Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

یہ بندہ جیتنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایا تھا اس نے روتے ہوئے بتایا تھا اسے دھمکیاں مل رہی ہیں کہ اگر اس نے نون لیگ جوائن نہ کی تو اس کی جیت ہار میں بدل دی جائے گی میں نے PTI کو ویڈیو ٹیگ کی تھی لیکن...

112,646 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 просмотров • 9 месяцев назад

🚨🚨 بریکینگ نیوز : حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات, اندر کی کہانی بتادی.!!!!🔥🔥🛑🛑🛑 جب محسن نقوی آٹھ دس دن پہلے بیرسٹر گوہر کی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کیلئے ان کے گھر گئے تھے, تو وہاں پر بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی سے یہ بات کی کہ عمران خان کی طبیعت کافی خراب ہے, تو کم از کم انہیں ہاسپٹل شفٹ کیا جائے ۔ تو محسن نقوی نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے, ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے, آپ عدالت کا راستہ اختیار کریں, ۔ عدالت اگر حکم دیدے گی ۔ تو ہم اس پر عمل کرینگے ۔اور پھر اس کے بعد پی ٹی آئی نے عدالت میں پٹیشن دائر کی, اور اس پر عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ۔ اس پر محسن نقوی بیرسٹر گوہر سے پورے رابطے میں تھے ۔ اور جس رات عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لایا گیا تھا, تو اس رات بھی محسن نقوی کا بیرسٹر سے رابطہ تھا ۔اور بیرسٹر گوہر کو آٹھ بجے ہی یہ اطلاع دیدی گئی تھی, کہ عمران خان کو شفاء میں ہی لایا جا رہا ہے ۔ لیکن پھر اس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ہماری جو ریویو پٹیشن ہے ۔ اس میں ہم نے کہا ہے کہ عمران خان کو پرائیوٹ ہسپتال نہیں لے جایا جاسکتا ۔ انکو سرکاری ہسپتال میں لے جایا جائے ۔اور پھر شفاء کے باہر کچھ لوگ اکٹھے ہوگئے, جس کو بہانہ بنا کر وہ عمران خان کو پمز لے گئے ۔تو اس پر میرا خیال ہے کہ محسن نقوی کا نام اس لئے شامل نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ یہ سمجھتی ہے کہ محسن نقوی نے ہماری درخواست پر عمران خان کو جیل سے ہاسپٹل لانے کا جو عمل تھا ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ تو ہو سکتا ہے, آئیندہ بھی وہ رکاوٹ نہ ڈالیں تو اس لئے انکا نام توہین عدالت کی درخواست میں نہیں ڈالا گیا ۔ حامد میر 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

242,488 просмотров • 1 месяц назад

یہ میری آج سے 2 سال قبل کی ویڈیو ہے جب میں نے اس پراپیگنڈا بریگیڈ کو بے نقاب کیا تھا مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشنMSF کے نام پر انہوں نے ایسے نوجوانوں کو اپنے ساتھ وابستہ کیا جو کالج کی تعلیم مکمل کر چکے تھے انہیں باقاعدہ تربیت دی گئی اور پھر انہیں منظم انداز میں اس پراپیگنڈا بریگیڈ کا حصہ بنا لیا گیا ان کا دفتر ماڈل ٹاؤن میں قائم ہے اور یہ سارا عمل نہایت وسعت اور خطیر سرمائے کے ساتھ انجام دیا گیا لیکن جو نوجوان مسلم لیگ نون کا حامی تھا اس کی فکری حالت 2 سال پہلے بھی وہی تھی جو آج ہے ایک موقع پر میری اس سے گفتگو ہوئی میں نے سوال کیا اگر تم اس مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں شامل ہو کر باصلاحیت بن جاتے ہو تو کیا تمہیں یقین ہے کہ تمہیں اسی جماعت میں رہتے ہوئے وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم بنایا جائے گا اس نے جواب دیا بالکل بنایا جائے گا میں نے پھر کاؤنٹر سوال کیا کیا کیپٹن صفدر میں کوئی اہلیت نہیں تھی کہ انہیں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا گیا اس نے کہا اہلیت تھی اسی لیے تو انہیں کیپٹن بنایا گیا 😅 یہ تھا اس نوجوان کا جواب ایسے ہی نادر گوہر اس سوشل میڈیا بریگیڈ میں جمع کیے گئے اور آج بھی اربوں روپے اس پراپیگنڈا لشکر پر صرف کیے جا چکے ہیں جب سے پنجاب کی حکومت نون لیگ کے پاس آئی ہے اس منصوبے کو مزید توسیع دی گئی ہے عوام کا سرمایہ انہی افراد پر نچھاور کیا جا رہا ہے

