Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

یہ جو اپ نے اپ کو پھنے کا سمجھتے ہیں میری بات غور سے سنیں

25,646 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ ہمیں ڈرا سکتے ہیں آپ ہمیں ننگا کر سکتے ہیں آپ ہمیں مار سکتے ہیں آپ جو کرنا چاہتا ہیں کر سکتے ہیں لیکن ہمارے دلوں سے عمران خان نہیں نکال سکتے نہ ہی جھکا سکتے ہیں۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان ورکر کمزور ہیں یہ ورکر اپ کے مقابلے میں نہیں لیکن جو نفرت ہمارے سینوں میں اپ کے لیے ہیں میں یہ میرے پاس آپ کی امانت ہے میرے پاس اپ کی امانت ہے میرے پاس اگر میں انتہائی کمزور ہوا تو میں اپنے بچوں کو یہ اپ کی نفرت ہے یہ میں وراثت میں دے دوں گا مجھے میں اپ سے وعدہ کرتا ہوں یہ اپ نے جو اس ملک کے ساتھ کیا جمہوریت کے ساتھ کیا اس کا اپ کو جواب دینا ہوگا۔ صوبائی صدر جنید اکبر خان حکومت کی مجبوریاں کا مجھے نہیں پتہ لیکن میں ہر اس شخص کو جس نے 9 مئی کے بعد میرے ورکر کو رلایا میں اس کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالی مجھے وہ اختیار دے ایک ایک شخص کو نہیں بھولا چاہے شانگلہ، دیر، ملاکنڈ جہاں بھی ہوں، کسی غلط فہمی میں نہ رہے اچھی بات بھول جاتا ہوں لیکن بری چیز کبھی نہیں بھولتا۔ 10 سال گزارے 20 سال گزارے میرا اپ سے وعدہ ہے کہ جو بھی جس پوزیشن پہ ہے جب بھی میرے اختیار میں کچھ ایا میں اپ کو نشان عبرت بناؤں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔ خدا کی قسم ایک ایک چیز یاد ہے تکلیف میں ہوں جب یہ دیکھتا ہوں کہ میری حکومت میں آپ آرام سے ہے میں آپ کو رونا دیکھنا چاہتا ہوں۔ انشاءاللہ مثال بناو گا آپ کو۔ :صوبائی صدر جنید اکبر خان

Junaid Akbar

72,971 Aufrufe • vor 1 Jahr

عمران خان صاحب، اپ کا اج انتہائی مشکور ہوں کہ اپ کو احساس ہوا اور اپ نے مان لیا کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات بلکل ختم ہو چکے ہیں۔ معزرت سے، لیکن اج اس معاشرے میں جتنا بھی اخلاقیات کا فقدان ہے، اس میں سب سے بڑا کردار اپ کا ہے۔ اپ کی حقیقی ازادی کی تربیت نے اپ کے پیروکاروں کو ایسے ازاد کر دیا کہ شرم، حیا، تہذیب، تمیز سب کچھ مٹی میں مل گئے۔ گالم گلوچ، بہتان تراشی، کردار کشی، جھوٹ، جس کے منہ پر جو ایا سامنے والے کو کہہ ڈالا اور کوئی افسوس نہیں۔ بلکہ فخر سے کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی ہمیں خان صاحب نے تربیت دی۔ نوجوانوں کے ذہن اپ نے نفرت سے بھر دیے ہیں۔ وہ کسی رشتے کے اخلاقی طور پر پابند نہیں رہے۔ اپنوں سے الجھ پڑے ہیں، ریاست سے الجھ پڑے ہیں، صرف اپ کی سیاست کی خاطر۔ اپ کی اپنی پارٹی میں بھی کچھ ایسا ہی معیار تھا اپ کے قریب ہونے کے لئے اور اپ کا دل جیتنے کے لئے۔ جو جتنا منہ پھٹ اور بد تمیزی اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتا تھا، جو اوروں کو بےعزت کرنے، ان کی تذلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور خود بھی اپنی عزت کی پرواہ نہیں کرتا تھا، وہ ہی اپ کو سب سے قبول ہوتا تھا، اپ کا فیوریٹ ہوتا تھا۔ وہ ہی اپ کے تھنک ٹینک اور کچن کیبینٹ کا حصہ ہوتا تھا۔ اسی کو ہی عہدوں اور منصبوں سے نوازا جاتا تھا۔ کیا ریاست مدینہ طرظ کی ریاست کی بنیاد ایسے کردار رکھ سکتے تھے؟ اپ نے سب سے زیادہ ظلم ان نوجوانوں کے والدین سے کیا جو اپ کے عشق میں ہر حد پار کرنے کو تیار ہوۓ۔ یہ وہ ہیں جو اج اپنے ماں باپ کو بھی نہیں بخشتے اور ان کے کسی کام کے نہ رہے۔ گالم گلوچ اور جھگڑے کے سوا کوئی فن ان کے پاس نہ رہا۔ پڑھائی لکھائی کے باوجود بھی جہالت کا شکار ہوۓ۔ حقیقی ازادی کی اس جدوجہد میں ازادی اور بےحیائی کے درمیان فرق کرنا انہیں نہیں اتا۔ بدتمیزی کو ازادی اظہار راۓ تصور کرتے ہیں اور اس کو ہر طریقہ سے جائز قرار دیتے ہیں۔ انسانیت، شریعت، اخلاقیات، ائین اور قانون کسی چیز کے پابند نہ رہے۔ اپنا شعور کھو بیٹھے۔ اپ کی اواز کے سوا کچھ اور سنائی نہیں دیتی انہیں اور وہی کرتے ہیں جو اپ ان سے کرنے کو کہتے ہیں۔ جو اپ میں دیکھتے ہیں وہی کرتے ہیں، اور کچھ نظر نہیں اتا انہیں۔ اپنے سوچنے سمجھنے کی تمام تر صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ اج جو جیلوں میں بند ہیں، اپ نے تو ان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا لیکن ان کے مستقبل تباہ و برباد ہو گئے۔ جن خاندانوں کے یہ سہارا تھے وہ اب ساری عمر ہاتھ ملتے رہیں گے اور اپ کو بددعائیں دیں گے۔ ضلہ شاہ جیسے دیوانے اپنی جانیں کھو گئے اپ کی اس تحریک انتشار میں اور اپ ان کے گھر تک پوچھنے کے لئے نہ گئے۔ پاکستان کی ایک پوری نسل کی تباہی کے ذمہدار ہیں اپ۔ اپ نے ایسا سبق دیا کہ پوری قوم اپنا کردار کھو بیٹھی۔ کسی اور کی اولاد ہیں، اس لئے اپ نے پرواہ نہیں کی۔ سیرت النبی (ﷺ) کے بارے میں پڑھنے کی سب سے پہلے اپ کو ضرورت ہے۔ اللہ کے نبی (ﷺ) اخلاقیات کے بارے میں کیا درس دیتے ہیں، اپ (ﷺ) اس پر کتنا زور دیتے تھے، اپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پھر قوم سے معافی مانگ کر اپنی زبان سے ان نوجوانوں کو اس کا درس دیں تو شائد وہ سدھر جائیں ورنہ اس نقصان کا ازالہ القادر ٹرسٹ تو کیا، کوئی بھی نہیں کر سکتا!

Dr. Hisham Inam Marwat

135,142 Aufrufe • vor 3 Jahren