Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

یہ 17 سال بعد وطن واپس آیا بنگلہ دیش کا ہونے والا نیاوزراعظم خالدہ ضیا کا بیٹا زرا عوام دیکھیں۔۔۔۔۔ کبوتر باز بھی ایسے لایا گیا تھا یہ سوچ کر لیکن وہ چوری کی ہاری سیٹ پر یاسمین راشد پر ہی صرف قبضہ کر سکا اور بیٹی کو پھر...

168,803 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بے قصور بیٹی، ٹوٹا ہوا گھرانہ راولپنڈی کا ایک عام سا گھر… مگر اس گھر میں خوابوں کی دنیا بسی ہوئی تھی۔ ایک بیٹی، جو اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا تھی، بہتر مستقبل کے لیے پردیس گئی۔ برسوں کی محنت، تنہائی اور جدائی برداشت کی، لیکن دل میں یہ سکون تھا کہ ماں باپ خوش ہیں اور اس کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پردیس میں وہ مسکرا کر زندگی گزار رہی تھی، مگر دل ہمیشہ وطن کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ پھر ایک دن وطن میں ایسا طوفان اٹھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک سازش کے تحت عوام کا محبوب وزیرِاعظم برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد ظلم و جبر کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے لاکھوں دل توڑ دیے۔ یہ خبر جب بیٹی نے سنی، تو اس کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ ظلم کے خلاف بولنے لگی، سچ کہنے لگی۔ لیکن طاقت کے ایوانوں کو ایک نازک سی لڑکی کی آواز بھی برداشت نہ ہوئی۔ انتقام میں اس کے والد اور بھائی کو اٹھا لیا گیا، دھمکایا گیا، اور حکم دیا گیا: "اپنی بیٹی سے کوئی بات نہ کرو، ورنہ انجام برا ہوگا۔" ایک ماں، جس کا دل ہر لمحہ اپنی بیٹی کے لمس کو ترستا تھا، اپنی جان سے بڑھ کر چاہی جانے والی بچی سے بات نہ کر سکی۔ وہ ماں روز آنسو بہاتی، راتوں کو جاگتی، بیٹی کی آواز سننے کو تڑپتی رہی۔ مگر جب سب دروازے بند کر دیے گئے تو اس کا دل بھی ٹوٹ گیا۔ ماں کی سانسیں مدھم ہونے لگیں۔ رخصتی کے وقت لبوں پر بس ایک ہی فریاد تھی: "میری بیٹی بے قصور ہے… میری بیٹی بے قصور ہے۔" یوں ایک ماں کا دل، ایک بیٹی کی آواز اور ایک گھرانے کا سکون، سب ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ Eshaal honey PTI PTI Faisal Khan Shehr Bano Official

Salman Iqbal

68,421 görüntüleme • 10 ay önce