Agha Sheikh Sarwar

22,704 просмотров • 7 месяцев назад

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 просмотров • 9 месяцев назад

میں ٹرمپ انتظامیہ کی ان کیمیرابریفنگ سے نکلا ہوں جہاں بند دروازوں کے پیچھے بھی وہی باتیں ہو رہی ہیں جو باہر ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ اپنے شوق کی جنگ میں پڑ تو گیا ہے لیکن آگے اس کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے۔ اسکا دعوی ہے کہ حملہ اسلئے کیاکہ ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا ۔ یہ جھوٹ ہے! اگر ایران ایٹمی طاقت حاصل کرنے جا رہا تھا تو پچھلے سال ٹرمپ نے یہ دعوی کیوں کیا کہ اس نے ایران کا ایٹمی پروگرام Obliterate کر دیا ہے؟ ٹرمپ نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اس نے امریکی قوم سے پرائی جنگوں میں نہ پڑنے کا وعدہ کیوں توڑا؟ ٹرمپ کہتا ہے کہ اس نے خامنائی کو قتل کر کے ایران کو آزاد کر دیا لیکن سی آئی اے کی رپورٹ ہے کہ خامنائی کے بعد ایران اور زیادہ radical ہو جائے گا۔اصل میں وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو 40سال سے ایران سے جنگ چاہتا تھا اور اسے چالیس سالوں میں ٹرمپ جیسا عقل سے پیدل صدر نہیں ملا تھا جو امریکہ کو پرائی جنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہو جائے۔ اب اسے ٹرمپ کی صورت میں مل گیا ہے۔ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس جنگ کی End Gameکیا ہو گی۔امریکی سینیٹر نے ٹرمپ کی آتما رول دی

