Загрузка видео...
Не удалось загрузить видео
یہ بندہ انڈین شہر موہالی میں نماز پڑھ رہا تھا اور اوپر سے اولے پڑھنے شروع ہوگئے۔ اس کو نماز جاری رکھنی چاہی تھی یا توڑ دینی چاہی تھی؟؟
284,216 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)
Комментарии: 10

بہتر تھا توڑ کے دوبارہ پڑتا یا مختصر کرتا شریعت میں یہی ہے لیکن یہاں سردار جی کردار بہت اچھا ہے کاش ہم سب کے رویے میں ایسی ہی برداشت اور احترام آ جائیں

نماز توڑنا تو بعد کی بات ہے وہ علماء بہتر بتا سکتے ہیں لیکن اس سردار نے دل جیت لیا ،انسانیت اسی چیز کا نام ہے ،سلام ہے سردار جی کو

نماز پڑھنے والے کی بات چھوڑو ، اس کی بات کرو جس نے اس کے اوپر چھتری کی

ہمیں اس میں دو باتیں قابل تعریف ہیں ایک مسلمان کا نماز نہ چھوڑنا اور دوسرا ایک غیر مسلم کا اس کا خیال رکھنا۔۔۔ اللہ دونوں کو اجر عظیم عطا فرمائے آمین

اللّٰہ پاک اپنی کتاب قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِى ٱلدِّينِ مِنۡ حَرَجٍۚ اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی۔ اور ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ وَلَا تُلۡقُواْ بِأَيۡدِيكُمۡ إِلَى ٱلتَّهۡلُكَۃ۔ اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ان دونوں آیات میں جو میسج دیا جا رہا ہے وہ بہت واضح ہے اور اس واضح پیغام کو سمجھنے کے بعد بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ آدمی اسلامی تعلیمات پر عمل کر رہا تھا تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

پہلے تو نماز غلط جگہ پر پڑھ رہا ہے اور دوسری بات یہ کہ اس صورت میں نماز توڑنی چاہیے

توڑ سکتا تھا،، نئیں تو مختصر کرسکتا تھا۔ بہرحال اللہ پاک قبول فرمائیں۔ اگر یہ چھتری والا بندہ ان کیساتھ نئیں تھا تو نماز کے بعد انہیں گرمجوشی کا مظاہرہ کرکے شکریہ ادا کرنا چاھیئے تھا اور پوری رسیپیکٹ دینی چاھیئے تھی۔ لیکن لگتا ھے وی بندہ ساتھ ہی تھا

نماز دوبارہ پڑھی جا سکتی ہے جان واپس نہیں آتی۔ اکثر لوگ بڑی شوخی سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ زلزلہ آیا پھر بھی نماز نہیں توڑی۔بھائی جان رہے گی تو عبادت کر سکو گے ناں۔

لوگوں سے آپ ایسے پوچھ رہے ہیں جیسے وہ مفتی ہیں 😀

توڑ دینی چاہیے تھی۔ کوئی اتنی سختی نہی اسلام میں ۔
