکی آہست ضرور چلتی ہے لیکن رُکتی پورے وقت پر ہے۔

‏𝑴𝒂𝒔𝒐𝒐𝒅 𝑼𝒔𝒎𝒂𝒏𝒊

34,065 Aufrufe • vor 6 Monaten