Harmeet Singh

12,373 просмотров • 6 месяцев назад

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-
2:39

Sensitive content

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-

Amir H. Qureshi

56,451 просмотров • 12 дней назад

اذانیں تو دی جانی تھیں اور ہم سب تیار بھی تھے۔ لیکن گزشتہ رات تک ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا۔ ایک عالمِ دین نے بتایا کہ “مشن نور” ایک متنازعہ نام ہے۔ میں نے یہ بات فوراً پولیٹیکل کمیٹی میں شیئر کی جہاں صاحبزادہ حامد رضا صاحب اور دیگر ساتھیوں نے بھی اس کی تائید کی۔ صاحبزادہ صاحب نے بھی علماء کرام سے تصدیق کی اور ہم سب نے معلوم کیا۔ سب نے یہی کہا کہ اس کی کڑیاں قادیانیت سے ملتی ہیں۔ چونکہ اذان پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ صرف نام متنازعہ تھا، اس لیے ضروری تھا کہ نام تبدیل کیا جائے۔ وقت بہت کم تھا، اس لیے پارٹی کے آفیشل اعلامیے کا انتظار کیے بغیر میں نے فوری طور پر اس نام کو رکوا دیا۔ یہ میرا فرض تھا کہ کسی بھی متنازعہ چیز کو آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ الحمدللہ آج صبح ہم نے سینیٹر نوراُلحق قادری صاحب سے بات کی، پوری پارٹی لیڈرشپ سے مشاورت ہوئی اور سب نے اتفاق کیا کہ اس کا نام بدل کر “حکمِ اذان” رکھا جائے۔ صرف ایک دن نہیں بلکہ 20 سے 24 ستمبر تک، چار دن متواتر ہر جگہ بھرپور انداز میں اذانیں دی جائیں گی، کیونکہ پاکستان پر بہت بڑی آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ معاملہ بہتر انداز میں حل ہو گیا۔ نوراُلحق قادری صاحب، جو کہ عمران خان صاحب کے فوکل پرسن برائے مذہبی امور ہیں، نے اس حوالے سے باقاعدہ بیان جاری کر دیا ہے جو پارٹی کا آفیشل مؤقف ہے۔ اس سے پہلے پارٹی کی طرف سے کوئی اعلامیہ نہیں تھا، لیکن اب ہے کہ اذانیں “حکمِ اذان” کے نام سے دی جائیں گی۔ جہاں تک میری ذات پر پروپیگنڈے کا تعلق ہے، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے اذان پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ، میرا اعتراض صرف نام پر تھا، اور الحمدللہ یہ درست انداز میں حل ہو گیا ہے۔ جو میرا موقف صحیح سمجھ رہے تھی اُنکا شُکریہ جو غلط سمجھ رہے تھے اُمید ہے اُنکو اب اندازہ ہوگیا ہوگا۔ PTI salman akram raja Aleema Khanum

Haleem Adil Sheikh

105,523 просмотров • 1 год назад

عمران خان کے صحت کے حوالے سے جو رپورٹ آئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویشِ ہے اور ہماری تشویش تب ختم ہوگی جب عمران خان کو ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کے روبرو بہترین ہسپتال میں شفٹ کیا جائے گا۔ کل چونکہ کیس لگا ہوا ہے تو ہماری عدالت سے یہ التجا، درخواست اور ڈیمانڈ ہے کہ عمران خان کو انصاف دیا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں اور میرٹ پر۔ آپ کو یاد ہوگا جب نواز شریف جیل میں تھے اور بیمار تھے تو ہماری حکومت نے ان کو ہسپتال منتقل کیا، ان کو پوری سہولت دی۔ جتنی دیر وہ ہسپتال میں رہے، ہم نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ پھر اس کے بعد ان کا جو پلیٹ لیٹس کا مسئلہ آیا تو ایک رپورٹ آئی، آپ کو پتا ہے اس کی کیا پوزیشن تھی، لیکن اس کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفارش پر، جو خود اس وقت بیمار اور جیل میں ہیں اور کینسر سے سروائیور ہیں، ان کی رپورٹ پر حکومت نے فیصلہ کیا کہ اگر عدالت فیصلہ کرتی ہے تو حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس وقت تو بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ تو یہ ہے کہ عمران خان کے جتنے بھی کیسز ہیں، ان میں انصاف کیا جائے۔

Asad Qaiser

12,344 просмотров • 1 месяц назад

سپریم کورٹ کا بڑا اور اہم فیصلہ، عمران خان کو ریلیف؟؟؟ یہ ریلیف دیر سے ملا تو کیوں ملا؟؟ سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ عمران خان کو دو روز میں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔۔ پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کی جائے گی ناں ہی وہاں سیاسی بیان بازی ہو گی، سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اگر خلاف ورزی ہوئی تو دی گئی سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔ عدالت نے حکم نامے میں یہ ذکر نہیں کیا کہ عمران خان کو آخر کب تک اسپتال میں رکھا جانا ہے۔ یعنی معاملہ حکومت اور ڈاکٹرز کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے۔ کیا اب عمران خان کا اسپتال میں قیام ان کی جماعت کے کنڈکٹ پر ہو گا۔ عمران خان کی فیملی اب اس بات پر راضی ہے کہ عدالت کے باہر کسی قسم کی سیاسی بیان بازی نہیں ہو گی۔ فیملی نے یہ بات ماننی ہی تھی تو پہلے کیوں نہیں مانی اور اب کیوں مانی۔ پس پردہ کیا چل رہا ہے۔ کیا پی ٹی آئی 18 ویں ترمیم اور صوبوں کے معاملے پر مقتدرہ کے صفحے پر ہے؟ آج پاکستان پیپلز پارٹی اور قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی ملاقات کیوں نہیں ہو سکی؟ #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

12,420 просмотров • 1 месяц назад

بیرسٹر سیف کو نورین آپا کیساتھ عمران خان سے ملاقات کے لیے بیجھنے پر اسٹبلشمنٹ کا اصرار کیوں ؟ جب عاصم منیر پہلی دفعہ 2023 میں امریکہ آیا تو PTI USA احتجاج کرنا چاہتی تھی اور اس سلسلے میں فلائیرز بھی نکال دیے ان دنوں عمران خان کے وکلاء کی ملاقات معمول کا حصہ تھی ملاقات کے لیے جن وکلاء کو جانا تھا ان میں مینول سے ہٹ کر شیر افضل مروت کا نام بھی ڈال دیا گیا شیر افضل مروت نے عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر نکل کر میڈیا میں اعلان کیا کہ عمران خان نے PTI USA کو احتجاج سے منع کیا ہے اور عمران خان نے کہا ہے عاصم منیر کی امریکہ آمد پر کسی قسم کا احتجاج نہ کیا جاۓ PTI USA نے یہ احتجاج کینسل کر دیا کیونکہ عمر ایوب نے بھی ہمیں اس احتجاج سے منع کر دیا تھا اگلی ملاقات پر ایک نامور وکیل سے خان صاحب نے پوچھا امریکہ میں عاصم منیر کے دورے پر کمیونٹی کا رسپانس کیسا تھا تو اس وکیل نے بتایا کہ احتجاج کے لیے تو آپ نے شیر افضل مروت کے زریعے نے منع کیا تھا جس پر عمران خان نے شدید سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوۓ کہا کہ میں نے تو بالکل منع نہیں کیا تھا اس وکیل کے کہنے پر میں نے ٹویٹ کیا کہ عمران خان نے PTI امریکہ کو احتجاج سے بالکل منع نہیں کیا تھا اور یہ شیر افضل مروت نے جرنیلوں کی ایماء پر ساری سازش رچائی میں نے اس وکیل سے پوچھا اگر شیر افضل مروت اصرار کرے کہ مجھے عمران خان نے ہی کہا تھا تو میرے پاس اس کا کیا جواب ہو گا اس وکیل نے مجھے یقین دلایا کہ وہ پریس کانفرس کر کے بتاۓ گا کہ شیر افضل مروت جھوٹ بول رہا ہے بہر حال اس ٹویٹ پر شیر افضل مروت نے کافی اوٹ پٹنگ باتیں کیں لیکن کبھی یہ نہ کہا کہ مجھے عمران خان نے احتجاج نہ کرنے کی ہدایات دی تھیں جب عمر ایوب صاحب سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی یہیں بتایا کہ میں نے شیر افضل مروت کی عمران خان سے ملاقات کے بعد کی گفتگو کو مدنظر رکھتے ہوے احتجاج سے منع کیا تھا شیر افضل مروت سچ بول رہا تھا یا جھوٹ اس کے لیے معید پیرزادہ کا شیر افضل مروت کیساتھ دو سال پرانا انٹرویو جس میں معید پیرزادہ اس احتجاج پر سوال کر رہے ہیں آپ خود سنیں اور اندازہ لگائیں جرنیلوں نے کیسے شیر افضل مروت کو عمران خان سے ملاقات کروا کر اپنے مقاصد حاصل کیے

Waqar khan

22,774 просмотров • 2 месяцев назад